Wednesday , November 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے حکومت سے خواہش، ورنگل میں امیر جماعت اسلامی حامد محمد خاں کی پریس کانفرنس

ہنمکنڈہ۔/22مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بی سی کمیشن کی سفارشات کو قبول کرتے ہوئے پسماندہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے جائیں ۔ اردو میڈیم کیلئے علحدہ ڈی ایس سی منعقد کیا جائے۔ اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف سی بی آئی انکوائری کروائی جائے۔ وقف جائیدادوں کی تفصیل آن لائن فراہم کیا جائے، وقف ٹریبونل کا آغاز کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار جناب حامد محمد خان امیر جماعت اسلامی ریاست تلنگانہ و اڑیسہ نے اسلامک انفارمیشن سنٹر رائے پورہ ہنمکنڈہ میں اخباری نمائندوں کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر سید دستگیر ناظم ضلع ورنگل اربن محمد خالد سعید ناظم ضلع محبوب آباد، شیخ بندگی امیر مقامی ہنمکنڈہ، مولانا صابر عالم امیر مقامی ورنگل موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد محمد خان نے کہا کہ ریاستی حکومت کو چاہیئے کہ بی سی کمیشن نے جو سفارشات کی ہیں پسماندہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے تعلق سے اس پر فوری عملی اقدامات اٹھائیے جائیں۔ کمیشن نے رپورٹ دی ہے کہ ریاست تلنگانہ میں 90فیصد مسلمان سطح غربت سے نیچے زندگی گذاررہے ہیں۔ ان مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے جائیں۔ جماعت اسلامی اس کی تائید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی کمیشن کی سفارشات کو 9ویں شیڈول میں اندراج کروانا حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اردو میڈیم مدارس کا انتہائی برا حال ہے، کئی مدارس میں ایک تا دو ٹیچرس ہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اردو میڈیم اساتذہ کے تقرر کیلئے علحدہ  ڈی ایس سی منعقد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میناریٹی کی ترقی کیلئے بجٹ تو منظور کیا جاتا ہے لیکن خرچ نہیں کیا جاتا، ہاں سابقہ حکومتوں کی بہ نسبت اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ ضرور کیا گیا ہے لیکن رقم خرچ نہیں ہوتی جبکہ بی سی ویلفیر ڈپارٹمنٹ کا بجٹ خاطر خواہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ وہاں پر عملہ ہے جبکہ میناریٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ میں عملے کی کمی ہے جلد سے جلد اس محکمہ میں تقررات کئے جائیں، اس وقت جو اسٹاف موجود ہے زیادہ تر ڈپوٹیشن پر کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے حکومت نے انگلش میڈیم اقامتی مدارس قائم کئے ہیں جماعت اسلامی اس اقدام کی ستائش کرتی ہے لیکن ان مدارس میں اردو سے واقف ٹیچرس کا تقرر کیا جائے تاکہ بچوں کو مادری زبان میں سمجھانے میں آسانی ہو۔ علاوہ اس کے ان اقامتی مدارس میں وارڈن کا تقرر کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہ اخلاق و کردار، تہذیب و تمدن سے واقف رہیں۔ اسکول میں اخلاقیات ( دینیات ) کی تعلیم کا معقول انتظام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں پر قبضے ہوچکے ہیں جس کی سی بی آئی انکوائری کروائی جائے۔ ٹی آر یس پارٹی کے منشور میں یہ بات کہی گئی تھی، اس وعدہ کی تکمیل کا جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے۔ اس کیلئے حکومت کو کوئی بڑا کام کرنا نہیں ہے بلکہ صرف ایک لیٹر سی بی آئی کو لکھنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاور دیا جائے۔ 8 سال سے وقف ٹریبونل بند پڑا ہے دوبارہ اس کا آغاز ہونا چاہیئے۔ وقف بورڈ میں ٹرینڈ اسٹاف کی سخت ضرورت ہے  موجودہ اسٹاف ناکافی ہے اور تمام وقف جائیدادوں کی تفصیلات کو آن لائن کیا جائے سروے نمبرات کے ساتھ ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آبادی کے لحاظ سے تمام  ملازمتوں میں برابر کا حصہ ملنا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہیئے کہ پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے جائیں یہ مذہب کے نام پر نہیں، تحفظات پر بعض اعتراض کئے جارہے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ جبکہ دیگر مذاہب کے پسماندہ لوگوں میں تحفظات فراہم کئے گئے ہیں کیا وہ مذہب کے نام پر تھے۔ اس موقع پر اخباری نمائندوں  کی جانب سے بابری مسجد کے تعلق سے سپریم کورٹ کی جانب ایودھیا تنازعہ بات چیت کے ذریعہ حل کرلیا جائے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ملکیت کا مقدمہ ہے اس کو مشترکہ مسئلہ بنادیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ حق ملکیت ہے اس تعلق سے روزانہ سنوائی کی جائے اور جلد سے جلد فیصلہ کا جائے ہم سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کرنے تیار ہیں، آپس میں اب تک 6 مرتبہ بات ہوچکی ہے لیکن اس کا حل نہیں نکلا۔ سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا چاہیئے۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے حلقوں میں اضافہ کیا جارہا ہے، جہاں کارپوریشن بنائے گئے ہیں ورنگل، کھمم، نظام آباد، ان حلقوں میں جماعت اسلامی نے حلقوں کو بناتے ہوئے تنظیم کے کاز کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ موجودہ ورنگل، ہنمکنڈہ دو حلقوں میں خدمات انجام دیتے آرہے ہیں۔ آئندہ نئے حلقے رائے پور،، قاضی پیٹ، نعیم نگر، ورنگل اور چنتل قائم کئے جائیں گے۔ جناب حامد محمد خان دو روزہ تنظیمی دورہ پر ورنگل پر ہیں۔ اس موقع پر مولانا رحمت اللہ شریف، ظفر قریشی، عبداللہ فیض اسٹیٹ اڈوائزری کمیٹی ممبر، محمد ابراہیم ایس آئی او، خالد محمد خان ، ایم اے ستار، عبدالقدوس و دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT