Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی املاک کو سرکاری ریکارڈ میں بحیثیت وقف شامل کرنے کی مساعی

اوقافی املاک کو سرکاری ریکارڈ میں بحیثیت وقف شامل کرنے کی مساعی

تین متولیوں کی معطلی کی معیاد میں توسیع : منیر الدین مختار کے خلاف مقدمہ قانونی رائے پر مشتمل : شیخ محمداقبال کی پریس کانفرنس

تین متولیوں کی معطلی کی معیاد میں توسیع : منیر الدین مختار کے خلاف مقدمہ قانونی رائے پر مشتمل : شیخ محمداقبال کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال ( آئی پی ایس) نے بتایا کہ حج کمیٹی کے سابق رکن و کوآرڈینیٹر سید منیر الدین احمد مختار کے خلاف بڑے پیمانے پر رقمی دھاندلیوں کے سلسلہ میں جو مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ قانونی رائے اور آڈیٹر کی رپورٹ کی بنیاد پر ہے۔ وقف بورڈ نے حال میں جن تین اہم درگاہوں کے متولیوں کو معطل کیا تھا ان کی معطلی کی میعاد میں توسیع کرکے جامع تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ شیخ محمد اقبال نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حج کمیٹی میں منیر الدین مختار کی جانب سے کی گئی مختلف بے قاعدگیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے تین مختلف مواقع پر حاصل کردہ بھاری رقومات کا حوالہ دیا جن کے خرچ کے بارے میں ابھی تک وقف بورڈ کو ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 4لاکھ 21ہزار 800روپئے، ایک لاکھ 14ہزار 900 اور 59 ہزار 513روپئے کے خرچ کے بارے میں منیر الدین مختار نے ابھی تک حج کمیٹی میں ووچرس یا رسائید داخل نہیں کئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سرکاری رقومات کے خرچ کے بارے میں جب تک رسائید یا ووچرس داخل نہ کئے جائیں یہ رقم زیر التواء رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4لاکھ 90ہزار روپئے کا ایک اور معاملہ تحقیقات کا منتظر ہے۔ شیخ محمد اقبال نے جولائی2003ء میں اسوقت کے پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود پال بھویاں کی جانب سے جاری کردہ ایک مکتوب کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ایک معاملہ میں کسی کارروائی کی ضرورت نہیں اور وہ منیر الدین مختار کے جواب سے مطمئن ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ پرنسپل سکریٹری کا یہ مکتوب 4لاکھ 90ہزار کے معاملہ میں ہے جس کے تحت ایک حج وفد کو روانہ کیا گیا تھا جس میں بعض صحافی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ پرنسپل سکریٹری کا مکتوب قواعد کے برخلاف ہے۔ وہ اس طرح کا مکتوب جاری نہیں کرسکتے۔حج وفد کی روانگی کے سلسلہ میں جو رقم حاصل کی گئی تھی ان کے ووچرس کے ادخال کا معاملہ بھی زیر التواء ہے۔ درگاہ حضرات یوسفینؒ ، درگاہ آستانہ مخدوم الٰہیؒ کڑپہ ( امین پیر ) اور درگاہ بابا فخر الدین ؒ پینو کونڈہ کے متولیوں کی معطلی میں توسیع کی گئی ہے۔ ان متولیوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا تاہم صرف دو متولیوں نے جواب داخل کیا۔

ان کے جوابات اطمینان بخش نہیں ہیں لہذا معطلی میں توسیع کرکے سیکشن 37کے تحت جامع تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الزامات ثابت ہونے پر متولیوں کے خلاف فوجداری دفعات کے علاوہ انسداد رشوت ستانی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ درگاہ حضرت خواجہ رحمت اللہ نائب رسول ( رحمت آباد ) اور درگاہ بارہ شہیدؒ ( نیلور ) کے انتظامات وقف بورڈ کے تحت لینے کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ رحمت آباد کی درگاہ مدراس اسٹیٹ میں کسی تنازعہ کے باعث ایک جج کے زیر انتظام ہے اور اس کے تحت 2کروڑ 70لاکھ روپئے بینک اکاؤنٹ میں ہیں۔ عدالت نے درگاہ کو وقف بورڈ کی تحویل میں دینے سے اتفاق کرلیا ہے۔ درگاہ حضرت بارہ شہیدؒ کے تحت 51لاکھ روپئے بینک اکاؤنٹ میں ہیں اور اس کا انتظام تحصیلدار کے تحت ہے۔ اس کے انتظام کے حصول کیلئے ضلع کلکٹر نیلور کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وشاکھاپٹنم میں درگاہ حضرت اسحاق مدنی ؒ کے تحت 2ہزار ایکر اراضی پر ناجائز قابضین ہیں۔ حکومت نے 800ایکر اراضی گنگاورم پورٹ کیلئے الاٹ کی ہے۔

اس اراضی کو وقف کی حیثیت سے سرکاری ریکارڈ میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ 2جون کو ریاست کی تقسیم سے قبل وہ تمام اضلاع میں اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کو سرکاری ریکارڈ میں بحیثیت وقف شامل کرنے کی مساعی کررہے ہیں۔اس سلسلہ میں تمام ضلع کلکٹرس اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو مکتوب روانہ کئے جارہے ہیں۔ ہر ضلع میں ناجائز قابضین کے خلاف پولیس میں شکایات درج کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور واٹر ورکس نے جو اوقافی اراضیات حاصل کی ہیں ان کا معاوضہ حاصل کرنے عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا۔ کمشنر جی ایچ ایم سی نے معاوضہ کی ادائیگی سے اتفاق کرلیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT