Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں اور اراضیات پر قبضہ جات میں برسر اقتدار پارٹی قائدین کے نام

اوقافی جائیدادوں اور اراضیات پر قبضہ جات میں برسر اقتدار پارٹی قائدین کے نام

وقف بورڈ اراضیات کی بازیابی میں ناکام ، سرکاری محکمہ جات کا بورڈ سے عدم تعاون
بعض اراضیات فروخت

حیدرآباد ۔13۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں اور اراضیات پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدین کے نام بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ ورنگل میں ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ریڈیا نائک کے فرزند بی لال نائک نے اسٹیشن گھن پور منڈل میں تین ایکر 9 گنٹے اوقافی اراضی پر قبضہ کرلیا اور گزشتہ تین برسوں سے وقف بورڈ اراضی کی بازیابی میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ورنگل ضلع میں ہی دیگر اوقافی اراضیات پر دیگر افراد کی جانب سے ناجائز قبضے کئے گئے اور وقف ریکارڈ میں تفصیلات درج ہونے کے باوجود وقف بورڈ اپنی اراضی حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ بورڈ کی جانب سے قابضین کے خلاف نوٹس کی اجرائی اور پولیس میں شکایت پر اکتفا کیا گیا لیکن سرکاری محکمہ جات کی جانب سے وقف بورڈ سے عدم تعاون کا رویہ برقرار ہے جس کے نتیجہ میں اوقافی اراضیات تباہ ہورہی ہیں۔ وقف بورڈ کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے نام سے جون 2014 ء میں رکن اسمبلی ٹی آر ایس ریڈیا نائک کے فرزند کو نوٹس جاری کی گئی اور انہیں وقف بورڈ کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تاکہ اسٹیشن گھن پور کی 3 ایکر 9 گنٹے اوقافی اراضی کی تحقیقات کے سلسلہ میں پیشرفت ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ 5 جولائی 2014 ء کو تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کی نوٹ کے باوجود رکن اسمبلی کے فرزند پیش نہیں ہوئے۔ اراضی کی ملکیت سے متعلق دستاویزات کے ساتھ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے روبرو پیش ہونے کیلئے دو مرتبہ موقع دیا گیا لیکن سیاسی سرپرستی کی آڑ میں رکن اسمبلی کے فرزند نے وقف بورڈ رجوع ہونے سے انکار کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کی جانب سے اس معاملہ میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ وقف گزٹ کے مطابق جس اراضی پر قبضہ کیا گیا، وہ وقف ہے۔ اس کے علاوہ ہنمکنڈہ میں عیدگاہ لشکر بازار اور جامع مسجد مچھلی بازار کی اوقافی اراضی کو ایک شخص نے غیر قانونی طور پر فروخت کردیا۔ 2014 ء میں پولیس اسٹیشن کاکتیہ یونیورسٹی میں شکایت درج کی گئی لیکن آج تک اس معاملہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ انسپکٹر آڈیٹر وقف نے اراضی کے معائنہ کے بعد غیر قانونی فروخت کی توثیق کردی ہے۔ وقف گزٹ کے سیریل نمبر 13369 کے تحت اس اراضی کی تفصیلات درج ہیں۔ پولیس کو وقف گزٹ اور وقف ایکٹ کے علاوہ انسپکٹر آڈیٹر کی رپورٹ بھی روانہ کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ آج تک بھی پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ ہنمکنڈہ بس اسٹانڈ کے روبرو مسلم قبرستان ہیرا شاہ میاں ٹیکری کی اراضی پر ٹی بوچی راجہ نامی شخص نے قبضہ کرتے ہوئے ہمہ منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی کوشش کی ۔ حکومت کے اراضی سروے میں سروے نمبر 895 کے تحت قبرستان کی اراضی کو وقف کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے لیکن وقف بورڈ ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی سے قاصر ہیں۔ سروے نمبرات 895 کے تحت 19 گنٹے اور 897 کے تحت 36 گنٹے اراضی موجود ہیں۔ ضلع وقف کمیٹی ورنگل نے اس اراضی کے تحفظ کیلئے ضلع کلکٹر اور وقف بورڈ سے بارہا نمائندگی کی۔ اب جبکہ اراضی سروے میں سروے نمبر 895 وقف ثابت ہوچکا ہے، وقف بورڈ کو فوری کارروائی کرنی چاہئے۔ اسی طرح ورنگل ضلع کی مسجد ایوان شاہی صوبیداری کی اوقافی اراضی پر وقف بورڈ کی اجازت کے بغیر تعمیری کام کا آغاز کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں متعلقہ انسپکٹر آڈیٹر نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو گزشتہ سال رپورٹ پیش کی اور اس وقت کے اسپیشل آفیسر عمر جلیل نے مسجد کا انتظام بورڈ کی راست نگرانی میں لینے کی ہدایت دی تھی لیکن آج تک اس سلسلہ میں کارروائی نہیں ہوسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع ورنگل میں اس طرح کی کئی اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں۔ مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ ضلع کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں۔

TOPPOPULARRECENT