Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / اوباما کو ’’بازاری عورت کا بیٹا‘‘ کہنے پر فلپائنی صدر سے ملاقات منسوخ

اوباما کو ’’بازاری عورت کا بیٹا‘‘ کہنے پر فلپائنی صدر سے ملاقات منسوخ

پوپ فرانسیس اور جان کیری کی بھی توہین کرنے والے روڈریگو کی معذرت خواہی

واشنگٹن ۔ 6 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما نے لاؤس میں فلپائن کے صدر روڈریگو سے ہونے والی ملاقات کو منسوخ کر دیا ہے اور اب وہ جنوبی کوریا کے صدر سے ملیں گے۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ صدر اوباما نے یہ ملاقات فلپائن کے صدر کی جانب سے ان کو ’بازاری عورت کا بیٹا‘ کہنے پر منسوخ کی ہے۔ بارک اوباما کی جانب سے ملاقات کی منسوخی کے بعد فلپائن کے صدر نے ندامت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ اگرچہ اس کی وجہ ایک خاص میڈیا سوال کے دوران میرا سخت تبصرہ تھا جس نے تکلیف کو بڑھایا، ہمیں اس بات پر بھی پچھتاوا ہے کہ یہ صدر اوباما پر ذاتی حملے کی صورت میں سامنے آیا۔

‘ اس سے قبل صدر بارک اوباما نے کہا تھا کہ فلپائن کے صدر کے ساتھ ملاقات میں منشیات کے حوالے سے ماورائے آئین ہلاکتوں کے معاملے کو اٹھائیں گے۔ اوباما کے اس بیان کے بعد فلپائین کے صدر نے کہا کہ اگر وہ (اوباما) یہ معاملہ اٹھائیں گے تو بازاری عورت کے بچے میں تم کو اجلاس میں گالیاں دوں گا۔ یاد رہے کہ صدر بارک اوباما پیر کو آسیان اجلاس میں شرکت کے لیے چین سے لاؤس پہنچے ہیں۔ فلپائن کے صدر روڈریگونے جون میں عہدہ سنبھالا اور اس وقت سے اب تک منشیات کے خلاف اقدامات میں 2400 منشیات فروش اور استعمال کرنے والے ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلپائن کے صدر اپنی بدزبانی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ انھیں اپنی بات چیت سے سفارتی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل بھی جب انھوں نے ایسے بیانات دیے تو اس کے بعد انھیں مجبوراً معافی مانگنی پڑی۔ لیکن یہ پہلی بار ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انھیں اپنے نامناسب رویے کا حقیقاتاً سامنا کرنا پڑا۔فلپائن کے صدر روڈریگو نے اس سے پہلے پوپ فرانسس کے لیے یہی الفاظ استعمال کیے تھے جبکہ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری کو ’پاگل‘ قرار دیا تھا۔ یہ ان کا پہلا بیرونی دورہ ہے جس میں انھیں ہمسایہ ممالک اور چین اور امریکہ جیسی سپر پاورز کے سربراہان سے بات چیت کا موقع ملا تھا لیکن اپنے دورے کے پہلے ہی دن انھیں عالمی سطح پر ’ساری‘ کہنا پڑا۔

TOPPOPULARRECENT