Thursday , December 13 2018

اوبیر پر امتناع کے خلاف ٹیکسی ڈرائیورس کا احتجاج

نئی دہلی 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام)سینکڑوں ٹیکسی ڈرائیورس نے جو انٹرنیٹ پر مبنی ٹیکسی کمپنی اوبیر میں برسر خدمت ہیں آج جنتر منتر پر ایک مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عائد امتناع برخواست کردیا جائے ۔ احتجاجیوں کے بموجب ان کا روزگار اس امتناع کی بناء پر متاثر ہورہا ہے ۔ کمپنی کے ڈرائیورس میں سے ایک نے مبینہ طور پر ایک 27 سالہ خاتون کی عصم

نئی دہلی 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام)سینکڑوں ٹیکسی ڈرائیورس نے جو انٹرنیٹ پر مبنی ٹیکسی کمپنی اوبیر میں برسر خدمت ہیں آج جنتر منتر پر ایک مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عائد امتناع برخواست کردیا جائے ۔ احتجاجیوں کے بموجب ان کا روزگار اس امتناع کی بناء پر متاثر ہورہا ہے ۔ کمپنی کے ڈرائیورس میں سے ایک نے مبینہ طور پر ایک 27 سالہ خاتون کی عصمت ریزی کی تھی جس کے بعد کمپنی کی ٹیکسی سرویس پر امتناع عائد کردیا گیا ۔ کمپنی میں برسر کار رنجیت رائے نے کہا کہ دہلی میں جب سے کمپنی کی خدمات کا آغاز ہوا ہے وہ بالکل شفاف رہی ہے ۔ اس سے ڈرائیورس کو بھی بینکوں سے فینانس حاصل کر کے اپنی ذاتی کاریں خریدنے کا موقع ملا ہے ۔ اس طرح ان کے استحصال کے مواقع میں کمی آئی ہے ۔ نریش مہتا نے جو کمپنی کے ملازم ہیں کہا کہ خاطی ڈرائیور کے پاس کل ہند سیاح پرمٹ ہے جس کی ہندوستان کے کسی بھی تجارتی ڈرائیور کیلئے ضرورت ہوتی ہے ۔ پرمٹ حاصل کرنے کیلئے درخواست گذار کو ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ڈرائیور کے بیاج کی ضرورت ہوتی ہے جو فوجداری تاریخ کے پس منظر کی جانچ کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانچ کے دوران ڈرائیور کے خلاف دائر عصمت ریزی کا مقدمہ کیسے پوشیدہ رہ سکتا ہے ۔ کیا (حکومت) بھی اس معاملے میں خاطی نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT