Tuesday , December 11 2018

اوباما کی مقبولیت میں جاسوسی ، ڈرون حملوں سے کمی

واشنگٹن۔16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک ریسرچ گروپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے شہریوں کی جاسوسی کے معاملات اور یوکرائن تنازع کی وجہ سے گذشتہ ایک سال میں جرمنی اور روس میں امریکی صدر براک اوباما کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں امریکہ کی بطور ریاست مقبولیت برقرار رہی تاہم امریکہ کے ج

واشنگٹن۔16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک ریسرچ گروپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے شہریوں کی جاسوسی کے معاملات اور یوکرائن تنازع کی وجہ سے گذشتہ ایک سال میں جرمنی اور روس میں امریکی صدر براک اوباما کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں امریکہ کی بطور ریاست مقبولیت برقرار رہی تاہم امریکہ کے جاسوسی کے پروگرام اور پینٹاگان کے دوسرے ممالک میں ڈرون حملوں کے پروگرام کی دنیا بھر میں مخالفت کی گئی۔ پیو ریسرچ سنٹر کی جانب سے دنیا کے 44 ممالک میں سروے کیا گیا

جس میں مجموعی طور پر 56 فیصد لوگوں نے صدر اوباما کے اقدامات کی حمایت کی جو گزشتہ سال سے کم ہے۔ اس سروے میں 44 ممالک کے 48 ہزار 643 نوجوان افراد نے حصہ لیا۔ صدر اوباما کو مشرق وسطی کے علاوہ دیگر تمام ممالک میں مقبولیت حاصل ہے۔ جہاں اسرائیل کے سوا تمام ممالک میں انکی مقبولیت 35 فیصد سے کم ہے۔ سروے کے مطابق صرف 7 فیصد پاکستانی صدر اوباما کے اقدامات کے حامی ہیں، یہ شرح تمام ممالک میں سب سے کم ہے۔ اسرائیل میں اوباما کی مقبولیت 10 پوائنٹس اضافے کیساتھ اس سال 71 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ چین میں صدر اوباما کی مقبولیت 51 فیصد ہے۔

TOPPOPULARRECENT