Sunday , November 19 2017
Home / اداریہ / اور اب قبرستان … شمشان کی ضد

اور اب قبرستان … شمشان کی ضد

بُرا کام کرنے والے بُرا کہنے والے اور غلط فیصلے کرنے والے کو اچھے لوگوں کی طاقت روک سکتی ہے، مگر اس بری طاقت کو روکنے کی ہمت جٹانے کی کوشش نہ کرنا افسوسناک واقعہ ہے ۔ ہندوستان اب ایک ایسے خراب حالات کی جانب بڑھ رہاہے جس کا منصوبہ ہندوتوا طاقتوں نے برسوں سے مرتب کرلیا تھا ۔ اس منصوبہ کو اب من و عن بروئے کار لانے کی کوشش شروع ہوچکی ہے ۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں مرکزی حکمراں پارٹی کے قائدین کی تقاریر تشدد اور نفرت آمیز عنوانات ہی تک مرکوز رہی ہیں ۔ ملک کے سربراہ کی حیثیت سے جب کوئی لیڈر اکثریتی طبقہ کے ارکان کے ساتھ امتیازی سلوک ہونے کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے تو اس کایہ ریمارک بظاہر بے ضرر معلوم ہوتا ہے مگر اس نے پورے ملک میں فرقہ پرستانہ پیام کو بڑی چالاکی سے پھیلادیا ہے ۔ ہندوستان میں اب تک اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی شکایات سنی جاتی رہی تھیں اب اکثریتی طبقہ کے ارکان کے ساتھ امتیاز برتے جانے کی شکایت از خود ایک حکمراں نے کھڑی کردی ہے تو عوام کے ذہنوں میں نفرت کا زہر تیزی سے پھیلانے میں بھی کامیابی ملے گی ۔ ایک موقع پر کہا گیا کہ ہولی کے موقع پر اکثریتی علاقہ میں پانی کی سربراہی روک دی جاتی ہے جبکہ رمضان کے دوران پانی کی کوئی قلت نہیں ہوتی ۔ دیپاولی کے موقع پر برقی کٹوتی ہوتی ہے رمضان کی عید کے لئے برقی کو غیرمنقطع طورپر سربراہ کیا جاتا ہے ۔ یہ صرف ایک مفروضہ ہے جس کو برسوں سے فرقہ پرست طاقتیں اکثریتی طبقہ کے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے دہراتے آرہے ہیں۔ اسی حکمراں کا ایک اور شرانگیز بیاں یہ بھی ہے کہ اقلیتوں کو اب تک حد سے زیادہ بہبودی کے معاوضے دئے جاتے رہے ہیں جبکہ اکثریتی طبقہ کے ارکان کے ساتھ امتیاز برتا جاتا رہا ہے۔ اُترپردیش اسمبلی انتخابات میں مرکزی وزیر برقی نے برسرعام یہ کہا تھا کہ ریاستی حکومت نے ہندوؤں کو برقی سربراہ کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ مسلمانوں کو برقی بلاناغہ سربراہ کی جاتی ہے ۔ اگرچیکہ اس طرح کی لفاظی کو بکواس اور غلط قرار دے کر یوپی حکومت کے سینئر عہدیداروں نے کہا تھا کہ مرکزی قائدین کو یوپی میں شکایت کا موقع اس لئے مل رہا ہے کیوں کہ انھیں ناکامی کا احساس ہوچکا ہے ۔ دراصل سوال یہ ہے کہ آیا سیکولر ہندوستان کے اندر ان طاقتوں کو بولنے کا موقع کب تک دیا جائے گا ۔ گزشتہ سال بھی بہار انتخابات کے دوران ایسے جھوٹ کو پھیلایا گیا تھا لیکن اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا ۔ سیکولر رائے دہندوں نے اس جھوٹ کو یکسر مسترد کردیا۔ عوام کے شعور کا امتحان لینے کی جب کوشش کی جاتی ہے تو جھوٹ بول کر آزمانے والوں کو عوام ہی سبق سکھاتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کے ذریعہ ہندو ووٹ بنک مضبوط کرنے کے حربے اب تک کہیں کامیاب اور کہیں ناکام ہوئے ہیں ۔ یوپی انتخابات کے لئے یہی حربہ اختیار کیا گیا جس میں ساکشی مہاراج جیسے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف شدید شرانگیز ریمارکس کرنے کی کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے ۔ زہرافشانی کے ذریعہ یہ لوگ اپنا مستقبل مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ انھیں ہندوستان میں کس حال میں رہنا ہے اور کیا کرنا ہے ، کیا نہیں کرنا ہے ۔ مسلمانوں کیلئے سوالنامہ کھڑا کرنے والے اپنی حرکتوں کے ذریعہ ایک دن خود سوال بن جائیں گے ۔ ساکشی مہاراج نے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کے لئے قبرستانوں کی کمی کا حوالہ دے کر یہ مشورہ دیا کہ مسلمانوں کو اب قبرستانوں میں دفن کرنے کے بجائے شمشان گھاٹ میں سپرد آتش کی رسم شروع کرنا چاہئے ۔ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے ملک کی فرقہ پرستانہ فضاء مکدر ہوتی ہے اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف جو حالات پیدا کردیئے جاتے ہیں اس کو سرکاری حمایت بھی حاصل ہوتی ہے ۔ ایسے بیانات اور تقاریر نئے نہیں ہیں لیکن عوام کے ذہنوں کو بدلنے کیلئے جب کوئی بار بار یہی بات دہراتا ہے تو مسائل جنم لیتے ہیں۔ نفرت پھیلانے کے بدترین نتائج کے لئے وہی لوگ ذمہ دار ہوں گے ۔ مسلم آبادی میں بے تحاشہ اضافہ کی شکایت کرکے دیگر ابنائے وطن کو اُکسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے یہ بھی مشہور کر رکھا ہے کہ گوشت خور مسلمان فطری طورپر تشدد پسند ہوتا ہے۔ چار شادیاں کرتا ہے ، زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرتا ہے ۔ مسلمانوں کو ان کی مساجد سے ہی دہشت گردی کی تربیت ملتی ہے جیسے زہرآلود خیالات کا پوری شدت سے اظہار کیا جاتا ہے تو خالی ذہن انسان کابہک جانا ممکن ہوتا ہے ۔ ملک بھر میں میڈیا نے اسمبلی انتخابات کے دوران کی جانے والی اشتعال انگیز تقاریر کا ہرگز نوٹ نہیں لیا یہ اقتدار کی حامل طاقت سے خائف ہونے اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک دینے کے مترادف ہے ۔

TOPPOPULARRECENT