Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی سی بی آئی تحقیقات پر زور

اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی سی بی آئی تحقیقات پر زور

ماضی کے مقدمات پر عاجلانہ کارروائی کی جائے : حامد محمد خاں
حیدرآباد۔/9جون، ( سیاست نیوز) امیر جماعت اسلامی تلنگانہ جناب حامد محمد خاں نے اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی سی بی آئی تحقیقات اور شیخ محمد اقبال کے دور میں درج کئے گئے مقدمات پر عاجلانہ کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ٹی آر ایس حکومت کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر جناب حامد محمد خاں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مبارکباد پیش کی اور ساتھ ہی اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مطالبات جن میں قانونی پیچیدگیاں یا معاشی بوجھ عائد ہوتا ہو ان میں کسی قدر تاخیر ہوسکتی ہے جیسے 12فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی جو ایک قانونی کارروائی کا متقاضی ہے۔ برخلاف اس کے ایسے کئی وعدے کئے گئے جن پر عمل آوری میں کوئی قانونی یا معاشی بوجھ کی رکاوٹ درپیش نہیں۔ چیف منسٹر کو چاہیئے کہ ان وعدوں پر فوری عمل آوری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کا وعدہ کیا تھا لیکن دو سال گذرنے کے باوجود ابھی تک اس وعدہ پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا وعدہ انتخابی منشور میں شامل ہے لیکن اس پر بھی عمل آوری باقی ہے۔ وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات کا وعدہ صرف ایک جی او کی اجرائی کا منتظر ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات فراہم کرے تاکہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں مدد ملے۔ بورڈ کو اختیارات کی کمی کے سبب وہ اپنی جائیدادوں کے تحفظ سے قاصر ہے۔ حامد محمد خاں نے وقف بورڈ میں تربیت یافتہ اور اوقافی اُمور کے ماہر اسٹاف کے تقرر کی مانگ کی اور کہا کہ بورڈ میں موجودہ عملہ فرسودہ اور دقیانوس افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکنیکل عملے کی ضرورت ہے جنہیں اوقافی اُمور اور وقف ایکٹ پر عمل آوری کی تربیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں ریٹائرڈ افراد کے بجائے نئے افراد کا تقرر کیا جانا چاہیئے کیونکہ اوقافی معاملات شرعی، سماجی و معاشی زمرے میں آتے ہیں لہذا اسٹاف کی ٹریننگ ضروری ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ شیخ محمد اقبال کے دور میں جن افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے اور کارروائیاں کی گئیں ان سے متعلق فائیلیں یا تو بند ہوچکی ہیں یا پھر کارروائیوں کو روک دیا گیا ہے۔ قصوروار افراد آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں جن کے خلاف شیخ محمد اقبال نے مقدمات درج کئے تھے۔ اس طرح کی صورتحال حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے ذمہ دار کچھ لوگوں کی باتوں میں آگئے ہیں اور اوقافی جائیدادوں کے فروخت کرنے والوں کی تائید کررہے ہیں۔ حامد محمد خاں نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور حکومت کی عدم توجہ اور خاموشی کی صورت میں حکومت کی بدنامی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کیلئے علحدہ سب پلان کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1164کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے لیکن چونکہ مکمل بجٹ خرچ نہیں کیا جاتا لہذا علحدہ سب پلان کی صورت میں یہ بجٹ آئندہ مالیاتی سال منتقل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ خرچ کرنے کیلئے اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی کمی ہے۔ موجودہ عہدیدار ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بی سی ویلفیر میں 5000 سے زائد ملازمین ہیں حکومت کو چاہیئے کہ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی تعداد کم سے کم 1000کرے۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت 41 ہزار خاندانوں کو امداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ اسکیم کئی خاندانوں کیلئے کافی فائدہ بخش ہے۔ اس اسکیم میں بعض بے قاعدگیاں بھی پائی گئیں۔ اگر 10فیصد بھی بدعنوانیاں ہوئی ہیں تب وہ اسکیم کو کامیاب تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدعنوانیاں دراصل سسٹم کی خرابی اور نیتوں میں فتور کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے آسرا اسکیم میں مسلمانوں کو 12فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ حامد محمد خاں جو تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل رہے اور تلنگانہ تحریک میں پروفیسر کودنڈا رام کے ساتھ اہم رول ادا کیا آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کیلئے چیف منسٹر کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اسمبلی میں پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ زرعی اور آبپاشی انجینئر کی طرح تفصیلات پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سنہرے تلنگانہ کی طرف گامزن ہے اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اپنی کارکردگی کے ذریعہ ملک کے دیگر چیف منسٹرس میں زیادہ مقبولیت کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کیلئے 2 سال کا عرصہ ہنی مون نہیں ہوتا بلکہ آزمائش کا وقت ہوتا ہے اور حکومت کو اپنی کارکردگی کے ذریعہ عوام کو مطمئن کرنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT