Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / اور اب ‘ عوام کی رقومات سے کارپوریٹس کا قرض نمٹایا جائیگا!

اور اب ‘ عوام کی رقومات سے کارپوریٹس کا قرض نمٹایا جائیگا!

سیونگ اکاؤنٹ کا پیسہ پانچ سال روک لینے بینکوں کو اختیار ۔ مودی حکومت کا نیا قانون تیار ‘ پارلیمنٹ کی منظوری باقی

حیدرآباد۔10ڈسمبر(سیاست نیوز) پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ہندستانی عوام کیلئے کسی تباہ کن اجلاس سے کم ثابت نہیں ہوگا بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سرمائی اجلاس کے دوران کی معیشت کو مستحکم بنانے اور بینک کاری نظام کو مضبوط کرنے کے نام پر کی جانے والی قانون سازی ہندستانی عوام کو ان کی اپنی دولت سے محروم کرنے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ ہندستانی عوام جو اکثر سیونگ بینک کھاتوں میں اپنی جمع پونجی رکھا کرتے ہیں انہیں اس قانون کے سبب اپنی جمع پونجی کو اپنی مرضی کے خلاف 5سال تک کیلئے استعمال کے اختیار سے محروم ہونا پڑا گا۔ مودی حکومت نے پہلے نوٹ بندی کے ذریعہ عوام کی محنت کی کمائی کو ’ ردی کے ٹکڑے ‘ میں بدل دیا تھا اب ان کی ساری رقم ہی کو اپنی مرضی سے سہولت کیلئے استعمال کرنے کے قانونی اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت کے قریبی کارپوریٹس اور بڑے تاجروں کو جاری کردہ قرضہ جات واپس نہیں ہورہے ہیں۔ حکومت اب ان کارپوریٹس کے قرض کو بالواسطہ طور پر عوام کے کھاتوں میں موجود رقومات سے پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ پارلیمنٹ سرمائی اجلاس میں حکومت نے FRDI-2017 قانون پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس قانون کے نفاذ کی صورت میں بینک خود کو خسارہ سے بچانے کیلئے اپنے سیونگ بینک کھاتہ دارو ںکے کھاتہ میں جمع رقومات کو استعمال کرنے کی مجاز ہو جائے گی اور اسے اپنی مرضی کے مطابق فکسڈ ڈپازٹ میں تبدیل کردے گی تاکہ بینک کو خسارہ سے بچایا جاسکے۔ بینک کاری قوانین کے مطابق فی الحال بینک کے سیونگ کھاتہ کی رقم کو کھاتہ دار کبھی بھی نکال سکتا ہے لیکن اس قانون کے بعد بینک کھاتہ سے رقم نکالنے اپنے کھاتہ میں موجود رقم کو بینک کی مرہون منت سمجھنا پڑیگا کیونکہ ان کھاتوں میں جمع رقم کو قانون کے مطابق بینک عہدیدار اپنے استعمال میں لاسکیں گے اور 5 سال تک اس کی عدم ادائیگی کیلئے وہ قانونی طور پر مجاز ہو جائیں گے۔ بینک میں جمع کی جانے والی رقومات کی منہائی پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے اور حکومت اس بات کی ضمانت لے گی کہ یہ رقومات 5سال کے بعد کھاتہ دار کو ادا شدنی ہوں گی۔ ریزرو بینک قوانین کے مطابق کوئی بینک اگر کھاتہ داروں کی رقم ہڑپ کرجاتاہے تو ایسی صورت میں اس رقم کیلئے کھاتہ دار عدالت سے رجوع ہوکر بینک کے پاس موجود اثاثہ جات کے ہراج یا آمدنی سے اپنی رقم حاصل کرسکتا ہے لیکن مرکزی حکومت کی وزارت فینانس کی جانب سے تیار کردہ اس نئے قانون ’فینانشل ریزولیوشن اینڈڈپازٹ انشورنس بل ‘کے نفاذ کی صورت میں صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی اور کھاتہ دار اپنی رقم کے حصول کیلئے 5سال تک عدالت بھی نہیں جا سکیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد بینکوں پر موجود قرضہ جات جو کہ لاکھوں کروڑ کے ہیں اور ملک کے سرمایہ دار طبقہ و صنعتی اداروں کی جانب سے ادا شدنی ہیں ان سے ہونے والی مشکلات کو دور کرنا ہے اور اس قانون کی تیاری کے ذریعہ عوامی دولت کے ذریعہ بینکوں کو راحت فراہم کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT