Friday , January 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / انیسویں صدی کی عظیم شخصیت حضرت بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ

انیسویں صدی کی عظیم شخصیت حضرت بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ

ولادت : چار /ربیع الثانی بارہ سو چونسٹھ ہجری وصال: ہلالِ جمادی الثانی تیرہ سو چھتیس ہجری

ولادت : چار /ربیع الثانی بارہ سو چونسٹھ ہجری
وصال: ہلالِ جمادی الثانی تیرہ سو چھتیس ہجری
انیسویں صدی کی عظیم شخصیت ‘ علوم اسلامیہ کے ناشر و ترجمان ‘ عقیدۂ اہل سنت کے پاسبان ‘ سماجی و دینی اصلاحات کے محرک و مجدد اور جامعہ نظامیہ جیسی شہرہ آفاق اسلامی یونیورسٹی کے بانی شیخ الاسلام عارف باللہ الامام الحافظ محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمہ کے وصال کو سال رواں ۱۴۳۶ ھ میں ایک صدی کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے ۔
شیخ الاسلام بانی جامعہ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے عظیم اسلامی قائد‘عاشق رسول ﷺ اور غیر معمولی جلالت شان رکھنے والی علمی‘ سماجی و روحانی شخصیت تھے ۔ آپ ریاست حیدرآباد کے آخری دو حکمرانوں آصفجاہ سادس اور آصفجاہ سابع کے استاذ و اتالیق رہے ۔ آصف جاہ سابع نے آپ کو ۱۲؍مئی ۱۹۱۲ ء میں ’’صدر الصدور‘‘ اور ۱۳؍ اپریل ۱۹۱۴ ء کو ’’معین المہام‘‘ (وزیر امور مذہبی و اوقاف ) کے جلیل القدر عہدوں پر فائز کیا ۔ آپ نے ان عہدوں پر فائز رہ کر ملت اسلامیہ کی ناقابل فراموش خدمت کی ۔ ملت کی بے شمار خرابیوں کا ازالہ کیا ‘ سماجی و معاشرتی امور میں اصلاحات انجام دیں‘ سجادگانِ درگاہ کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا نیز شرعی خدمات انجام دینے والوں کے لیے ایک باقاعدہ نصاب مدون کروایا ، جس کی تکمیل اور صداقت نامہ کامیابی کے حصول کے بعد ائمہ ، خطباء ، قضاۃ کو ان کے عہدوں پر برقراری کا حکم جاری کیا جاتا ۔ اس طرح خدمات شرعیہ پر مامور حضرات میں جو خرابیاں آگئیں تھیں ان کا ازالہ ہوا ۔ اس عہد کے دینی مدارس کو مستحکم کیا‘ سرکار عالی سے انہیں امداد جاری کروائی ۔
ان تمام خدمات کے ساتھ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ۔ علمی ‘ فنی ‘ تحقیقی و استدلالی انداز میں درجنوں کتابیں لکھیں جن میں حق کو ظاہر و ثابت کیا اور باطل کا ابطال فرمایا۔

قادیانیت کے آغاز و ابتداء کے وقت ہی اس فتنہ کی سنگینی کا انداز کرلیا اور قادیانیت کے رد میں کتاب’’افادۃ الافھام ‘‘ تصنیف فرمائی۔ افادۃ الافہام کی بڑے سائز کی دو جلدیں ہیں۔ پہلی جلد ۳۷۶ صفحات اور دوسری جلد ۳۶۰ صفحات پر مشتمل ہیں۔ {جس کا رسم ِ اجراء اسی پیر کو دارالتفسیر جامعہ نظامیہ میں ہوا ہے} رد قادیانیت پر کام کرنے والے حضرات دونوں جلدوں کے صرف انڈکس ہی پڑھ لیں تو بھڑک اٹھیں گے کہ شاید ہی مرزائیت کا پھیلایا ہوا کوئی ایسا ’’وہم‘‘ ہو جس کا اس کتاب میں جواب موجود نہ ہو۔ مرزا قادیانی کے اوہام باطلہ کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ مرزا قادیانی کو اس کی اپنی تحریروں کی زنجیر میں جکڑا گیا ہے۔ تحریر میں کہیں تلخی نام کی کوئی چیز آپ کو نہ ملے گی۔ دلائل گرم، الفاظ نرم کا حسین و جمیل مرقع ہے۔ اللہ رب العزت کی کروڑوں رحمتیں ہوں مصنف رحمہ اللہ پر جنہوں نے مرزا قادیانی کو چاروں شانوں چت کیا ہے۔ مصنف رحمہ اللہ جہاندیدہ عالم دین، دینی، دنیوی علوم کے حامل تھے۔ مرزا قادیانی کی ترید میں قدرت کا عطیہ تھے۔ کتاب کو لکھے ایک صدی بیتی ہے اس کے بعد اس عنوان پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔ مگر یہ حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے۔

گیارہ حصوں پر مشتمل ’’مقاصد الاسلام‘‘ جیسی شہرہ آفاق کتاب تحریر فرمائی جو بے حساب صفحات پر محیط ہے ۔ جس میں آپؒ نے مسلمانوں کو درپیش تمام مسائل پر بحث فرمائی اور اپنے خصوصی انداز استدلال کے ذریعہ حکمت و معرفت کا خزانہ یکجا فرمایا ۔ مدینہ منورہ قیام کے دوران ’’انوار احمدی‘‘ کی تالیف فرمائی جو خاتم الانبیاء سید المرسلین ﷺ سے آپ کے عشق صادق کی آئینہ دار ہے ۔ اس کتاب میں آپ نے عظمت نبوی و معرفت مقام رسالت کو اس قدر منفرد اسلوب میں تحریر فرمایا کہ قاری کے دل میں محبت و عقیدت کے جذبات از خود موجزن ہوجاتے ہیں ۔ حضرت شیخ الاسلامؒ نے جب محسوس کیا کہ غیر مقلد حضرات کا علمی محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے نیز تدوین فقہ کے سلسلہ میں فقہاء کی کدوکاوش سے علماء و عوام کو واقف کروانا ضروری ہے تو آپ نے دو حصوں پر مشتمل ’’حقیقتہ الفقہ‘‘ تالیف فرمائی جو علم و فن کا شہکار سمجھی جاتی ہے۔

حضرت بانیٔ جامعہ علیہ الرحمہ نے ۱۳۰۸ ھ میں دائرۃ المعارف جیسا شہرۂ آفاق تحقیقی و علمی ادارہ قائم کیا‘ جس نے ۸۰۰ ہجری سے پہلے کے مخطوطات کو تصحیح و تعلیق کے بعد شائع کر کے عرب و عجم پر احسان کیا اور ہندوستانی علماء کے علم و فضل اور درجۂ کمال سے عالم عرب کو متعارف کروایا ۔ دائرۃ المعارف کی تاریخ قیام سے تاحال علماء جامعہ نظامیہ تصحیح و تعلیق کے کام انجام دے رہے ہیں اور اب تک اس ادارہ سے ۱۶۰سے زائد ایسے نادر و نایاب مخطوطات کی اشاعت عمل میں آئی جو عالم عرب اور دنیا بھر میں اپنی نظیر آپ تھے ۔
حضرت بانیٔ جامعہ علیہ الرحمہ نے دار العلوم معینیہ عثمانیہ اجمیر شریف ‘ مدرسہ حفاظ مکہ مسجد ‘ مدرسہ حفاظ خلدآباد شریف ‘ مدرسہ دینیہ مسجد چوک حیدرآباد ‘ مدرسہ دینیہ مسجد میاں مشک رحمۃ اللہ علیہ حیدرآباد ‘ مدرسہ دینیہ افضل گنج حیدرآباد ‘ مدرسہ صوفیہ محمد آباد بیدر اور کئی دینی ادارے قائم کئے ۔
حضرت بانیٔ جامعہ علیہ الرحمہ ۱۳۰۸ ھ میںکتب خانہ آصفیہ جیسی عظیم لائبریری کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ اسلامی کتب کی نشر و اشاعت کے لئے ۱۳۳۰ھ میں ’’مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ‘‘ کی داغ بیل ڈالی ۔ جس نے تا حال سینکڑوں علمی ‘ فنی اور درسی کتب کو تصحیح و تعلیق کے بعد شائع کیا۔ علماء و مشائخ کی علمی و تربیتی سرپرستی فرماتے رہے، اور ان کے دینی مقاصد کی تکمیل اور علمی سرگرمیوں کو جاری و باقی رکھنے کے لئے مالی اعانتیں اور عطایا جاری فرماکر حسب الحکم کتابیں تصنیف کروائیں۔

حضرت بانیٔ جامعہ علیہ الرحمہ جامعہ نظامیہ میں ایسے منفرد کتب خانہ کی بنیادی ڈالی جس میں اسلامیات اور مختلف علوم وفنون کی ایک لاکھ سے زائد نادر و نایاب کتابوں کو یکجا کیا ‘ مخطوطات کا ایسا ذخیرہ اکٹھا کیا جو علمی دنیا میں اپنی نظیر آپ ہے ۔ ہندوستان بھر میں دینی مدارس کو قائم کیا اور سلطنت آصفجاہی سے امداد جاری کروائی ۔ حضرت شیخ الاسلام نے عہد آصفجاہی میں نظام قضاء ت کی بنیاد ڈالی‘ جو اپنی خصوصیات کے سبب ملک بھر میں بے نظیر سمجھا جاتا ہے ۔ اس نظام کو ملک کی مختلف ریاستوںکے وقف بورڈس نے بطور ماڈل قبول کیا ۔

شیخ الاسلام کے چند تلامذہ کے اسماء
نواب میر محبوب علی خاں آصف جاہ سادس‘ نواب میر عثمان علی خاص آصف جاہ سابع ‘ میر حمایت علی خان اعظم جاہ ولی عہد، نواب شجاعت علی خان معظم جاہ، مولانا محمد مظفر الدین معلیٰ سابق مددگار ناظم ٹپہ، مولانا سید کریم اللہ قادری سابق مددگار ناظم نظم جمعیت، مولانا قاضی محمد شریف الدین استاذ شہزادگان، مولانا سیدمحمد ابراہیم استاذ نواب صلابت جاہ و نواب بسالت جاہ، مولانا خواجہ محمد مخدوم میاں، مولانا امیر الدین حسین پونیری سابق مہتمم مدرسہ نظامیہ، مولانا غلام احمد، مولانا مرزا عبدالرحیم بیگ، مولانا محمد عبدالرحیم وکیل مختار عام پالونچہ، مولانا حسن علی، حضرت مولانا مفتی محمد رکن الدین ؒ (مفتی اول جامعہ نظامیہ و صاحب فتاویٰ نظامیہ )، حضرت سید شاہ حسین خیرؒ (سجادہ نشین روضہ بزرگ گلبرگہ شریف )‘ حضرت صوفی سید احمد علی قادریؒ صاحب رسالۂ نصاب زکوۃ ‘ حضرت سید ابراہیم رضوی ادیب ؒ( صاحب لامیۃالدکن و شارح لامیۃ العرب) ‘ محدث دکن حضرت مولانا سید عبد اللہ شاہ نقشبندی ؒ(صاحب زجاجۃ المصابیح) ‘حضرت مفتی سید محمود کان اللہ لہ سابق خطیب مکہ مسجد‘ حضرت صلاح بن شمشیر جنگؒ‘ مولانا قاضی میر انور علی ‘ شریعت پناہ بلدہ‘ حضرت مولانا سید غوث الدین قادریؒ سابق شیخ الفقہ ومؤلف مرجع غیب‘ مولانا محمد عبد الجبار خان آصفیؒ منتظم دفتر معتمدی صرف خاص مبارک ومترجم خصائص کبری‘ مولانا حکیم محمود صمدانی ؒ سابق مہتمم صدر شفاخانہ‘ مصنف معیار الحدیث۔

TOPPOPULARRECENT