Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / اوباما کا پوٹن سے رابطہ، یوکرینی تنازعے کے سفارتی حل پر زور

اوباما کا پوٹن سے رابطہ، یوکرینی تنازعے کے سفارتی حل پر زور

واشنگٹن ؍ ماسکو ، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر نے یوکرین کے نیم خودمختار علاقے کریمیا میں ’روسی فوجی مداخلت‘ کے ذمہ داران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ بعد ازاں اوباما نے پیوٹن سے رابطہ کیا اور تنازعے کے سفارتی حل پر زور دیا۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی اطلاعات کے مطابق صدر براک اوباما نے جمعرات کو ر

واشنگٹن ؍ ماسکو ، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر نے یوکرین کے نیم خودمختار علاقے کریمیا میں ’روسی فوجی مداخلت‘ کے ذمہ داران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ بعد ازاں اوباما نے پیوٹن سے رابطہ کیا اور تنازعے کے سفارتی حل پر زور دیا۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی اطلاعات کے مطابق صدر براک اوباما نے جمعرات کو روسی عہدہ داروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بعد اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے رابطہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق لگ بھگ ایک گھنٹے تک چلی اس ٹیلی فون کال میں اوباما نے پیوٹن پر واضح کیا کہ ماسکو کے حالیہ اقدامات یوکرین کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں اور اسی وجہ سے واشنگٹن نے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ بعض اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر اوباما نے تنازعے کے کسی ممکنہ سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے روس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی بھی پیشکش کی۔

دوسری جانب کریملن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر نے گفتگو کے دوران اوباما سے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات یوکرین کے موضوع پر موجود اختلافات کی وجہ سے خراب نہیں ہونے چاہئیں۔ بیان کے مطابق روسی صدر نے عالمی استحکام اور سلامتی کے تناظر میں ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ اس سے قبل جمعرات کو ہی امریکی صدر نے ایک حکمنامہ پر دستخط کرتے ہوئے اُن یوکرینی اور روسی عہدہ داروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا، جو تنازعے کے ذمہ دار ہیں۔ متعلقہ افراد کے خلاف عائد کردہ پابندیوں میں سفری پابندیوں سمیت امریکہ میں اْن کے اثاثوں کو منجمد کیا جانا شامل ہے۔ امریکی عہدہ داروں کے بقول تاحال اُن افراد کی فہرست تیار نہیں کی گئی ہے، جن کے خلاف پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔ تاہم اِن عہدہ داروں نے واضح کیا کہ روسی صدر پیوٹن اِس فہرست میں شامل نہیں ہوں گے۔

امریکی صدر نے پابندیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اِن کا مقصد روس کو یہ پیغام دینا ہے کہ اسے اپنے اقدامات کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ کریمیا میں ریفرنڈم نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ یوکرینی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اسی دوران امریکی ایوان نمائندگان میں جمعرات کو یوکرین کیلئے مالی امداد سے متعلق ایک بل کی منظوری دی گئی ہے۔ کانگریس میں منعقدہ رائے شماری میں 385 ارکان نے اِس کے حق میں جبکہ صرف 23 ارکان نے اِس کی مخالفت میں ووٹ دیئے۔ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کے مطابق مالی امداد کی مد میں نئی کیئف حکومت کو ایک بلین ڈالر بطور قرض ادا کئے جائیں گے۔ اس بارے میں حتمی ووٹنگ آئندہ ہفتے سینیٹ میں متوقع ہے۔ واضح رہے کہ سیاسی بحران اور اقتصادی بدحالی کے شکار ملک یوکرین کی نئی حکومت نے پندرہ بلین ڈالر بطور امداد کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

TOPPOPULARRECENT