Friday , November 24 2017
Home / دنیا / اوباما اور نتن یاہو عصری جیٹ طیاروں کے سودہ پر بات چیت کے خواہاں

اوباما اور نتن یاہو عصری جیٹ طیاروں کے سودہ پر بات چیت کے خواہاں

چوٹی اجلاس کے بعد دونوں قائدین کی علحدہ ملاقات کا پروگرام
واشنگٹن ۔ 6 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما اور نتن یاہو چوٹی اجلاس کے بعد پیر کو ایک علحدہ ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ کئی دہوں سے ان کے دفاعی تعلقات کو ایک بار پھر مستحکم کیا جاسکے۔ ایران کے ساتھ امریکہ کی تائید والے نیوکلیئر معاہدہ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی دراڑ پڑ گئی تھی تاہم اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خصوصی طور پر نتن یاہو نے ماضی کو فراموش کردینے میں ہی عافیت سمجھی ہے اور اس طرح امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 30 بلین ڈالرس کا معاہدہ ہوسکتا ہے جس کے تحت اسرائیل عصری نوعیت کے لڑاکا طیارے حاصل کرے گا۔ چوٹی اجلاس کے دوران اس معاہدہ کو قطعیت نہیں دی جائے گی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ معاہدہ کے 2017ء میں اختتام کے بعد ہی نئے معاہدہ کی راہ ہموار ہوگی۔ البتہ دونوں قائدین معاہدوں کی اہم شقوں پر تبادلہ خیال ضرور کریں گے جن میں انتہائی عصری ہائی ٹیک F-35 طیاروں کا حصول شامل ہے جن کی تعداد 33 بتائی گئی ہے اور اسرائیل نے پہلے ہی اس کا آرڈر دے رکھا ہے۔ دیگر اسلحہ جات کے علاوہ V-22 اوسپریز کا حصول بھی معاہدہ کا حصہ ہوگا۔ ان تمام ہتھیاروں کو دراصل اسرائیل کو اپنے پڑوسیوں پر سبقت حاصل رکھنے کیلئے حاصل کیا جارہا ہے جس سے ایک بات یہ بھی ظاہر ہوتی ہیکہ امریکہ اور اسرائیل کی نظریں ایران کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ دشمن اگر مضبوط ہو تو اس سے لڑنے کیلئے ہتھیار بھی مؤثر ہونے چاہئے۔ F-35 ہی ایک ایسا واحد لڑاکا طیارہ ہے جو S-300 زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلس کا مقابلہ کرسکتا ہے جسے روس نے ایران کو فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اسرائیل نے اپنا وہ منشاء بھی ظاہر کردیا ہے کہ اس نوعیت کے انتہائی اہم اور عصری نوعیت کے F-35 جیٹس امریکہ اس خطہ میں اپنے کسی بھی حلیف ملک کو فروخت نہ کرے۔

TOPPOPULARRECENT