Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / اوقافی اراضی کو خانگی قرار دیتے ہوئے این او سی کی اجرائی

اوقافی اراضی کو خانگی قرار دیتے ہوئے این او سی کی اجرائی

 

وقف بورڈ کو 4 ایکر اراضی کا نقصان
محمد سلیم کو عہدیداروں نے دھوکہ دیا
بورڈ کے اجلاس میں آج گرما گرم مباحث کا امکان
چیف ایگزیکٹیو آفیسر کا رول شک کے دائرے میں

حیدرآباد۔ 24نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں دھاندلیاں اور بے قاعدگیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے اراضی سروے کے دوران وقف بورڈ عہدیداروں کا ایک سنگین معاملہ منظر عام پر آیا جس میں 4 ایکر 5 گنٹہ وقف اراضی کو خانگی اراضی قرار دیتے ہوئے نہ صرف احکامات جاری کیے گئے بلکہ گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ وقف بورڈ میں اراضیات کے ریکارڈ کے غائب ہونے یا پھر ان میں الٹ پھیر کی شکایات عام ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے بورڈ کی موجودہ صورتحال اور انہیں موصولہ شکایات کی روشنی میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 9 نومبر کو بورڈ کے تمام سیکشنوں کو مہربند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ حکومت کے اس فیصلے سے بورڈ میں موجودہ ریکارڈ تو محفوظ ہوگیا لیکن مئی میں رازداری کے ساتھ انجام دیاگیا اسکام اراضی سروے میں بے نقاب ہوگیا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی کی دستخط سے 26 مئی 2017ء کو کلکٹر ملکاجگری ضلع کو مکتوب روانہ کیا گیا جس کی کاپی سیاست کے پاس دستیاب ہے۔ اس مکتوب میں سروے نمبرات 648, 659 اور 660 کے تحت موجود اراضیات کو غیر اوقافی قرار دیا گیا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا کہ تینوں سروے وقف کے تحت نہیں آتے اور بورڈ نے اس معاملے جانچ کے بعد ہی یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ مکتوب میں ملکاجگری کے ساکن نکا نرسنگ رائو کی درخواست کا حوالہ دیا گیا جو یکم مئی 2017ء کو داخل کی گئی۔ اس کے علاوہ آندھراپردیش وقف بورڈ کی جانب سے 23 جون 1969ء کو منظورہ قرارداد کا بھی حوالہ شامل ہے۔ نکا نرسنگ رائو نے یکم مئی کو درخواست دی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے 26 مئی کو تینوں سروے نمبرات کو غیر اوقافی قرار دیتے ہوئے ضلع کلکٹر کو مکتوب روانہ کردیا۔ سروے نمبر 468 کے تحت 1 ایکر 28 گنٹے، سروے نمبر 659 کے تحت 31 گنٹے اور سروے نمبر 660 کے تحت 1 ایکر 26 گنٹے اراضی کو غیر اوقافی قرار دے دیا گیا ہے۔ نکانرسنگ رائو نے ان تینوں اراضیات کے سلسلہ میں این او سی جاری کرنے کی درخواست دی تھی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ تمام کارروائی اس قدر رازداری میں انجام دی گئی کہ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کو بھی اس اسکام کا پتہ نہیں چل سکا۔ این او سی کی اجرائی اور دیگر اہم معاملات میں فائلوں کو صدرنشین کی منظوری لازمی ہوتی ہے لیکن اس فائل پر صدرنشین کے دستخط نہیں ہیں کیوں کہ یہ فائل انہیں پیش کیے بغیر ہی مکتوب ضلع کلکٹر کو روانہ کردی گئی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وقف ریکارڈ میں یہ سروے نمبرات درگاہ حضرت میر محمود پہاڑی کی اوقافی اراضی کے تحت موجود ہیں۔ آندھراپردیش گزٹ مورخہ 9 فبروری 1989 کے سیرئل نمبر 2893 کے تحت درگاہ حضرت میر محمود پہاڑی کے تحت 328 ایکرس 19 گنٹہ اراضی درج ہے۔ گزٹ نوٹیفکیشن میں ان تمام سروے نمبرات کی نشاندہی کی گئی جس کے تحت یہ اراضی موجود ہے۔ اس فہرست میں مذکورہ تینوں سروے نمبرات بھی موجود ہیں جس کی اراضی کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے غیر اوقافی قرار دے دیا ہے۔ عام طور پر وقف ریکارڈ یا گزٹ کے بغیر اس طرح اسکام انجام دیا جاسکتا ہے لیکن یہاں تو گزٹ کی موجودگی کے باوجود چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اپنے ہی ریکارڈ کو جھٹلاتے ہوئے کلکٹر کو مکتوب روانہ کردیا۔ اطلاعات کے مطابق اس معاملت میں وقف بورڈ سے وابستہ افراد ملوث ہیں جو گزشتہ دو بورڈ میں رکن کی حیثیت سے برقرار رہ چکے ہیں ۔ وقف بورڈ میں این او سی کی اجرائی کے لیے سخت ترین شرائط اور فبروری میں بورڈ کی تشکیل کے بعد سے شاید یہ پہلا این او سی ہے جو بورڈ یا صدرنشین کی منظوری کے بغیر ہی جاری کردیا گیا۔ بورڈ کے موجودہ صدرنشین محمد سلیم پہلے ہی دن سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اور انہوں نے کئی اہم جائیدادوں کے تحفظ میں کامیابی حاصل کی۔ وہ اس ذمہ داری کی تکمیل کے لیے بورڈ سے کوئی الائونس یا تنخواہ حاصل کئے بغیر پوری دیانتداری کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن ان کی چوکسی کے باوجود عہدیداروں نے پس پردہ یہ اسکام انجام دے دیا۔ بورڈ کی اسی حالت کے بارے میں چیف منسٹر کو اطلاع ملنے پر وہ بورڈ کی تحلیل کے فیصلے تک پہنچ چکے تھے۔ تاہم حکومت کی بدنامی سے بچنے کے لیے تحلیل کے بجائے ریکارڈ کو مہربند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں بورڈ میں اس طرح کے کئی اسکام خفیہ طور پر انجام دیئے گئے جن میں لاکھوں روپئے کی معاملت ہوئی ہے۔ ان معاملتوں میں بورڈ کے عہدیداروں کے علاوہ وقف مافیا سے وابستہ افراد بھی ملوث بتائے گئے ہیں۔ تازہ ترین اسکام میں جس اراضی کو غیر اوقافی قرار دے دیا گیا اس پر آبادی بس چکی ہے اور غیر مجاز قابضین نے اسی طرح وقف بورڈ سے یہ مکتوب حاصل کرلیا۔ مکتوب کی نقل آر ڈی او ملکاجگری ، ایم آر او ملکاجگری، سب رجسٹرار ملکاجگری کے علاوہ انسپکٹر آڈیٹر وقف ملکاجگری کو روانہ کی گئی لیکن حیرت کی بات ہے کہ ریکارڈ کی موجودگی کے باوجود وقف بورڈ کے انسپکٹر آڈیٹر نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی۔ وقف بورڈ میں اسکام اور دھاندلیاں کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ ہفتے درگاہ حضرات یوسفینؒ کے غلوں کی کشادگی میں کرنسی نوٹوں کی لوٹ کو سیاست نے بے نقاب کیا۔ تازہ ترین اسکام پر کل ہفتہ کو منعقد ہونے والے وقف بورڈ کے اجلاس میں گرما گرم مباحث کا امکان ہے اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ معاملہ شدت اختیار کرے تو حکومت کو مداخلت کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور حکومت چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ یہ اسکام کس طرح وجود میں آیا اور اس کے پس پردہ کون عناصر ملوث ہیں اس کا انکشاف صرف اور صرف تحقیقات کے ذریعہ ممکن ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وقف بورڈ کے اجلاس میں اس اسکام پر ارکان کا ردعمل کیا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT