Tuesday , September 25 2018
Home / مضامین / اور راج کرے گی خلقِ خدا …

اور راج کرے گی خلقِ خدا …

محمد مبشر الدین خرم

اقتدار خواہ کسی کا ہو ‘ ملک چاہے کوئی ہو‘ مقتدر کوئی بھی بنے‘ طاقت کے زور پر حکومتیں نہیں چلائی جا سکتی ۔ تاج اچھالے ہی جاتے ہیں اور تخت گرائے ہی جاتے ہیں اور کوئی بھی اس قوت کی بے آواز لاٹھی سے بچ نہیں سکتا۔ دنیا کی عظیم جمہوریت ہو یا قدیم جمہوریت ان کی باگ ڈور اگر باصلاحیت لوگوں کے ہاتھ میں نہ ہو تو ان جمہوری نظاموں کو بھی سخت گیر حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہی ہے۔باشعور اقوام اندرون ایک سال اپنے مقتدر کو اس کی حیثیت سے واقف کروا دیتے ہیں تو اپنے تفکرات میں مبتلاء ہوتے ہیں انہیں مقتدر کی چالوں کو سمجھنے میں 4تا5سال لگ جاتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو سال گذشتہ 20جنوری 2017 کو حلف لیتے ہوئے دنیا کو آنکھ دکھا رہے تھے انہیں آج اپنے اقتدار کی سالگرہ کا جشن منانے کا موقع نہیں مل پایا ہے بلکہ امریکی اپوزیشن نے ان کے اقتدار کی سالگرہ تقریب کو ملک کے اداروں کا بجٹ منظور نہ کرتے ہوئے بحران کا شکار بنا دیا ۔ ٹرمپ کے اقتدار میں امریکہ اندرون ایک برس ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کا سامنا کر رہاہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک سال کے جشن کے تحائف کی جگہ امریکی عوام کو ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کا تحفہ دیا ہے جو کہ نہ صرف عوام بلکہ تمام محکمہ جات کیلئے تکلیف کا باعث ثابت ہوگا۔واشنگٹن میں موجود ایوان بالا کی مستحکم اپوزیشن کے اس فیصلہ نے دنیا بھر کو ایک مرتبہ پھر امریکہ کی جانب متوجہ کیا ہے اور اپوزیشن کی جانب سے انتظامی امور کے بجٹ و مطالبات زر کو منظور نہ کئے جانے کے ذریعہ یہ پیغام دیا گیا ہے کہ امریکہ میں سب کچھ نہیں بلکہ کچھ بھی ٹھیک نہیں چل رہاہے اور حالات موافق عوام نہیں ہیں۔

حکومت امریکہ بجٹ کی عدم منظوری کے سبب غیر کارکرد ہوچکی ہے اور امریکی حکومت کے محکمہ جات معاشی بحران کے سبب کام کرنا بند کرچکے ہیں۔ امریکہ میںاپوزیشن نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایوان بالا میں بجٹ کو منظوری نہ دیتے ہوئے یہ حکومت کے کام کاج کو روک دیا ہے۔ امریکہ میں تارکین وطن کے سلسلہ میں قانون سازی کے مسئلہ پر جاری مباحث اور ڈیموکریٹس و ریپبلیکین کے درمیان اختلافات کے سبب 1976کے بعد حکومت امریکہ کی کارکردگی کو ٹھپ کرنے والا یہ 19واں ’’شٹ ڈاؤن ہے۔امریکی ایوان نمائندگان میں بجٹ کی منظوری کے بعد جب ایوان بالا میں 16فروری تک کے سرکاری اخراجات کے مطالبات زر پیش کئے گئے تو ایوان بالا میں انہیں مسترد کردیا گیا جس کے سبب جمعہ کی رات سے امریکی حکومت کے محکمہ جات کو اخراجات کی اجازت نہیں رہے گی اور بعض اہم خدمات کے علاوہ مابقی محکمہ جات کی کارکردگی ٹھپ ہو جائے گی۔امریکہ میں مطالبات زر کو منظوری نہ دیئے جانے یا معاشی بل منظور نہ ہونے سے حکومت اقتدار سے بے دخل نہیں ہوتی بلکہ حکومت کے کام کاج روک دیئے جاتے ہیں جبکہ ہندستانی جمہوری نظام میں معاشی بل کو پارلیمنٹ میں منظوری حاصل نہیں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں حکومت کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔امریکہ اقتدار سے بیدخلی کے ذریعہ انتخابات کی راہ اختیار نہیں کرتا بلکہ حکومت کے کام کاج کو روکتے ہوئے اپوزیشن حکومت سے اپنے مطالبات منواتی ہے۔
امریکہ کی تاریخ میں ایسے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں ہوئے اس شٹ ڈاؤن کی وجوہات تارکین وطن کے متعلق موجودہ انتظامیہ کی پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو کہ مارچ میں قانون کی شکل اختیار کرنے جا رہی ہے ۔ امریکی شٹ ڈاؤن کا اثرات کن اداروں پرپڑیں گے اس کا اندازہ لگانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ متحدہ ریاست ہائے امریکہ کے جمہوری نظام کو سمجھا جائے اور ان کے بجٹ کے طریقہ کار کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ امریکہ میں عرصہ دراز سے سال کا مکمل بجٹ منظور کرنے کی روایات ختم ہوچکی ہیں بلکہ ایوان بالا و ایوان نمائندگان میں مختصر مدت کے مطالبات زر پیش کئے جاتے ہیں تاکہ حکومت کے کاروبار جاری رہ سکیں۔اسی طرح ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ یوم ایوان نمائندگان میں 16 فروری 2018 تک کے اخراجات کے لئے بجٹ اور مطالبات زر کو منظور کرواتے ہوئے اسے ایوان بالا کی منظوری کے لئے روانہ کیا گیا لیکن ایوان بالا میں انہیں منظوری نہیں دی گئی جس کے سبب امریکی حکومت کے ادارو ںمیں اب اخراجات کے لئے کوئی بجٹ نہ ہونے کے باعث کام کاج نہیں ہوں گے اور بیشتر محکمہ جات کے ملازمین کو دفتر آنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی۔ہنگامی خدمات جیسے سیکیوریٹی امور‘ صحت سے متعلق ایمرجنسی خدمات اور پوسٹل خدمات جاری رہیں گی اور ان پر محدود اثرات مرتب ہوں گے۔

سابق صدر بارک اوباما کے دور اقتدار میں 2013کے دوران ہوئے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کا مدت 16یوم رہی اور اس دو ہفتہ طویل شٹ ڈاؤن کے سبب امریکہ کو کروڑہا ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ماہرین معاشیات کے مطابق 16یوم کے اس شٹ ڈاؤن کے سبب امریکی GDP میں 0.22 فیصد (یومیہ ) گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اوباما انتظامیہ نے ان حالات سے نمٹنے کے لئے درمیانی حل تلاش کرتے ہوئے معیشت کو مستحکم بنانے اقدامات کئے تھے لیکن موجودہ انتظامیہ میں جو حالات کا سامنا امریکی محکمہ جات کو کرنا پڑ رہاہے ان کے متعلق کہا جارہاہے کہ محکمہ جات کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیشرفت نظر آرہی ہے۔پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ شٹ ڈاؤن شروع ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے مشاور ت کے ذریعہ معاملہ فہمی کی فی الفور کوششوں کا آغاز نہیں کیا گیا ہے اور کہا جارہاہے کہ امریکی معیاری وقت کے مطابق ہفتہ کی دوپہر اس مسئلہ پر نظر ثانی کیلئے حکومت اور اپوزیشن قائدین کا اجلاس منعقد ہوگا اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ اس تعطل کو ختم کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔
قصر صدارت(وائٹ ہاؤز) میں موجود 1715 ملازمین و عہدیداروں میں 1000 سے زائد ملازمین کو شٹ ڈاؤن کے آغاز کے ساتھ ہی اس بات سے مطلع کردیا گیا ہے کہ وہ شٹ ڈاؤن جاری رہنے تک اپنی خدمات پر نہ آئیں۔ اسی طرح امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے تحت دنیا بھر کے کئی ممالک میں چلائے جانے والے پروگرامس کو بھی فوری اثر کے ساتھ روک دیا جائے گا اور دنیا کے بیشتر حصوں میں سفارتخانہ و قونصل خانہ کے ذریعہ انجام دی جانے والی خدمات بھی متاثر ہوں گی۔2013 کے شٹ ڈاؤن کے دوران امریکہ کے میوزیم اور قومی پارکس کو بھی بند کردیا گیا تھا جس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی پر بھی کافی اثر پڑا تھالیکن اس مرتبہ قومی پارکس اور میوزیمس کو کھلا رکھنے کے متعلق غور کیا جا رہا ہے کہ لیکن یہ بات طئے ہے کہ موجودہ صورتحال میں ویزا کی اجرائی جیسی خدمات تعطل کا شکار ہوں گی اور اس کا اثر دنیا بھر میں موجود سفارتخانوں پر دیکھا جائے گا جبکہ 2013کے دوران ہوئے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کا کوئی منفی اثر ہندستانی سفارتخانہ کے تحت موجود قونصل خانوں پر نہیں دیکھا گیا تھا اور سفارتی عہدیداروں نے اپنے طور پر حالات کو قابو میں رکھنے کے اقدامات کئے تھے۔
امریکی حکومت کی تارکین وطن کے متعلق اختیار کی جانے والی پالیسی سے اپوزیشن کی بڑی تعداد کی ناراضگی اور ملک کے کام کاج کو ٹھپ کرنے کے سنگین فیصلہ سے گریز نہ کئے جانے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ آج بھی “Land of Migrants” ہے اور ان کے مفادات کے تحفظ کیلئے اب بھی تارکین وطن کی آواز موجود ہے۔ اپوزیشن ڈیموکریٹ قائدمسٹر شک شومر کے ردعمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ اگلے 5یوم تک یہ شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں لیکن اگر حکومت کی جانب سے حالات کو معمول پر لانے کے اقدامات کرتے ہوئے تعطیل کے دن بھی ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے بجٹ کی منظوری کو یقینی بنایاجاتا ہے تو ممکن ہے کہ حالات تبدیل ہوں لیکن ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کیونکہ ڈیموکریٹس نے اگلے 5یوم کے مباحث کا شیڈول ظاہر کرتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایوان بالا کے ہنگامی اجلاس کے طلب کئے جانے پر بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا کیونکہ جب کوئی بل ایوان بالا میں منظور نہیں کیا جاتاتو ایسی صورت میں اسے دوبارہ ایوان نمائندگان کو روانہ کرنا پڑتا ہے اور ایوان نمائندگان میں مباحث کے بعد اس بل کی منظوری عمل میں لائی جاتی ہے اور اس کے بعد ہی ایوان بالا میں بل کو پیش کرتے ہوئے اس پر مباحث کو ممکن بنایاجاسکتا ہے۔اسی لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہفتہ کے آخری ایام کے تعطیلات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے اس بحران کو حل کرتے ہوئے کام کے ایام کے آغاز تک حالات کو معمول پر لا یا جاسکے گاکیونکہ صرف تارکین وطن کے مسئلہ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف نہیں ہے بلکہ دوسرے امور بھی ہیں جنہیں حل کرنے تک حالات معمول پر آنے کے امکان نہیں ہیں۔
امریکی حکومت کے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کے اثرات 10 لاکھ امریکی سرکاری ملازمین پر پڑنے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیںکیونکہ 2013 میں ہوئے شٹ ڈاؤن کا اثر 8لاکھ 50 ہزار سرکاری ملازمین پر ہوا تھا جس کے سبب یومیہ 2ملین کی خرید و فروخت متاثر ہوئی تھی۔بتایاجاتا ہے کہ 2013کے شٹ ڈاؤن کے سبب امریکی شرح پیداوار پر 2بلین ڈالر کا اثر ہوا تھا اور قومی پارک اور میوزیم کے بند کئے جانے سے 500 ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اسی طرح ٹیکس بازادائیگیاں جو تعطل کا شکار ہوئی تھیں وہ 4بلین ڈالر سے تجاوز کرگئی تھیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اقتدار پر اس کے متحمل اور اہل افراد ہی زیب دیتے ہیں۔جس طرح چائے والا دودھ ‘ شکر‘ پانی ‘ پتی کے فن سے واقف ہو تو چائے بنا سکتا ہے لیکن ملک بنانا اس کے بس کی بات نہیں ہوتی اسی طرح بلڈر مکانات یا فلیٹ کی تعمیرکرسکتا ہے لیکن اس سے ملک کی تعمیر کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ اینٹ‘ کنکر‘ ریت کو جوڑ سکتا ہے اور مکان بنا سکتا ہے لیکن ملک میں معیشت‘ صحت عامہ‘ حقوق ‘ انصاف‘ اصول ‘ پالیسی ‘ فلاح و بہبود کو یکجا کرتے ہوئے ملک کی تعمیر نہیں کرسکتا اسی لئے دنیا کے آگے یہ المیہ ہے کہ دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت اور عظیم جمہوریت دونوں ہی انحطاط کا شکار بنے ہوئے ہیں اور دونوں ہی جمہوریت سے تعلق رکھنے والے عوام کو اپنے انتخاب پر شرمندگی کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ ان کی پالیسیوں سے عاجز آچکے ہیں لیکن خود کوکچھ کرنے سے قاصر محسوس کر رہے ہیںاور اس تلخ حقیقت سے انکاربھی نہیں کیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT