Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / … اور اب ٹرمپ کو ہلاری کے عیسائی ہونے پر شبہ

… اور اب ٹرمپ کو ہلاری کے عیسائی ہونے پر شبہ

Louise Brown walks down King Street during a Black Lives Matter march, Saturday, June 20, 2015, in Charleston, S.C. The event honored the Emanuel AME Church shooting victims. (AP Photo/Stephen B. Morton)

مذہبی لیڈروں سے ملاقات ، عیسائیت اور دیگر مذاہب کے پیرو کاروں پر نظر رکھنے ایگزیکٹیو بورڈ تشکیل دیا جائے گا

واشنگٹن۔ 22 جون (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلیکن کے امکانی صدارتی امیدوار نامزد کئے جانے والے ڈونالڈ ٹرمپ نے آج پھر ایک بار ایسی بات کہی جس نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ یاد رہے کہ ٹرمپ جب بھی منہ کھولتے ہیں کوئی نہ کوئی تنازعہ کھڑا کردیتے ہیں۔ آج انہوں نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کے عیسائی ہونے پر سوال کھڑا کردیا اور پوچھا کہ ان کی روحانی زندگی کیسی ہے کیونکہ عوام کو ان کی زندگی کے اس پہلو کے بارے میں بہت کم معلومات ہے۔ ٹرمپ شاید یہ بھی نہیں جانتے کہ ہلاری کئی دہوں سے عوامی زندگی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے لیڈروں کے ایک گروپ سے کہا کہ ہلاری کلنٹن کے مذہب کے بارے میں ہم آج تک کچھ بھی وثوق سے نہیں جانتے ۔ اس ملاقات کی ایک ویڈیو بھی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہلاری عرصہ دراز سے عوامی خدمات انجام دیتی آرہی ہیں، لیکن ان کا مذہبی عقیدہ کیا ہے، یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہلاری اوباما کی ہی توسیع شدہ شکل ہو۔ بہرحال حالات خراب ہیں، انتہائی خراب ہیں۔ ٹرمپ کے اس ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کلنٹن مہم کے ذمہ داروں کے مذہبی قائد ڈیبورافائیکس کا ایک بیان جاری کیا ہے جو ورلڈ ایونجیکل ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹیو مشیر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاری کلنٹن ایک ایسی خاتون ہیں جن پر عقیدت مند عیسائیوں کی نظر ہے۔ آج امریکہ میں ایک نئی اور خطرناک روایت نے جنم لیا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ جو ایک اہم پارٹی کے صدارتی امیدوار نامزد ہونے والے ہیں، وہ خواتین اور معذور افراد کے خلاف بھی بدکلامی کرنے سے باز نہیں آتے۔ ہمیشہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی بات کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسلم ملک، عیسائیوں کے داخلے پر پابندی کا اعلان کردے تو ٹرمپ کیا کریں گے؟ ٹرمپ نے یہ تک کہہ دیا کہ امریکہ کے پڑوسی شہروں میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں، وہاں ان کی حرکات و سکنات کی پر کڑی نظر رکھی جائے۔ ایک مذہبی شخصیت ہونے کے ناطے میرا دل اس بات پر بہت رنجیدہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں آج مذہبی رواداری کا فقدان ہے اور مذہبی اقلیتوں کو ڈرایا دھمکایا اور ستایا جارہا ہے۔ فائیکس جنہوں نے ہلاری کلنٹن کی تائید کا اعلان کیا ہے، اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے، وہ غیرعیسائیت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہم اسے غیرامریکی بھی کہیں تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ امریکی شہریوں کی وضع داری کی بھی ایک تاریخ اور روایت رہی ہے جسے ٹرمپ مسخ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اپنی اس کوشش میں اب تک تو وہ کامیاب ہی نظر آرہے ہیں۔ ٹرمپ نے مذہبی قائدین سے ملاقات کے بعد ایک نئے ایگزیکٹیو بورڈ کی تشکیل کا اعلان کیا تھا جو امریکہ میں عیسائیت اور دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کے بارے میں مشاورتی تعاون کرے۔ بورڈ کی قیادت سابق کانگریسی مشیل باچمپین کریں گی۔ دریں اثناء ٹرمپ نے جو اس وقت مختلف قومی پولس میں اپنی حریف ہلاری کلنٹن سے پیچھے چل رہے ہیں، نے اُمید ظاہر کی کہ نومبر میں منعقد شدنی انتخابات میں ان کی کارکردگی ہلاری سے بہتر ہوگی اور وہ (ٹرمپ) صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہوں گے کیونکہ یہ مقابلہ اب راست نوعیت کا ہوگیا ہے۔ ہلاری اور ٹرمپ دونوں ہی اپنے راستوں میں موجود تمام مشکلات (پرائمریز) کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے اب ایک دوسرے کے مدمقابل ہوگئے ہیں۔ ایگزٹ پولس میں ہلاری کو ٹرمپ کے مقابلے 5.8 زائد پوائنٹس حاصل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT