Saturday , November 18 2017
Home / Health / ان ’صحت مند‘ غذاؤں سے دوری ہی بہتر

ان ’صحت مند‘ غذاؤں سے دوری ہی بہتر

ڈائیٹ سافٹ ڈرنکس
اگر تو آپ میٹھے مشروبات کا استعمال ترک کرکے ڈائیٹ ڈرنکس کا انتخاب کرتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ چینی نہیں ہوتی، تو یہ صحیح ہے کہ کم چینی فائدہ مند ہے مگر ان مشروبات میں مصنوعی مٹھاس اور دیگر اجزا ہوتے ہیں جو کہ پیٹ کے گرد جمع ہونے کا باعث بنتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ توند نکلنے کا باعث بنتے ہیں۔
ناریل کا پانی
ناریل کا پانی بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور بظاہر اس میں کوئی برائی بھی نہیں، مگر یہ اس میں کسی جوس سے کم چینی نہیں ہوتی بلکہ اکثر اس میں 4 چائے کے چمچ چینی کو میٹھا کرنے کے ڈال دیا جاتا ہے اور چینی کتنی نقصان دہ ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
بادام کا دودھ
آج کل بازار میں بادام کا دودھ کافی عام ملتا ہے اور لوگ اسے صحت مند سمجھ پر پیتے ہیں، دودھ کی خاص بات اس میں شامل پروٹین اور کیلشیئم ہوتے ہیں، جبکہ باداموں کے اس دودھ میں اکثر حقیقی بادام تو ہوتے نہیں جبکہ ان میں پروٹین اور کیلشیئم کی شرح بھی کافی کم ہوتی ہے۔ اکثر کمپنیاں اس دودھ میں چینی کا اضافہ کردیتی ہیں تاکہ اس کا ذائقہ بہتر بنایا جاسکے۔
ناشتے میں بسکٹ
اگر تو آپ ناشتے میں بسکٹس کا استعمال کرتے ہیں تو ان میں پروٹین کی شرح تو 4 گرام یا اس سے کم ہوتی ہے مگر چینی 10 گرام تک ہوسکتی ہے، چونکہ ان کا سائز بھی چھوٹا ہوتا ہے لہذا ایک کھانے سے کچھ بھلا نہیں ہوتا اور زیادہ کھا کر ہی اطمینان ہوتا ہے، اور اتنی مٹھاس سے دن کا آغاز میٹابولزم اور بلڈ شوگر کے لیے کچھ اچھا ثابت نہیں ہوتا۔
انسٹنٹ نوڈلز
کچھ افراد انسٹنٹ نوڈلز کو صحت مند آپشنز تصور کرتے ہیں، جن میں نہ صرف ایم ایس جی ہوتا ہے بلکہ یہ اکثر 20 گرام سے زیادہ فیٹ اور پراسیس کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور ہوتے ہیں جو صحت کے لیے کچھ زیادہ فائدہ مند نہیں۔

TOPPOPULARRECENT