Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / اورلینڈو حملہ آئی ایس نے نہیں کیا: اوباما

اورلینڈو حملہ آئی ایس نے نہیں کیا: اوباما

حملہ آور انٹرنیٹ پر انتہاء پسندانہ معلومات سے متاثر، ہتھیار کا بہ آسانی حصول
واشنگٹن ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے آج کہا ہیکہ اورلینڈو نائٹ کلب پر حملہ کرنے والا بندوق بردار انٹرنیٹ پر دستیاب انتہاء پسندی پر مبنی معلومات سے متاثر تھا اور ایسا لگتا ہیکہ وہ آئی ایس کے کسی منصوبہ کا حصہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ جس میں 50 افراد ہلاک ہوگئے، اندرون ملک انتہاء پسندی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے ایف بی آئی سے ابتدائی معلومات کے حصول کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ اس سارے واقعہ کی دہشت گرد حملے کی طرز پر تحقیقات کی جارہی ہے۔ حملہ آور انٹرنیٹ پر مختلف ذرائع سے جو انتہاء پسندانہ معلومات فراہم کی جاتی ہیں، کافی متاثر تھا۔ ان تمام پہلوؤں کی جانچ کی جارہی ہے۔ اس مرحلہ پر ایسا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا کہ اسے کسی بیرونی طاقت نے یہ کارروائی انجام دینے کی ہدایت دی۔ اس نے لمحہ آخر میں آئی ایس سے وابستگی کا اعلان کیا لیکن اب تک اس کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوسکا۔ اس موقع پر ایف بی آئی ڈائرکٹر جیمس کومے بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اندرون ملک انتہاء پسندی کی واضح مثال ہے۔ وہ قانونی طور پر ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ واضح رہیکہ 29 سالہ افغانی نژاد بندوق بردار عمر متین نے کل فلوریڈا کے اورلینڈو میں نائٹ کلب پر حملہ کرتے ہوئے 50 افراد کو ہلاک اور 53 کو زخمی کردیا تھا۔ آئی ایس نے آج ریڈیو بلیٹن میں اسے عیسائیوں پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ نظام خلافت کے ایک سپاہی نے یہ کارروائی انجام دی۔
مسلمانوں پر نظر رکھنا ضروری : ٹرمپ
امریکی صدارتی دوڑ میں آگے رہنے والے ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اورلینڈو واقعہ کے بعد امریکہ میں مسلمانوں اور مساجد پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں انٹلیجنس معلومات اکھٹا کرنی چاہئے۔ مساجد پر اور مسلم طبقہ کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھنی ضروری ہے۔
ہلاری کلنٹن کا محتاط موقف
ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن نے کہا کہ انہیں ’’شدت پسند اسلام‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر خوشی ہے لیکن وہ واضح کرنا چاہتی ہیکہ سارے مذہب اسلام کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ یہ انتہائی خطرناک ہوگا اور آئی ایس کو اسے ایک اہم موضوع بنانے کا موقع فراہم ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT