Thursday , May 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی اراضیات کی تباہی کے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت

اوقافی اراضیات کی تباہی کے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت

درگاہ حضرت میر محمود ؒکی وقف اراضی پر جعلی این او سی کی جانچ پڑتال، محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر
حیدرآباد۔/25نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اوقافی اراضیات کی تباہی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ حضرت میر محمود کی اوقافی اراضی کو غیر اوقافی ثابت کرنے کیلئے جو جعلی این او سی جاری کیا گیا ہے اس کی تفصیلی جانچ کی جائے گی۔ محمد محمود علی نے بورڈ کی ان سرگرمیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک طرف حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کررہی ہے تو دوسری طرف وقف مافیا اور اس سے مربوط بورڈ کے بعض عناصر جائیدادوں کی تباہی کا سامان کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اراضی سروے میں اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں تمام ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی این او سی کی اجرائی کا جو معاملہ منظر عام پر آیا ہے وہ دراصل حکومت کے اراضی سروے کا نتیجہ ہے، اگر یہ سروے نہیں کیا جاتا تو یہ اسکام منظر عام پر نہ آتا۔ انہوں نے کہا کہ سروے کی تکمیل تک اس طرح کے اور بھی معاملات منظر عام پر آسکتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے وقف بورڈ کے اجلاس میں تحقیقات سے متعلق فیصلے کا خیرمقدم کیا اورکہا کہ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کا تحفظ کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملہ میں بورڈ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ چیف منسٹر نے حالیہ جائزہ اجلاسوں میں وقف بورڈ کے معاملہ میں خصوصی دلچسپی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے سیکشنوں کو مہربند کرنے کا چیف منسٹر کا فیصلہ دوراندیشی پر مبنی ثابت ہوا ہے۔ آج جو اسکام منظر عام پر آیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بورڈ میں کس طرح کی غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ سروے کی تکمیل تک کئی اہم اراضیات کا تحفظ ممکن ہوسکے گا۔ اسی دوران کئی نامور مسلم خاندانوں کی جانب سے ڈپٹی چیف منسٹر سے نمائندگی کی گئی کہ وقف سروے میں ان کی اراضیات کا تحفظ کیا جائے۔ نوابوں اور دیگر معزز خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زمینات اضلاع میں موجود ہیں لیکن کئی برسوں تک انہوں نے رُخ نہیں کیا جس کے باعث غیر مجاز قبضے ہوچکے ہیں۔ جاریہ اراضی سروے سے استفادہ کرتے ہوئے ایسے خاندانوں کو چاہیئے کہ وہ ضلع کلکٹر اور متعلقہ ایم آر او سے رجوع ہوکر اپنی اراضی کے دستاویزات اور دعویداری پیش کریں۔ حکومت نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر مجاز قابضین کے نام ریکارڈ میں شامل کرنے کے بجائے حقیقی مالکین کے نام شامل کریں جن کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔ ایک مرتبہ ریکارڈ میں نام کی شمولیت کے بعد دیگر تنازعات کی یکسوئی بعد میں کی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT