Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوںکو ترقی دینے کے منصوبے پر عمل سے پہلے تعطل

اوقافی جائیدادوںکو ترقی دینے کے منصوبے پر عمل سے پہلے تعطل

حکومت کی جانب سے30سالہ لیز پر دینے کیلئے نشاندہی کردہ جملہ 11میں 9اراضیات تنازعات کے شکار
حیدرآباد۔13 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافے کے لیے 11 مختلف اوقافی اراضیات کو 30 سالہ لیز پر دینے کا منصوبہ بنایا ہے تاہم اس منصوبے پر عمل آوری عملاً تعطل کا شکار ہوچکی ہے۔ حکومت نے جن جائیدادوں اور اراضیات کو خانگی اداروں کے حوالے کرنے کے لیے نشاندہی کی ان میں سے 9 جائیدادیں کسی نہ کسی تنازعہ میں پھنسی ہوئی ہیں جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ کے عہدیدار بھی گلوبل ٹنڈرس طلب کرنے کے سلسلہ میں پس و پیش کا شکار ہیں۔ نئے وقف قانون کے تحت گلوبل ٹنڈرس کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں یا اراضیات کو 30 سالہ لیز پر دینے کی گنجائش موجود ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود نے حکومت کو تقریباً 32 جائیدادوں اور اراضیات کی نشاندہی کی تاکہ انہیں 30 سالہ لیز پر حوالے کیا جاسکے تاہم حکومت نے ان میں سے 11 اراضیات کی منظوری دی ہے۔ حج ہائوز کی موجودہ عمارت سے متصل زیر تعمیر کامپلکس اور کھلی اراضی کے ماسوا دیگر 9 جائیدادوں کے معاملے میں تنازعات جاری ہیں۔ حکومت نے ٹولی چوکی کے قریب چوکھنڈی کی 1500 مربع گز اراضی، آئوٹر رنگ روڈ جنکشن کی ایک ایکڑ اراضی، جی ایم آر ایرواسپیس پارک کے روبرو 10 ایکڑ اراضی، درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ کی 6 ہزار مربع گز اراضی، معین منزل واقع عابڈس کی 2 ہزار مربع گز اراضی، مسجد عالم گیر ہائی ٹیکس کی 1.20 ایکڑ اراضی، ٹاسک فورس آفس بیگم پیٹ کی 1500 مربع گز اراضی، شاداں کالج خیریت آباد کے روبرو 500 مربع گز اور مامڑ پلی میں 10 ایکڑ اراضی کو لیز پر دیئے جانے کی منظوری حکومت سے حاصل ہوئی ہے۔ مسجد عالمگیر ہائی ٹیکس کی اراضی پر حکومت اسلامک سنٹر کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے لیے 6 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی گئی۔ اب جبکہ اس اراضی کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے لہٰذا اسلامک سنٹر کی تعمیر کے آغاز میں تاخیر ہوسکتی ہے یا پھر حکومت کسی اور مقام پر اراضی کی نشاندہی کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ معین منزل عابڈس کا معاملہ بھی عدالت میں زیر دوران ہے۔ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ کی اراضی پر مقامی سیاسی جماعت کے رکن اسمبلی کی جانب سے اسکول کے قیام کا منصوبہ ہے جو حکومت کی منظوری کا منتظر ہے۔ ایسی صورت میں 6 ہزار مربع گز کے منصوبے کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق گلوبل ٹنڈرس کے طریقہ کار اور شرائط و ضوابط کے سلسلہ میں تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن اور آر ٹی سی سے گلوبل ٹنڈرس کا نمونہ طلب کیا گیا ہے۔ ان دونوں اداروں کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کئے گئے تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ تلنگانہ وقف بورڈ کو گلوبل ٹنڈرس کے سلسلہ میں یہ پہلا تجربہ ہوگا اور یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے اوقافی جائیدادوں کو ترقی دینے کے منصوبے کو ہری جھنڈی دکھائی ہے لیکن اس منصوبے کے تحت شامل کی گئی جائیدادوں اور اراضیات کا تنازعہ میں ہونا اس منصوبے کی کامیابی پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ حج ہائوز کے دونوں جانب موجود علی الترتیب زیر تعمیر کامپلکس اور 3500 مربع گز کھلی اراضی کے حصول کے لیے بعض خانگی اداروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زیر تعمیر کامپلکس کی ڈیزائننگ کچھ اس طرح کی ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اسے حاصل کرنے میں تامل کررہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عمارت کے روبرو میٹرو ریل کے راستے کے سبب اس زیر تعمیر کامپلکس کو لیز پر دیئے جانے میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ حکومت نے دیگر اوقافی اراضیات سے متعلق تجاویز کو منظوری نہیں دی جبکہ ان میں کئی غیر متنازعہ اراضیات موجود ہیں۔ موجودہ 11 جائیدادوں اور اراضیات کو لیز پر دینے کا عمل شروع کرنے سے قبل وقف بورڈ کو انہیں اپنے کنٹرول میں حاصل کرنا ہوگا۔ مختلف تنازعات کے سبب یہ کام آسان نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT