Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی اراضی کے تحفظ کے لیے حکومت کی سنجیدگی کا امتحان

اوقافی اراضی کے تحفظ کے لیے حکومت کی سنجیدگی کا امتحان

آئندہ ماہ لینکو ہلز مقدمہ کی اہم سماعت ، راجگوپال کی جانب سے چیف منسٹر کی ستائش پر کئی قیاس آرائیاں
حیدرآباد۔/14جنوری، ( سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ اوقافی اراضی کے مسئلہ پر کیا حکومت اور لینکو راجگوپال کے درمیان کوئی معاہدہ طئے پاچکا ہے؟۔ اس بات کا اندیشہ اس وقت پیدا ہوا جب تلنگانہ کے کٹر مخالف اور اوقافی اراضی پر قابض لینکو راجگوپال نے آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زبردست ستائش کی۔ درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی 1500 ایکر وقف اراضی  کو کانگریس حکومت نے مختلف خانگی اداروں کے حوالے کردیا تھا۔ اگرچہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سپریم کورٹ میں حکومت کی دعویداری سے دستبرداری اختیار کرنے اور اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس جانب آج تک کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ ایسے وقت جبکہ فبروری کے تیسرے ہفتہ میں منی کنڈہ وقف اراضی کے بارے میں سپریم کورٹ میں قطعی سماعت مقرر ہے۔ لینکو راجگوپال نے چیف منسٹر کی زبردست ستائش کرتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ شبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اور راجگوپال کے درمیان کوئی معاہدہ طئے پاچکا ہے جس کے تحت حکومت وقف اراضی کو دوبارہ حاصل کرنے کی مساعی نہیں کرے گی۔ راجگوپال سے کون واقف نہیں، تلنگانہ تحریک کے دوران انہوں نے نہ صرف علحدہ تلنگانہ کی مخالفت کی بلکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی صورت میں سیاسی سنیاس لینے کا اعلان کیا تھا۔ تحریک کے دوران کے سی آر اور ان کے ساتھیوں نے بھی لینکو راجگوپال پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور ان پر مخالف تلنگانہ تحریک پر رقومات خرچ کرنے کا الزام عائد کیا اب ایسے شخص کی جانب سے چیف منسٹر کی ستائش پر عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ کہیں اوقافی اراضی کیلئے کوئی ڈیل تو نہیں ہوگئی۔ راجگوپال نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آج تلنگانہ کے یادادری ضلع میں لکشمی نرسمہا سوامی مندر کے درشن کئے اور اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عالمی معیار کا مقدس مقام بنانے کیلئے چیف منسٹر کی کاوشوں کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ اس طرح کے سی آر کا نام تاریخ میں لکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ لینکو ہلز اور دیگر اداروں کو الاٹ کردہ اوقافی اراضی کا معاملہ سپریم کورٹ میں سماعت کے اہم مرحلہ میں ہے۔ چیف منسٹر نے ابتداء میں اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے اراضی پر جو دعویداری پیش کی گئی ہے اس سے دستبرداری اختیار کرلی جائے گی۔ بعد میں انہوں نے منی کنڈہ میں واقع 800 ایکر کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا بھی تیقن دیا تھا۔ اسمبلی میں دیئے گئے تیقنات کا کوئی اثر نہیں ہوا برخلاف اس کے حکومت کی جانب سے اوقافی اراضی کو سرکاری قرار دینے کیلئے عدالت میں زبردست پیروی کی جارہی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی آمدنی میں اضافہ کے ذریعہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حکومت اپنے وعدوں سے انحراف کررہی ہے۔ راجگوپال کی جانب سے چیف منسٹر کی ستائش اور تلنگانہ کی مندر کے درشن نے سیاسی حلقوں میں کئی قیاس آرائیوں کو پیدا کیا ہے۔ اب جبکہ آئندہ ماہ سپریم کورٹ میں لینکو ہلز مقدمہ کی اہم سماعت ہے حکومت کی سنجیدگی کا امتحان ہے کہ وہ اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کرے گی۔ سپریم کورٹ نے اسی مقدمہ میں عبوری احکامات کے ذریعہ لینکو ہلز کو پابند کیا تھا کہ وہ فلاٹس کی فروخت کے معاہدات میں اس بات کو شامل کریں کہ یہ معاملت سپریم کورٹ کے قطعی احکامات کے تابع ہوگی۔ لینکو ہلز نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی اور اشتہارات میں اس کا کہیں بھی تذکرہ نہیں کیا۔ وقف بورڈ کی جانب سے لینکو ہلز کے اشتہارات اور عدالتی احکام کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام اپیلوں کی فبروری کے تیسرے ہفتہ میں سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ 21 فبروری کو اس مقدمہ میں سپریم کورٹ کوئی اہم فیصلہ سنائے گا۔

TOPPOPULARRECENT