Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / انگریزوں کیخلاف لڑائی میں میسور کے حکمراں ٹیپوسلطان کی عظیم قربانی:صدرجمہوریہ ہند

انگریزوں کیخلاف لڑائی میں میسور کے حکمراں ٹیپوسلطان کی عظیم قربانی:صدرجمہوریہ ہند

 

بنگالورو25اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ رام ناتھ کوئند نے ارکان مقننہ پر زور دیا کہ وہ بامعنی جمہوریت کو حقیقت کی طرف لے جانے کے لئے شائستہ معیار برقرار رکھیں۔انہوں نے سکریٹریٹ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر کرناٹک کے مقننہ کے مشترکہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے یاد دہانی کروائی کہ مقننہ مباحث ‘ شائستگی اور فیصلہ کرنے کا مقام ہے اور اسی کے ذریعہ ہم جمہوریت کو بامعنی حقیقت میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ریاست سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے لیڈروں نے جو میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب کی مخالفت کررہے ہیں۔تاہم صدرجمہوریہ نے اپنی تقریر میں دیگر حکمرانوں کی شجاعت کا تذکرہ کرتے ہوئے انگریزوں سے لڑتے ہوئے ٹیپو سلطان کی عظیم قربانی کی بھی نشاندہی کی۔ ا نہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان ترقی اور میسور کی راکٹ کے استعمال کے موجد تھے ۔انہو ں نے کہا کہ ٹیپو سلطان کی اس ٹکنالوجی کو یوروپی قوم نے اختیار کیا ۔ انہوں نے سائنس ‘ ٹکنالوجی ‘ آرٹ اور ثقافت میں ریاست کے کارناموں کی ستائش کی۔ صدرجمہوریہ رام ناتھ کوئند نے میسور کے سابق حکمران ٹیپو سلطان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں سے لڑتے ہوئے انہوں نے ہیرو جیسی موت پائی۔ صدرجمہوریہ کا یہ بیان چند دن پہلے ٹیپو سلطان سے متعلق تنازعہ کے اٹھنے کے بعد سامنے آیا ہے کیو ں کہ کرناٹک کی حکومت نے 10نومبر کو ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب منانے کامنصوبہ تیار کیا ہے ۔کرناٹک قانون ساز اسمبلی او رکونسل نے سکریٹریٹ کے 60سال کی تکمیل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ انگریزوں سے لڑتے ہوئے ٹیپو سلطان نے ہیرو کی طرح موت پائی۔ وہ جنگی راکٹ کے میسور میں استعمال میں ماہر تھے ۔صدرجمہوریہ نے کہا کہ کرناٹک کے عوام کے خواہشات کی اجتماعی طور پر نمائندگی یہ دونوں ایوان کرتے ہیں۔اسی دوران بی جے پی کے لیڈروں نے ان تقاریب کے دعوت نامے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک شرمناک تقریب قرار دیا۔ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے ٹیپو سلطان کی جینتی کی تقریب میں انہیں مدعو کرنے پر حکومت پر نکتیہ چینی کی اور کہا کہ انہیں اس تقریب کے لئے مدعو نہ کیا جائے ۔

صدرجمہوریہ کی جانب سے ٹیپو سلطان کی ستائش ، بی جے پی چراغ پا
بنگالورو ۔ 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران صدرجمہوریہ رامناتھ کووند کی جانب سے 18 ویں صدی کے میسور کے حکمراں ٹیپوسلطان کی ستائش پر اس ریاست میں حکمراں کانگریس اور اپوزیشن بی جے پی کے درمیان بڑے پیمانے پر سیاسی الزامات کا تبادلہ عمل میں آیا اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 10 نومبر کو میسور کے حکمراں کی یوم پیدائش تقاریب منانے کیاعلان پر پیدا شدہ تنازعہ کے درمیان یہ نئی سیاسی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اپوزیشن بی جے پی نے ٹیپوسلطان کو مذہبی متعصب پرست اور بے رحم قاتل قرار دیتے ہوئے انہیں خراج عقیدت کی پیشکشی کی مخالفت کی تھی۔ تاہم صدرجمہوریہ رامناتھ آج مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کرناٹک کو بہادر سپاہیوں کی سرزمین قرار دیا اور کہا کہ ’’ٹیپو نے برطانوی سامراج کے خلاف لڑتے ہوئے ایک بہادر ہیرو کی وفات پائی۔ وہ (ٹیپو) ترقی کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے اور سب سے پہلے انہوں (ٹیپو) نے ہی میسور جنگ میں راکٹوں کا استعمال کیا تھا‘‘۔ صدر کووند نے بشمول سری کرشنا دیورایا کرناٹک کی مختلف تاریخی شخصیات کے ساتھ ٹیپوسلطان کے کارناموں کا حوالہ دیا۔ کرناٹک مقننہ کی ڈائمنڈ جوبلی تقریب میں صدر کووند کے اس خطاب کا حکمراں کانگریس کے ارکان نے میزیں تھپتھپا کر خیرمقدم کیا۔ سابق ریاست میسور کے حکمراں ٹیپوسلطان، برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے کٹر دشمن تسلیم کئے جاتے ہیں جو 1799ء میں سری رنگاپٹنم میں اپنے قلعہ کی دفاع کیلئے برطانوی فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔ اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا نے آج کے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر صدرجمہوریہ کے عہدہ کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ان کے خطاب میں ٹیپوسلطان کے نام کا حوالہ شامل کرنے کا الزام عائد کیا۔ ایشورپا نے کہا کہ صدر کی جانب سے ٹیپوسلطان کے حوالہ پر ہم اگر اعتراض کرتے تو اس سے پروٹوکول کی خلاف ورزی ہوسکتی تھی‘‘۔ تاہم پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگذار صدر دنیش گنڈو راؤ نے بی جے پی قائدین کے الزامات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو شرم آنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں (اپوزیشن لیڈر) نے یہ کہنے کی کوشش کرتے ہوئے کہ صدر ہند نے محض کسی کی لکھی ہوئی تقریر پڑھی ہے وہ (بی جے پی) صدارتی منصب اور صدرجمہوریہ کی توہین کررہے ہیں‘‘۔ چیف منسٹر سدارامیا نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’عزت مآب صدرجمہوریہ شری رامناتھ کووند کو کرناٹک مقننہ سے ان کے مدبرانہ خطاب پر مبارکباد‘‘۔

TOPPOPULARRECENT