Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / انکم ٹیکس ڈھانچے میں بھی بدلاؤ کا امکان

انکم ٹیکس ڈھانچے میں بھی بدلاؤ کا امکان

صفائی، پانی اور بجلی تک کیلئے رقمی ادائیگی کے باوجود مختلف ٹیکسوں کے بوجھ سے عوام پریشان
حیدرآباد ۔ 9 ڈسمبر (ایجنسیز) ایک اطلاع کے مطابق مرکزی حکومت اب انکم ٹیکس کے ڈھانچے کو بدلنے جارہی ہے۔ کہا گیا ہیکہ جی ایس ٹی کے بعد اب انکم ٹیکس کے ڈھانچے میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے ایک ٹاسک فورس بھی بنادی گئی ہے اور دیگر ملکوں کے انکم ٹیکس قواعد و ضوابط کو بھی دیکھا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں چھ مہینے میں رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے۔ جہاں تک بدلاؤ کا سوال ہے، تو اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ بدلاؤ، زندگی کا ایک لازمی عمل ہے اور وہ ہر شعبہ میں آتا ہے۔ وقت کے مطابق انتظامیہ میں بھی بدلاؤ ہوا ہے اور آج کے جو انتظامات دنیا بھر کے ملکوں میں لاگو ہیں ان کے پیچھے پرانے کردار و عمل کی ایک بہت بڑی تاریخ بھی ہے۔ پہلے زمانے میں راجا وغیرہ بھی کسانوں سے ان کی فصل کا ایک حصہ اپنی فوج کیلئے لیا کرتے تھے، اسی طرح تاجرین سے پیسہ وصول کرنے کی بھی پرانی روایت ہے۔ ریاست کے تحفظ کیلئے عوام سے وصول کردہ پیسوں سے ہی انتظام کیا جاتا تھا۔ آج ملک کے ہر مقام پر پنچایت سے لیکر بڑے بلدیات ہیں جو اپنے حدود میں رہنے والوں سے مختلف طرح کے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ عام آدمی پر آج ٹیکسوں کا بہت بڑا بوجھ ہے۔ آج کسی بھی شہر میں رہنے والے افراد پر انکم ٹیکس سے لیکر مقامی ٹیکسوں کا بوجھ ہے، جن میں انہیں صفائی سے لیکر بجلی اور پانی کیلئے بھی پیسے چکانے پڑتے ہیں۔ ملک میں کوئی بھی ایسی صنعت یا تجارت نہیں ہے جس پر ٹیکس نہ ہو، اس کے ساتھ ہی ان کے مختلف اشیاء پر بھی ٹیکس لگادیئے گئے ہیں لیکن جو ٹیکس سب سے زیادہ لوگوں کو متاثر اور پریشان کرنے والا ہے وہ انکم ٹیکس ہے، حقیقی روپ سے دیکھا جائے تو انکم ٹیکس لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہیکہ جب کوئی شخص اپنی محنت سے کمائی کرتا ہے تو حکومت کو اس میں حصہ داری بننے کا آخر کیا اختیار ہے؟ جب حکومت کسی شخص سے شہر میں رہنے کے نام پر ہر طرح کا ٹیکس وصول کرتی ہے تو پھر انکم ٹیکس کی وصولی کیوں؟ آخر حکومت کسی شخص کو کمانے میں اپنی طرف سے کونسا مدد دیتی ہے جو اس سے انکم ٹیکس وصول کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT