Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / اوباما کے دورہ جرمنی سے قبل احتجاج سے ہانوور دہل گیا

اوباما کے دورہ جرمنی سے قبل احتجاج سے ہانوور دہل گیا

انجیلا مرکل کے ساتھ مشترکہ پروگرام میں شرکت ‘نئے معاہدہ پر دستخط متوقع
ہانوور۔24اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ کے مجوزہ دورہ جرمنی اور مجوزہ تجارتی معاہدہ پر دستخط کے امکان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہزاروں افراد آج سڑکوں پر جلوس کی شکل میں نظر آئے ۔ وہ صدر امریکہ بارک اوباما کے دورہ جرمنی کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔ احتجاجی مظاہرین پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر نعرے ’’ آئی ٹی آئی پی نہ کرے‘‘ ’’ آئی ٹی آئی پی روکو ۔ ہم روک سکتے ہیں‘‘ اور ’’ ہمیں آئی ٹی آئی پی کی ضرورت نہیں ہے ‘‘ یہ بین براوقیانوس تجارتی و سرمایہ کاری ‘شراکت داری معاہدہ ( آئی ٹی آئی پی ) کے خلاف احتجاج تھا ۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی معاہدہ غیر جمہوری ہے اور اس سے تاجروں کے مفادات کا تحفظ ہوگا اور مزدوروں کے حقوق کمزور ہوں گے ۔ پولیس کے بموجب احتجاجی مظاہرین کی تعداد 35ہزار تھیں جنہوں نے جلوس میں شرکت کی ‘ جس کا اہتمام کئی ماحولیات و صارفین تحفظ تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں نے کیا تھا ۔ایسے مزید کئی جلوس توقع ہے کہ آج بھی نکالے جائیں گے جبکہ اوباما اپنے دو روزہ باہمی دورہ کے سلسلہ میں ہانوور پہنچیں گے تاکہ ہانوور میلہ کا مشترکہ طور پر چانسلر جرمنی انجیلا مرکل کے ساتھ افتتاح کرسکے ۔

ان کا دورہ سے قبل اوباما نے جرمن اخبارات سے کہا ہے کہ وہ انجیلا مرکل کو اپنی قریب ترین شراکت دار اور دوست سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دورہ سے قبل وہ مرکل کے ساتھ اپنے روابط مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ ان کے ساتھ طویل عرصہ سے اور قریبی تعاون کے ساتھ کسی دیگر عالمی قائد کے بہ نسبت زیادہ کام کرچکے ہیں ۔ ان برسوں میں انہوں نے مرکل سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ ان میں قائدانہ خصوصیت پائی جاتی ہیں جن کی وہ بھرپور ستائش کرتے ہیں ۔ وہ دونوں ممالک کے مفادات اور اقدار کا تحفظ کرتی ہیں ۔ بارک اوباما 20جنوری 2017ء کو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں گے ۔ امریکہ یورپی یونین کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ پر عمل آوری کا آغاز 2013کے اوائل سے ہوا تھا جب کہ دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ طئے ہوا تھا اس سے دنیا کا سب سے بڑا آزادانہ تجارتی زون قائم ہوا تھا جس میں 80کروڑ سے زیادہ صارفین تھے ۔ اوباما کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تازہ معاہدہ سے یورپی یونین اور امریکہ کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT