Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کی آمدنی سے غریب مسلمان فائدہ کا حقیقی حقدار

اوقافی جائیدادوں کی آمدنی سے غریب مسلمان فائدہ کا حقیقی حقدار

متولیوں کے خلاف کارروائیاں حق بجانب ، متولی درگاہ حضرات یوسفینؒ پر بے قاعدگیوں کا ثبوت ، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی پریس کانفرنس

متولیوں کے خلاف کارروائیاں حق بجانب ، متولی درگاہ حضرات یوسفینؒ پر بے قاعدگیوں کا ثبوت ، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔19 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال آئی پی ایس نے کہا کہ وہ ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کی برخاستگی کیلئے ضلع کلکٹرس کو متحرک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہ کرے ، اس وقت تک ناجائز قابضین کی علحدگی ممکن نہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد اقبال نے کہا کہ انتخابات کی سرگرمیوں کے سبب گزشتہ دو ماہ کے دوران اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سرگرمیاں متاثر رہیں کیونکہ تمام ضلع کلکٹرس اور ایس پیز انتخابات کے امور میں مصروف تھے۔ اب جبکہ انتخابی عمل مکمل ہوچکا ہے، وہ دوبارہ ضلع کلکٹر سے ربط پیدا کرتے ہوئے وقف بورڈ سے تعاون کی خواہش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں ضلع کلکٹر کی صدارت میں وقف ٹاسک فورس موجود ہے جس میں پولیس اور ریونیو کے عہدیدار بھی شامل ہیں۔ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انہوں نے مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں کلکٹرس کے ساتھ اجلاس منعقد کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے اوقافی اراضیات پر قبضوں کی برخاستگی کیلئے وہ حکومت سے نمائندگی کریں گے تاکہ ORC کو منسوخ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جائیدادوں کے کرایہ میں اضافہ کے سلسلہ میں باقاعدہ طور پر مہم شروع کی گئی ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ اس طرح وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کی تشکیل تک اس عہدہ پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ اگرچہ اسپیشل آفیسر کی میعاد 6 ماہ ہے لیکن بورڈ کی عدم تشکیل کی صورت میں میعاد میں توسیع دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ میں ملازمین کی کمی کو کارکردگی میں اہم رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ وہ صرف 50 ملازمین کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ درگاہ حضرات یوسفینؒ نامپلی کے متولی فیصل علی شاہ کے خلاف بے قاعدگیوں کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہے

اور الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔ لہذا وقف بورڈ نے انہیں متولی کی حیثیت سے برخاست کرنے کیلئے آج وجہ نمائی نوٹس جاری کی ہے۔ اندرون 7 یوم نوٹس کا جواب نہ دینے کی صورت میں متولی کی حیثیت سے برخاستگی کی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رقومات میں مبینہ بے قاعدگیوں اور قبرستان میں تدفین کیلئے بھاری رقومات کی وصولی اور دیگر الزامات کے سلسلہ میں ٹھوس ثبوت حاصل ہوا ہے۔ کشن باغ میں عرش محل کی اراضی پر تنازعہ سے متعلق سوال پر اسپیشل آفیسر نے بتایا کہ عرش محل کی اراضی وقف ہونے کے بارے میں وہ متعلقہ عہدیداروں سے رپورٹ طلب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس اراضی کے تحفظ کیلئے بھی ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 2003 ء میں بھی اسی اراضی کے سلسلہ میں تشدد پھوٹ پڑا تھا لیکن افسوس کہ عوامی نمائندوں اور وقف بورڈ نے اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے وقف قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب متولیوں کے خلاف کی جارہی کارروائیوں کو حق بجانب قراردیا اورکہا کہ وہ منشائے وقف کے مطابق اوقافی آمدنی کے استعمال کے حق میں ہیں لہذا وہ چاہتے ہیں کہ اوقافی جائیدادوں کی آمدنی سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہو جو کہ حقیقی حقدار ہیں۔ انہوں نے بعض گوشوں کی جانب سے ان پر یکطرفہ کارروائی سے متعلق الزام کو مسترد کردیا اور کہا کہ اگر وہ من مانی اور یکطرفہ کارروائی کرتے تو عدالت کی جانب سے بورڈ کی کارروائیوں کے خلاف فیصلہ آتا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران انہوں نے جن متولیوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے، ان میں سے ایک کو بھی ہائی کورٹ سے راحت نہیں ملی ۔ عدالت نے بعض متولیوں کی گرفتاری پر عبوری حکم التواء جاری کیا تاہم تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص گوشہ کی جانب سے ان پر الزامات عائد کرتے ہوئے عوام میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ وقف قواعد کے مطابق کارروائی کرنا اگر من مانی سمجھا جائے تو وہ اس کا فیصلہ مسلمانوں پر چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی متولی کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں انصاف کے فطری تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا گیا اور مکمل ثبوت کے بعد ہی کارروائی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ متولیوں کو چاہئے کہ وہ لاکھوں غریب مسلمانوں کی بھلائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے اداروں کو وقف قواعد کے مطابق چلائیں اور لاکھوں روپئے عدالتی کارروائیوں پر خرچ کرنے کے بجائے اسے مسلمانوںکی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خدا کی خوشنودی کے جذبہ کے ساتھ اس عہدہ پر کام کر رہے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ متولیوں اور سجادگان کی جانب سے انہیں مکمل تعاون کیا جائے۔ برخلاف اس کے چند افراد کے مفادات کے تحفظ کے لئے وقف بورڈ کی کارروائی کو غلط ثابت کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء و مشائخ کوغور کرنا چاہئے کہ اوقافی جائیدادوں سے کس کو فائدہ ہونا چاہئے اور کس کو ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ حضرت شاہ خاموشؒ کے سجادہ نشین کی معطلی کی معیاد میں توسیع کی گئی ہے اور تحقیقات کی تکمیل تک معطلی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے علاوہ سی سی ایس کی جانب سے بھی تحقیقات جاری ہیں اور کئی اہم دستاویزات منظر عام پر آئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT