Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / اوباما کی ریاض میںآمد، کشیدگی میں کمی کی توقع

اوباما کی ریاض میںآمد، کشیدگی میں کمی کی توقع

شاہ سلمان سے ملاقات اور خلیجی چوٹی کانفرنس میں شرکت کا پروگرام
ریاض ۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر بارک اوباما آج اس امید کے ساتھ سعودی عرب پہنچے کہ اس دیرینہ حلیف کے ساتھ تعلقات میں پیدا شدہ کشیدگی میں کمی کی جاسکے گی۔ صدر اوباما جو خاکی سوٹ میں ملبوس تھے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجکر 14 منٹ پر ریاض کے ملک خالد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اپنے خصوصی طیارہ ایرفورسیس ون سے اترے۔ صدر اوباما کی 8 سالہ صدارتی میعاد میں سعودی عرب کا یہ چوتھا دورہ ہے اور اپنے اس دو روزہ دورہ میں وہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے علاوہ خلیجی ملکوں کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے، جس میں توقع ہیکہ جہادی گروپوں کے خلاف کارروائی کے علاوہ شام اور یمن میں جاری جنگوں کے خاتمہ کی مساعی کی جائے گی۔ سعودی عرب کے سرکاری نیوز چینل الاخباریہ نے برخلاف معمول صدر اوباما کی آمد کی خبر نشر نہیں کی حالانکہ ان کی آمد سے چند منٹ قبل تک تمام خلیجی ممالک کے سربراہان کی آمد کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جارہا تھا جن (سربراہان) کا ایرپورٹ پر استقبال کرتے ہوئے دکھایا جارہا تھا۔ سعودی عرب کا احساس ہیکہ اس کا دیرینہ حلیف اس علاقہ سے بے اعتنائی اختیار کررہا ہے اور اس (سعودی عرب) کے شیعہ حریف ملک ایران کے تئیں جھکاؤ اختیار کررہا ہے جس کے نتیجہ میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔

 

اوباما کا سعودی عرب ، برطانیہ اور جرمنی کا 6 روزہ دورہ
شاہ سلمان سے ملاقات ، ملکہ ایلزبتھ دوم کے ساتھ ظہرانہ اور انجیلا میرکل کیساتھ ہینور ٹریڈ شو میں شرکت

واشنگٹن۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما تین ملکی دورہ پر آج روانہ ہوئے جو چھ دنوں تک جاری رہے گا۔ سعودی عرب، برطانیہ اور جرمنی کے دورہ میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی، دفاع اور عالمی معیشت اہم موضوعات ہوں گے جن پر صدر اوباما دیگر قائدین کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ اس دوران قومی سلامتی کے نائب مشیر بین روہڈس نے کہا کہ صدر موصوف خلیج اور یوروپ میں امریکہ کے چند اہم حلیفوں اور شراکت داروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ کل صدر کی روانگی سے قبل اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے کہ امریکہ دیگر ممالک کے ساتھ دولت اسلامیہ اور عالمی معیشت کے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے مزید پیشرفت کرے گا۔ خصوصی طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری خانہ جنگی، یوکرین کے لئے امریکی تائید یعنی اس کی مطلق العنانی اور یکجہتی کے لئے امریکہ اپنی تمام تر توانائیاں استعمال کرے گا۔ 20 اپریل کو اوباما سب سے پہلے سعودی عرب میں توقف کریں گے، جہاں ان کی سعودی عرب کے شاہ سلمان سے ملاقات طئے ہے۔ 21 ااپریل کو جی سی سی کا اجلاس مقرر ہے جو تین مختلف سیشنس میں منعقد کیا جائے گا جیسے پہلا سیشن علاقائی سلامتی، دوسرا سیشن دولت اسلامیہ اور القاعدہ کو شکست فاش اور تیسرا سیشن دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون۔ اوباما سعودی عرب سے برطانیہ کیلئے پرواز کریں گے۔ 22 اپریل کو صدر امریکہ، ملکہ ایلزبتھ دوم کے ساتھ ظہرانہ میں شرکت کریں گے جو اتفاق سے ملکہ کی 90 ویں سالگرہ کا موقع بھی ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ ماضی میں بھی اوباما اور ملکہ ایلزبتھ کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے۔

روہڈس نے کہا کہ اوباما خود بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بحیثیت صدر یہ ان کا آخری سال ہے لہذا وہ اپنے تمام حلیفوں سے ملاقات کے خواہاں ہیں جن میں برطانیہ کا خاص مقام ہے۔ برطانیہ کے دورہ کے موقع پر صدر اوباما کے ساتھ خاتون اول میشل اوباما بھی شامل ہوجائیں گی۔ ملکہ ایلزبتھ دوم کے ساتھ ظہرانہ کے بعد اوباما برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے بھی ملاقات کریں گے۔ ہفتہ کے روز اوباما کی نوجوانوں کیساتھ ایک ٹاؤن ہال میٹنگ مقرر ہے جہاں وہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان بہترین تعلقات پر روشنی ڈالیں گے، جہاں وہ ایجنڈہ بھی شامل ہیں جس پر امریکہ اور برطانیہ مشترکہ طور پر عمل کرتے آئے ہیں۔ 24 اپریل کو اوباما جرمنی جائیں گے۔ چانسلر انجیلا میرکل، اوباما کے خیر خواہوں میں شمار کی جاتی ہیں جہاں اوباما کیساتھ ان کی (اوباما) میعاد کی تکمیل تک (جاریہ سال نومبر) انجیلا میرکل نے ہمیشہ ہر معاملہ میں ان کی تائید کی۔ اوباما اسی شام انجیلا میرکل کے ساتھ ہینور ٹریڈ شو کا بھی افتتاح کریں گے۔ دوسری طرف وائیٹ ہاؤز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ دونوں میں جو استحکام دیکھا جارہا ہے، وہ دراصل دونوں ممالک کے ذریعہ عالمی دہشت گردی کے قلع قمع کے لئے مشترکہ کوششیں ہیں اور یہی باہمی تعاون امریکہ اور سعودی عرب کی قربتوں کی وجہ بن گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT