Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی اراضیات پر کمرشیل کامپلکس کی تعمیر کا بہت جلد آغاز

اوقافی اراضیات پر کمرشیل کامپلکس کی تعمیر کا بہت جلد آغاز

حیدرآباد۔/18جنوری ، ( سیاست نیوز) وزیر اقلیتی بہبود محمد احمد اللہ نے اعلان کیا کہ حج ہاوز سے متصل اراضی کے علاوہ خیریت آباد اور بیگم پیٹ پر واقع اوقافی اراضی پر کمرشیل کامپلکس تعمیر کئے جائیں گے اور بہت جلد تعمیری کاموں کا آغاز ہوجائے گا۔ وزیر اقلیتی بہبود نے آج عہدیداروں کے ہمراہ تین اوقافی اراضیات کا معائنہ کیا جہاں کمرشیل کا

حیدرآباد۔/18جنوری ، ( سیاست نیوز) وزیر اقلیتی بہبود محمد احمد اللہ نے اعلان کیا کہ حج ہاوز سے متصل اراضی کے علاوہ خیریت آباد اور بیگم پیٹ پر واقع اوقافی اراضی پر کمرشیل کامپلکس تعمیر کئے جائیں گے اور بہت جلد تعمیری کاموں کا آغاز ہوجائے گا۔ وزیر اقلیتی بہبود نے آج عہدیداروں کے ہمراہ تین اوقافی اراضیات کا معائنہ کیا جہاں کمرشیل کامپلکس کی تعمیر کی تجویز ہے۔حج ہاوز سے متصل اراضی پر کامپلکس کے تعمیری کاموں کا وزیر اقلیتی بہبود نے معائنہ کیا اور اس کی عاجلانہ تکمیل کیلئے مزید 10کروڑ روپئے بطور قرض جاری کرنے سے اتفاق کیا۔ حج ہاوز سے متصل 3800 مربع گز اراضی پر سات منزلہ کامپلکس کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ ایک لاکھ مربع فیٹ سے زاید رقبہ پر یہ کامپلکس تعمیر کیا جارہا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اب تک 16کروڑ روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں اور مابقی کاموں کی تکمیل کیلئے مزید 10کروڑ روپئے کی ضرورت ہوگی۔

وزیر اقلیتی بہبود نے ریاستی حکومت یا پھر سنٹرل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ 10کروڑ روپئے بطور قرض حسنہ فراہم کرنے سے اتفاق کیا تاکہ کامپلکس کی تعمیر جلد مکمل ہوسکے۔ اس کامپلکس کی تکمیل سے وقف بورڈ کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے حج ہاوز کے جنوبی حصہ میں واقع 3600 مربع گز کھلی اراضی کا بھی معائنہ کیا اور وہاں کمرشیل کامپلکس یا پھر عازمین حج کے استعمال کیلئے عمارت کی تعمیر کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اقلیتی بہبود نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس کھلی اراضی پر تعمیر کے سلسلہ میں انہیں تجاویز پیش کریں تاکہ جلد ہی تعمیری کاموں کا آغاز ہوسکے۔ انہوں نے خیریت آباد روبرو شاداں کالجس واقع 504مربع گز اوقافی اراضی کا بھی معائنہ کیا جوکہ بشیر احمد وقف کے تحت ہے۔ 584 گز میں سے 80گز اراضی سڑک کی توسیع کیلئے استعمال کی گئی لہذا محکمہ اقلیتی بہبود 504 مربع گز پر کامپلکس کی تعمیر کا منصوبہ رکھتا ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود نے اعلان کیا کہ 10لاکھ روپئے سے اندرون ایک ہفتہ کمرشیل کامپلکس کے تعمیری کاموں کا آغاز کردیا جائے گا۔ اس اوقافی اراضی کا منشائے وقف اقلیتی طلبہ کو اسکالر شپ کی فراہمی اور غریب لڑکیوں کی شادیوں کی انجام دہی ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود نے بیگم پیٹ میں واقع 1100مربع گز اوقافی اراضی کا بھی معائنہ کیا جس میں 2011تک ٹاسک فورس کا آفس کام کررہا تھا۔ 150مربع گز اراضی سڑک کی توسیع کیلئے حکومت کو دی گئی ہے۔ یہ اراضی عاشور خانہ نعل مبارک پتھر گٹی کے تحت وقف ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود نے اس اراضی پر بھی جلد کامپلکس کی تعمیر کا کام شروع کرنے پلان کی تیاری کی ہدایت دی۔ اس اراضی پر ایک خانگی کمپنی کے ہورڈنگ سے ماہانہ 44ہزار روپئے کی آمدنی وقف بورڈ کو آرہی ہے۔ 2011ء تک یہ رقم ٹاسک فورس استعمال کررہی تھی۔ بعد میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اقلیتی بہبود نے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ یہ دونوں حرکیاتی عہدیدار اگر ایک سال قبل انہیں مل جاتے تو آج محکمہ کی صورتحال کچھ اور ہوتی۔ احمد اللہ نے کہا کہ یہ دونوں عہدیدار ان کے مضبوط بازوؤں کی طرح ہیں اور انہیں یقین ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور بالخصوص اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں احمد اللہ نے جذباتی ہوکر کہا کہ اگر ان عہدیداروں کے تبادلے کی کوشش کی جائے گی تو میں وزارت سے مستعفی ہوجاؤں گا۔ انہوں نے مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی اوقافی جائیدادوں کے حصول کیلئے اسپیشل آفیسر شیخ محمد اقبال کی کارروائی کی مکمل تائید کی اور کہا کہ اس طرح کے غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کیلئے وہ بورڈ کو مکمل تعاون کریں گے۔احمد اللہ نے بتایا کہ بہت جلد وزیر مال کے ساتھ ضلع کلکٹر سے ویڈیو کانفرنس کی جائے گی جس میں محکمہ مال کے عہدیداروں کو اوقافی جائیدادوں پر قبضوں کی برخواستگی کیلئے ضروری ہدایات جاری کی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کلکٹر سے اس بات کی خواہش کی جائے گی کہ وہ ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسرس کو تمام زیر التواء اوقافی امور کی جلد یکسوئی اور ہر ماہ وقف ٹاسک فورس کا اجلاس طلبی کو یقینی بنائیں۔وزیر اقلیتی بہبود کے اس دورہ میں اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور اور وقف بورڈ کے دیگر عہدیدار شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT