Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / اوباما انتظامیہ کا امریکی سفیروں سے استعفیٰ طلب

اوباما انتظامیہ کا امریکی سفیروں سے استعفیٰ طلب

نیویارک۔7جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام)  امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مشاورتی ٹیم (ٹرانزیشن ٹیم) نے موجودہ صدر بارک اوباما کے دور میں سیاسی طور پر بیرونی ممالک میں تعینات امریکی سفیروں کو 20 جنوری تک اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے کر ملک واپس لوٹنے کی ہدایت دی ہے ۔ اسی دن مسٹر ٹرمپ رسمی طور پر امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالیں گے ۔نیوزی لینڈ میں امریکی سفیر مارک گلبرٹ نے گزشتہ روز میڈیا کو جاری ایک ٹوئٹ پیغام میں بتایا کہ کسی استثناء کے بغیر وزارت خارجہ نے سیاسی طور پر تعینات تمام امریکی سفیروں کے نام 20 ڈسمبر کو اس سلسلے میں ایک ایمرجنسی پیغام بھیجا تھا۔انھوں نے نیویارک ٹائمز میں شائع ایک رپورٹ کی تصدیق کی ہے جس میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کی سابق امریکی انتظامیہ روایتی طورپر ایسے سفیروں کی مدت کار میں تھوڑی مہلت دیتی رہی ہے خاص طور پر جن کے بچے کم عمر ہیں اور اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کیربی نے بتایا کہ یہ بہت ہی عام روایتی طریقہ کار رہا ہے اور سیاسی طور پر مقرر تمام سفیروں کو 20 جنوری تک اپنے عہدے چھوڑنے کو کہا گیا ہے کیونکہ اسی دن نئی امریکی انتظامیہ عہدہ سنبھالے گی۔ٹرمپ کی مشاورتی ٹیم کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اس اقدام کے پیچھے کوئی بری نیت کار فرما نہیں ہے ۔ یہ کارروائی روایتی طورپر کی جاتی ہے اور سیاسی طورپر تعینات تمام سفیروں کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے ، جیسے وائٹ ہاؤس اور فیڈرل ایجنسیوں میں تعینات ہزاروں اہلکاروں کو بھی نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے ۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اوباما انتظامیہ کی طرف سے تعینات تمام سفیرون کو استعفیٰ دینے کی ہدایت دی گئی ہے اور ان تمام کا استعفیٰ 20 جنوری سے مؤثر مانا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ عام کارروائی ہے اور یہ اسی طور پر کام کرتی ہے ۔ تاہم ، مقابلہ جاتی امتحانات کے ذریعے تقرری پانے کے بعد خارجہ خدمات میں آنے والے سفیروں کو استعفیٰ دینے کیلئے نہیں کہا گیا ہے‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT