Friday , November 24 2017
Home / مضامین / اورلینڈو شوٹنگ ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکی صدر بنانے کی سازش

اورلینڈو شوٹنگ ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکی صدر بنانے کی سازش

محمد فیاض الدین
امریکہ کے اورلینڈو میں ایک نفسیاتی بیمار شخص کے حملہ میں 49افراد کی ہلاکت کو لیکر نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا بالخصوص مغرب میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ مسلم دشمن طاقتیں اس واقعہ کو مسلمانوں سے جوڑنے کی جان توڑ کوشش کررہی ہیں اور انہیں ان کوششوں میں اسی طرح کامیابی مل رہی ہے جس طرح 2001ء کے 9/11 حملوں کے بعد انہیں کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ حالانکہ پچھلے 14 ‘ 15برسوں کے دوران 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں کئی ایک کہانیاں اور فسانے سامنے آچکے ہیں ۔ بے شمار نظریات بھی اس ضمن میں پیش کئے جاچکے ہیں ۔ خود کئی امریکیوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں سے مسلمانوں کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے بلکہ امریکہ اور امریکہ کے باہر موجود امریکہ اور مسلمانوں کے دشمنوں کی یہ کارستانی تھی جس میں تقریباً چار ہزار  قیمتی انسانی جانوں کا اتلاف ہوا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آخر مسلمانوں کے دشمن کون ہیں ؟ وہ مسلمانوں کو بدنام کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟ امریکہ  سے ان کی عداوت کی کیا وجہ ہیکہ وہ امریکہ جیسے ملک کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے جس کی بنیاد مذہبی آزادی پر رکھی گئی ہے ۔ جس کے باعث اس ملک ( امریکہ ) کے عوام میں ایک دوسرے کے مذاہب کے احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے ۔ 9/11 حملوں کی آزادنہ تحقیق سے کئی انکشافات منظر عام پر آئیں جس میںیہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں اسلام پسند طالبان کے اقتدار کو زوال سے دوچار کرنے کیلئے خود امریکی خفیہ ایجنسیوں نے وہ فضائی حملہ کروائے تھے تاکہ اس کا سارا الزام القاعدہ اور طالبان کے سر تھوپ کر افغانستان میں القاعدہ کے کٹر حامیوں طالبان کے اقتدار کا خاتمہ کردیا جائے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا 9/11 دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکہ نے ساری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کر کے طالبان حکومت کو سب سے پہلے نشانہ بنایا ۔

بتایا جاتا ہیکہ طالبان اس قدر طاقتور ہوگئے تھے کہ ان کی خالص اسلامی حکومت میں چوری ‘ ڈکیتی ‘ قبائلی لڑائیاں ‘قتل و خون ‘ بے حیائی و بے شرحی ‘ فحاشی ‘ ہم جنس پرستی  پر ایک طرح سے روک لگ گئی تھی ۔ منشیات کی لعنت سے لوگوں کو چھٹکارا حاصل ہوگیا تھا ۔ خواتین و لڑکیوں کی عصمتیں محفوظ ہوگئیں تھیں ۔ امن و امان کی صورتحال کا عالم یہ تھا کہ سنسان راہوں سے ایک بڑھیا بھی سونے کے زیورات اور نقد رقم لئے بہ آسانی گذر جایا کرتی تھی ۔  اسے لوٹنے ‘ ڈرانے دھمکانے کی کسی میں ہمت و جرات نہیں تھی ۔ ملک میں امن وامان کی غیر معمولی بہترصورتحال تھی اس کے علاوہ طالبان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ جانباز فلسطینیوں کی مدد اور انہیں اسرائیل کے ظلم و جبر سے بچانے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہے تھے ۔ ساتھ ہی خاتون قیدیوں کے ساتھ طالبان کے حسن سلوک سے بھی یوروپی خواتین اسلامی تعلیمات سے متاثر ہورہی تھیں ۔ شائد امریکہ اور اس کے حلیفوں کی چھٹی حس نے یہ محسوس کرلیا کہ اگر طالبان کو اقتدار سے بیدخل نہیں کیا گیا تو پھر اسرائیل کی خیر نہیں کیونکہ افغان باشندوں کے بارے میں یہ مشہورہیکہ وہ مارنے مرنے سے کبھی نہیں ڈرتے ۔ یہ قوم اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتی ہے ۔ چنانچہ اس خطرہ کو امریکہ اور اسکے حلیفوں نے فوری بھانپ لیا جس کے بعد جو کچھ ہوا ساری دنیا جانتی ہے ۔ 9/11 دہشت گردانہ حملوں کی سازش رچی گئی اور اس پر بڑی کامیابی سے عمل کیا گیا لیکن امریکہ نے جس اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے یہ سب کچھ کیا تھا اس اسرائیل کے ایجنٹوں نے امریکہ میں موجود اپنے ہمدردوں اور کارندوں کے تعاون اشتراک سے جاسوسی کا ایسا نٹ ورک پھیلایا کہ اس کی جڑیں امریکی حکومت میں بھی پیوست چکی ہیں ۔ شائد ہی امریکہ کا کوئی محکمہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے راڈار سے محفوظ ہو ۔ ہم نے سطور بالا میں 9/11حملوں کے حوالے سے  سوالات کئے تھ کہ آخر مسلمانوں کے دشمن کون ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو بدنام کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟ ان سوالات کا جواب یہی ہیکہ اسرائیل مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اپنی مسلم دشمنی کی آڑ میں وہ امریکہ اور دیگر یوروپی ممالک کا بڑی ہشیاری بکہ مکاری سے استعمال بھی کررہا ہے ۔ کرہ ارض کی ناجائز مملکت اسرائیل کی حکومت مسلمانوں کو بدنام کرنا اس لئے چاہتی ہیکہ فلسطینیوں کے تعلق سے دنیا بالخصوص مغرب میں جو ہمدردی پائی جاتی ہے اس ہمدردی کو ختم کیا جائے کیونکہ آج بھی عیسائیوں کی اکثریت اسرائیل کے خلاف ہے حالانکہ اسرائیل اور اس کی خفیہ تنظیمیں خاص کر موساد وغیرہ عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف وقفہ وقفہ سے بھڑکانے اور اکسانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ارض مقدس فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ برقرار رہے ۔ فلسطین کے مقدس مقامات کی تباہی و بربادی کا وہ سلسلہ جاری رکھ سکے ۔ فلسطینی بچوں ‘ بوڑھوں ‘ جوانوں اور عورتوں کا قتل عام ہوتا رہے ۔

ان کے حقوق کی پامالی پر کوئی آواز نہ اٹھائے ‘ اپنی من مانی کے ذریعہ یروشلم کا تقدس بھی پامال کرے ۔ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے شیطانی سلسلہ کو جاری رکھ سکے اور اسے پوری طرح اپنے کنٹرول میں کرلے ۔ اسرائیلی حکومت اپنی شیطانی ذہنیت کے سہارے نئی نئی سازشیں کرتے ہوئے مغرب اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابل، کھڑا کررہی ہے ۔ اس کا مقصد صرف اور صرف اپنی بقاء کو یقینی بنانا ہے ۔ اپنے اس مقصد کی تکمیل کیلئے اسرائیل امریکہ اور اس کے سیاستدانوں کا بہت ہی مکارانہ انداز میں استعمال کررہا ہے ۔ شائد اس کا احساس امریکی حکومت اور سیاستدانوں کو بھی ہے لیکن وہ اس لئے کچھ زیادہ نہیں بول سکتے کیونکہ ان کی زبانوں پر مجبوریوں کے تالے پڑگئے ہیں ۔
آج بے شمار فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں ‘ ان کے انسانی حقوق پامال کئے جاتے ہیں ۔ فلسطینی سڑکـوں اور یروشلم کی گلیوں میں اسرائیلی فوج ارض مقدس کی مدافعت پر اتر آئے نوجوانوں کے سینوں پر دبابے چلا رہی ہے ۔ فلسطینیوں کے گھروں کو فضائی حملوں کے ذریعہ تباہ کر کے فلسطینیوں کو زندہ دفن کررہی ہے ۔معصوم فلسطینی بچوں کو ان کے اسکولوں میں قتل کیا جارہا ہے ‘ نوجوان لڑکیوں کے سینوں میں گولیاں اتار دی جارہی ہیں ۔ ان رونگٹے کھڑا کردینے والے مظالم کے باوجود امریکہ سے لیکر ساری عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ عراق کو بھی عام تباہی کے ہتھیار رکھنے کے جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے تباہ و تاراج کیا گیا ۔ تاریخی آثار کا نام ونشان مٹایا گیا ۔ عراقی سائنسدانوں اور دانشوروں کو چن چن کر قتل کیا گیا ۔ عراق میں اس قدر خون بہایا گیا کہ وقفہ وقفہ سے سڑکوں پر انسانی خون کے نالے بہنے لگے ‘ یہ سب کس نے اور کیوں اور کس کے اشاروں پر کیا ساری دنیا جانتی ہے ۔ عراق کی تباہی بھی اسرائیل کے تحفظ کیلئے کی گئی ۔ اسرائیل دنیا کے امن و امان کیلئے ایک ناسور بن گیا ہے لیکن جب تک امریکہ اور برطانیہ جیسے ملک اس کی حمایت جاری رکھیں گے تب تک اس کے ظلم کی داستان جاری رہے گی ۔ اب چلتے ہیں اورلینڈو کے ہم جنس پرستوں کے کلب پر ایک امریکی مسلمانوں عمرمتین کے حملہ کی طرف اس حملہ میں 49 ہم جنس پرست ہلاک اور 53سے زائد زخمی ہوئے ۔

سارے امریکہ میں اس واقعہ نے ہلچل مچادی کیونکہ حملہ آور کا نام عمر متین تھا ۔ ایسے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امکانی صدارتی امیدوار سے لیکر ان کی قبیل کے دیگر سیاستدانوں ‘ دانشتوں ‘ صحافیوں اور اسلام دشمن تنظیموں نے ایک آواز ہوکر اس واقعہ سے مسلمانوں کو منسوب کرنے کی کوشش تیز تر کردیں ۔ اس کوشش میں ری پبلکن پارٹی کے امکانی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ سب سے آگے ہیں ۔ انہوں نے پھر سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ۔ انہیں یہ کہتے ہوئے قطعی شرم نہیں آتی کہ اقتدار ملنے پر وہ ہر اس ملک سے آنے والے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کردیں گے جن سے امریکی سلامتی کو خطرہ ہو ۔ ری پبلکن پارٹی کے امکانی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے باوقار عہدہ صدارت پر فائز ہونے مسلم دشمن کارڈ کھیل رہے ہیں وہ وسیع القلب اور وسیع الذہن امریکیوں کے قلوب کو مسلم دشمنی کی آلودگی سے آلودہ کررہے ہیں ۔ اورلینڈو ہم جنس پرست کلب پر عمر متین کے حملہ کا وہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہیکہ عمر متین کے جنونی اقدام سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا یا ہوگا ؟ ۔  جواب واضح ہے ڈونالڈ ٹرمپ کواس کا راست فائدہ ہوگا کیونکہ وہ امریکیوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر پھیلانے میں بڑی سرگرمی کے ساتھ مصروف ہیں ۔ ایسے میں کہیں ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا ہم جنس پرستوں  کے کلب پرفائرنگ واقعہ سے تعلق تو نہیں کیونکہ اس واقعہ کے فوری بعد ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی امریکی ایجنسیوں کو اس زاویہ سے بھی تحقیقات کرنی چاہیئے ۔ اس واقعہ کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ پر ہلاری کلنٹن کی برتری کم ہوگئی اور امکان ہیکہ آنے والے دنوں میں یہ برتری مزید کم ہوگی ۔ رائٹر /آئی پاس کے سروے میں بتایا گیا ہیکہ 8 نومبر کو منعقد ہونے والے امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ پر ہلاری کلنٹن کو 13پوائنٹس کی برتری حاصل تھی لیکن اورلینڈو واقعہ کے فوری بعد وہ برتری گھٹ کر 11.6 پوائنٹس ہوگئی کیونکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے شوٹنگ کے اس بدترین واقعہ کیلئے ڈیموکریٹس کی پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کرنے کا بھی اعادہ کیا ۔ اس کے برعکس ہلاری کلنٹن نے امریکی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی پر انتباہ دیتے ہوئے اسے امریکہ کیلئے خطرناک قرار دیا ہے ۔ امریکی صدر بارک اوباما نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے مسلم دشمن بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ امریکہ نہیں ہوگا جو ہم چاہتے ہیں ۔ اوباما کے خیال میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک امریکہ اور اس کے عوام کیلئے سنگین نتائج کا باعث بنے وگا ۔ امریکی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے سے امریکہ نہ صرف عدم تحفظ کا شکار ہوگا بلکہ اس سے عالم اسلام اور مغرب کے درمیان دوریاں پیدا ہوں گی اور اس خلیج کو پاٹنا مشکل ہوجائے گا ۔ بہرحال اورلینڈو شوٹنگ واقعہ اور ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں کہیں نہ کہیں تعلق ضرور ہے کیونکہ اس کا راست فائدہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ہی ہوگا یہ اور بات ہیکہ 29سالہ عمر متین ذہنی طور پر بیمار تھا اس کی سابق بیوی ستارہ یوسف کے مطابق متین ایک نفسیاتی بیمار شخص تھا ۔ بار باربرہم ہونا اس کی عادت تھی ۔ وہ اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر مارا پیٹا بھی کرتا تھا ۔ ان تمام حقائق سے امریکیوں اور سارے عالم کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ آخر مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے انسانیت کا قتل کرنے والے قانون کے شکنجہ میں آنے سے محفوظ کیوں ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT