Wednesday , June 20 2018
Home / ادبی ڈائری / اوجؔ یعقوبی

اوجؔ یعقوبی

ڈاکٹر سید بشیر احمد

ڈاکٹر سید بشیر احمد
اوجؔ یعقوبی کی تاریخ پیدائش 10 مارچ 1913 ء ہے ۔ ان کے والد کا نام سید یعقوب تھا ۔ انہوں نے ان کا نام سید عبدالقدیم رکھا تھا ۔ تسمینہ خوانی کی رسم میں اخبار روزنامہ ’’صحیفہ‘‘ کے مدیر مولانا اکبر علی مرحوم نے اقراء کی تلاوت کروائی تھی ۔ انہوں نے مدرسہ تحتانیہ چادر گھاٹ ، چنچل گوڑہ ہائی اسکول اور گوشہ محل میں تعلیم حاصل کی تھی ۔ ادارہ حمیدیہ میں انہوں نے منشی اور فاضل کی تعلیم حاصل کی جس زمانے میں ان کے والد سمنٹ بلاک میں سکونت پذیر تھے جو ملک پیٹ ریلوے اسٹیشن کے روبرو تھا ۔ اس کے اکناف میں جوش ملیح آبادی ، ماہر القادری ، خورشید نظیر ، پروفیسر عبدالقیوم خاں باقی اور احمد نواز جنگ فانی جیسے باکمال علمی ، ادبی اور شاعرانہ ذوق رکھنے والے حضرات رہائش پذیر تھے ۔ ان سارے لوگوں کے گھروں میں وہ اپنی کم سنی کی وجہ گھومتے رہتے تھے ۔ وہ مہاراجہ کرشن پرشاد شاد کی دیوڑھی میں ہونے والے ماہانہ مشاعروں میں اور ہر ہلالی مہینہ کی 27 کو روزنامہ صحیفہ کی میلاد بلڈنگ میں ہونے والے مشاعروں میں پابندی سے شرکت کیا کرتے تھے ۔ اس طرح ان میں ذوق شاعری پروان چڑھتا رہا ۔ ابتداء میں وہ اخترؔ تخلص کیا کرتے تھے ۔ ان کی شاعرانہ زندگی کا پہلا شعر ملاحظہ فرمایئے
تری جدائی نے دیوانہ کردیا مجھ کو
ترے فراق نے شاعر بنادیا مجھ کو

کچھ عرصہ بعد انہوں نے اشرفؔ تخلص اختیارکیا ۔ ان کے بہنوئی سید تاج الھدیٰ جو اپنے دور کے مقبول شاعر تھے انہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ تخلص دو حرفی یا زیادہ سے زیادہ سہ حرفی ہونا چاہئے ورنہ اکثر بحر میں زحمت ہوتی ہے ۔ انہوں نے ان کے لئے اوجؔ تخلص تجویز کیا ۔ اس کے بعد اوجؔ نے اسی تخلص کو اپنایا اور اپنے والد کے نام کی نسبت سے یعقوبی کا اضافہ کرلیا ۔اس طرح ادبی دنیا میں وہ اوجؔ یعقوبی کے نام سے مشہور ہوئے ۔
صفی اورنگ آبادی کی ڈگر پر چلتے ہوئے انہوں نے شاعری کو ذریعہ آمدنی بنالیا اورکتنے ہی متشاعروں کو شاعر بنادیا ۔ اوجؔ نے پہلا مشاعرہ روزنامہ صحیفہ کی میلاد بلڈنگ میں پڑھا ۔ اس کے بعد وہ اہم شعرا جیسے ضامن کنتوری ، صفی اورنگ آباد ، فصاحت جنگ جلیل ، امجد حیدرآبادی ، حیرت بدایونی ، سعید شہیدی ، خورشید احمد جامی اور خواجہ شوق وغیرہ کے ساتھ بیسیوں مشاعرے پڑھے ۔ ان کی شاعری میں تجارتی انداز کی تشہیر کی وجہ سے قابل تلامذہ ان سے کترانے لگے ۔ اوجؔ یعقوبی نے تقریباً سارے اصناف سخن مثلاً حمد ، نعت ، منقبت ، مرثیہ ، سلام ، مثنوی ، قصیدہ ، آزاد نظم ، قطع ، رباعی اور غزل میں طبع آزمائی کی ہے ۔ وہ انفرادی خاص لہجہ کے شاعر تھے اور ان کا اسلوب منفرد تھا ۔ وہ نہ صرف اچھے شاعر بلکہ بلند پایہ نثر نگار بھی تھے ۔ ان کے دوسرے شعری مجموعہ ’’غنچہ لب بستہ‘‘ پر ان کا لکھا ہوا دیباچہ ان کی انشاء پردازی اور ناقدانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے ۔ اگر وہ اس جانب توجہ دیتے تو اردو نثر میں بھی بیش بہا اضافہ ممکن تھا ۔ انہوں نے عبدالقیوم خاں باقی سے باضابطہ تلمذ اختیار کیا اور ان سے مشورہ سخن کرتے رہے ۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’گرفت نظر‘‘ دوسر ’’غنچہ لب بستہ‘‘ اور تیسرا مجموعہ کلام ’’اوجِ عرش‘‘ (جو نعتوں اور منقبتوں پر مشتمل ہے) زیور طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں ۔ ذیل میں ان کے چند منتخبہ اشعار درج کئے جاتے ہیں ۔
صبا جو بھی کہنا ہے تجھے بہ چشم نم کہنا
ادب سے پہلے تو آنکھوں کو ملنا پائے اقدس سے
مدینہ دیکھوں یہ آخری حسرت ہے جیتے جی
دعائیں ہیں بہت وقت دعا کم ہے مرے آقاؐ
ایک مسلسل نعت میں اوجؔ یعقوبی کی سرکار سے وابستگی کا عکس نمایاں ہے ۔ اس کے اشعار ملاحظہ ہوں ۔
ہے علم بشر کتنا سرکار کے بارے میں
ہم لوگ کہیں گے کیا ، سرکار کے بارے میں
اے شوق سخن گوئی ہے شرط ادب اول
کچھ کھیل نہیں کہنا ، سرکار کے بارے میں
پیکر ہے تو بے سایہ ، ٹپکا ہے تو بے جسمی
کیا کیا ہوا دھوکا ، سرکار کے بارے میں
جب عرش پہ پہنچے ہیں ، نعلین سمیت آقاؐ
جبرئیلؑ نے تب سوچا سرکار کے بارے میں
سرکارؐ بشر ہیں تو مثل بشر کیا ہے
اتنا کوئی سمجھا سرکار کے بارے میں
اوجؔ اپنا سخن کتنا خود لوح و قلم گم ہیں
آسان نہیں لکھنا ، سرکار کے بارے میں
رسول اقدسؐ کی ایک حدیث جس میں حضورؐ نے فرمایا کہ وہ علم کا شہر ہیں اور حضرت علیؓ اس کا دروازہ ہیں اس مضمون کو اوجؔ یعقوبی نے یوں باندھا ہے۔

نبیؐ کی معرفت بے شک در حیدر سے ملتی ہے
یہ دولت جس کے گھر کی ہے اسی کے گھر سے ملتی ہے
روایت ہے کہ سرکار نامدارؐ کے جسم اطہر کا سایہ نظر نہیں آتا تھا ۔ اوجؔ یعقوبی کہتے ہیں کہ سرکارؐ کا سایہ ہے نہ ثانی اس لئے سرکارؐ سے کسی اور کا تقابل ممکن نہیں۔
اے اوجؔ تقابل پہ جب کوئی اتر آئے
کہہ دینا محمدؐ کا سایہ ہے نہ ثانی ہے
اوجؔ یعقوبی نے خمسہ کی ہیئت میں رسالتمآبؐ کی خدمت اقدس میں اپنی والہانہ جذبہ وارفتگی جس طرح کیا ہے اس کا ایک بند ذیل میں درج کیا جاتا ہے ۔
چاند سا چہرہ آنکھ غزالی
شاہ و گدا سب در کے سوالی
مرکز خلقت روضہ کی جالی
فرش کا مولی عرش کا والی
اوجؔ یعقوبی کی تاریخ اسلام پر گہری نظر تھی ۔ سانحہ کربلا کے پس پشت جو سازشوں کا جال تھا اور سارے سیاسی پس منظر جس کا مقصد رسول خداؐ کے گلشن کو اجاڑنا تھا اس کی طرف وہ اشارہ کرتے ہیں۔
یہ کہوں گھونپا ہے خنجر کس نے پشتِ آل میں
نہ دیکھو کربلا میں ہاتھ کس کس کا اٹھا
ہر زمانے میں برابر یہ سوال اٹھتا رہا
کربلا کے واقعہ میں ہاتھ کس کس کا رہا
مصلحت گاہوں میں کچھ زربخت کے پردے رہے
وقت بھی کچھ سازشوں کے جال پھیلاتا رہا
پھر اچانک ایک دن خطرے کی گھنٹی بج گئی
فلسفہ صلح حسن کا وقت سمجھاتا رہا
غاصبان وقت کے چہروں سے نقاب اتری جہاں
وہ مسلماں جن سے خود اسلام شرماتا رہا
حق اسی میدان میں آکر ہوا ہے سرخرو
تخت اسی میداں میں آکر ٹھوکریں کھاتا رہا
اگرچہ اوجؔ یعقوبی نے آزاد نظم اور موضوعاتی نظم کے علاوہ دوسری اصناف سخن میں بھی طبع آزمائی کی ہے لیکن وہ بنیادی طور پر غزل گو شاعر تھے ۔ وہ قدیم دبستان شاعری کے پاسدار رہے لیکن ان کی شاعری صرف حسن و عشق ، فراق و ہجر اور گل و بلبل کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ جدید رجحانات اور عصری مسائل کا بھی احاطہ کرتی ہے ، ان کو قواعد زبان اور فن شعر پر کامل دسترس تھی ۔ ان کی زندگی میں شاعری نہ صرف مشغلہ بلکہ ذریعہ روزگار بھی تھی ۔ سلاست ، شگفتگی اور نغمگی ان کے کلام کی خصوصیات ہیں ۔ ذیل میں ان کی غزلوں کے چند اشعار درج کئے جاتے ہیں ۔

وارث میکدہ ہم جو موجود تھے
کیوں کرائے کے ساقی بلائے گئے
تمہاری انجمن سے اٹھ کے بھی ہم بجھ نہ جائیں گے
چراغ رہ گزر بن کے بھی جلنا جانتے ہیں ہم
شمع اور پروانے کے تعلق سے مختلف شعراء نے مختلف مضامین باندھے ہیں لیکن اوجؔ یعقوبی کا منفرد اسلوب ملاحظہ ہو۔
شمع اپنے سے نہیں جلتی جلانے کے بغیر
وہ جو خود بڑھ کے جلتا ہے وہ پروانہ ہے
ذیل کے شعر میں اوجؔ یعقوبی نے اہل اقتدار طبقہ کی ناانصافیوں کو کس خوبی سے اجاگر کیا ہے ملاحظہ ہو۔
کچھ پی پی کے بہکتے ہیں ، کچھ رند ترستے ہیں
منصب سے ہٹادے گی یہ بے صبری ساقی
اوجؔ قنوطیت پسند نہیں بلکہ رجائیت پسند تھے ۔ وہ نوجوانوں کو پامردی کا درس دیتے ہیں ۔
زندگی کے میداں میں کاش آپ ڈٹ جاتے
حادثوں میں دم کتنا راستے سے ہٹ جاتے
سلام ان پر جو چھائے ہوئے ہیں صدیوں پر
گریز ان سے جو لمحوں میں ڈوب جاتے ہیں
ان کی شاعری میں پند و نصائح ملتے ہیں
انساں میں بلندی کردار چاہئے
پابند وضع ہو تو غریبی وقار ہے
ہر صبح کے بعد شام کا ہونا قانون فطرت ہے اوجؔ کہتے ہیں ۔
راحت میں بھی اک صورت آلام چھپی ہے
ہر صبح کے پردے میں کوئی شام چھپی ہے
کانگریسی حکومت کے آخری دور میں ٹی انجیا چیف منسٹر حکومت آندھرا پردیش نے ان کی شاعرانہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دیوڑھی خورشید جاہ میں منعقدہ مشاعرہ میں ان کو ’’ملک الشعرا‘‘ کے خطاب سے نوازا ۔
یہ شاعر خوش گو جس نے لاتعداد بے زبانوں کو زبان عطا کی ، کتنے ہی متشاعروں کی شاعرانہ فیاضی کی وجہ صاحب دیوان شاعر بن گئے جس کی وجہ سے دور مصحفیؔ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے 3 اگست 1983 ء کو بمقام اورنگ آباد احاطہ بنے میاں کی درگاہ اس دارفانی سے کوچ کیا اور احاطہ مسجد الہی چادر گھاٹ میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔

TOPPOPULARRECENT