Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کی تباہی وقف مافیا کو کھلی چھوٹ

اوقافی جائیدادوں کی تباہی وقف مافیا کو کھلی چھوٹ

سکریٹری اقلیتی بہبود و عہدیدار مجاز وقف بورڈ کا ایک اور متنازعہ فیصلہ
حیدرآباد۔ 13۔ جون ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کی تباہی اور وقف مافیا کو کھلی چھوٹ دینے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود اور عہدیداروں مجاز وقف بورڈ نے آج ایک اور متنازعہ فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ عہدیداروں کی خدمات ختم کرنے کیلئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو احکامات روانہ کئے جس کے تحت انہیں اندرون ایک ہفتہ کارروائی کرنی ہوگی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز بھی ہیں، ان کا یہ فیصلہ وقف بورڈ اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اہم رکاوٹ بن سکتا ہے اور وقف بورڈ کی تشکیل میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ دور رس نتائج کا حامل رہے گا ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور ان کے تحت کام کرنے والے مختلف محکمہ جات کے ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیدار دراصل وقف مافیا اور ان کی سرگرمیوں کیلئے اہم رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اپنی پسند کے فیصلے کرانے میں ناکامی اور بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کے آغاز کے فوری بعد وقف مافیا حرکت میں آگیا اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے عہدیدار مجاز کو مذکورہ احکامات کی اجرائی پر مجبور کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مخصوص سیاسی سرپرستی کے تحت کام کرنے والے عہدیدار مجاز نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کئے۔ عمر جلیل بیک وقت عہدیدار مجاز اور سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور دونوں اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بجائے انہیں نقصان پہنچانے کیلئے سرگرم عناصر کے حق میں فیصلے کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جلال الدین اکبر نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی حیثیت سے مختلف محکمہ جات کے ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداروںکی خدمات حاصل کی تھی تاکہ اوقافی امور کو بہتر بنانے میں مدد ملے۔ وقف بورڈ کے بعض ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداروں کی خدمات بھی دوبارہ حاصل کی گئیں ۔ یہ عہدیدار اپنے تجربات کی روشنی میں اوقافی جائیدادوں کو ریونیو ریکارڈ سے ہم آہنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ لاء آفیسرس کی حیثیت سے وہ وقف بورڈ کو قانون کے مطابق فیصلے کرنے میں تعاون کر رہے ہیں۔ ان عہدیداروں کی کارکردگی سے وقف مافیا سخت نالاں ہیں اور اسی طرح ان عہدیداروں کو وقف بورڈ سے بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ بورڈ پر اپنا کنٹرول قائم ہوسکے۔ ابتداء میں ایسے عہدیداروں کی تعدید 30 تھی جو اب گھٹ کر 20 ہوچکی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے موجودہ اسٹاف میں فائلوں کی یکسوئی کے ماہرین کی کمی ہے۔ جس کے سبب یہ عہدیدار وقف بورڈ کے لئے ایک اثاثہ ثابت ہورہے تھے۔ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ان عہدیداروں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو کمزور کیا جائے۔ سید عمر جلیل نے ا پنے احکامات میں جی او ایم ایس 55 ء مورخہ 2 مئی 2015 ء کا حوالہ دیا جس میں سرکاری محکمہ جات میں ریٹائرڈ عہدیداروں کے تقررات پر پابندی عائد کی گئی ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے حکومت کو وضاحت کی کہ یہ جی او سکریٹریٹ کے محکمہ جات پر لاگو ہوتا ہے۔ اور وقف بورڈ خود مختار ادارہ ہے۔ اس وضاحت کے باوجود سکریٹری اقلیتی بہبود نے اندرون ایک ہفتہ کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کئی اہم جائیدادوں اور متولیوں کے معاملات زیرالتواء ہیں اور مقامی سیاسی جماعت اور وقف مافیا اپنی پسند کے فیصلے کرانا چاہتا ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کو کمزور کرتے ہوئے یہ کام ممکن ہے۔ سید عمر جلیل نے ان احکامات کے ذریعہ اپنے پیشرو اسپیشل آفیسر جلال الدین ا کبر کے تقررات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک طرف سکریٹری کو وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ عہدیداروں کو ہٹانے کی فکر ہے جبکہ دوسری طرف اقامتی اسکولس کی سوسائٹی میں بیشتر ریٹائرڈ افراد کام کر رہے ہیں جن میں فینانس کارپوریشن کا ایک ریٹائرڈ عہدیدار بھی شامل ہیں جسے سکریٹری کی سرپرستی حاصل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب جی او 55 کا اطلاق وقف بورڈ پر ہوتا ہے تو پھر اسکولوں کی سوسائٹی پر کیوں نہیں ؟ وہاں بھی کام کرنے والے تمام ریٹائرڈ افراد کو فوری برخاست کرنے کے احکامات جاری کرنے چاہئے ۔ اطلاعات کے مطابق محکمہ فینانس نے سکریٹری کے پسندیدہ شخص کے سوسائٹی میں تقرر کے خلاف رائے دی ہے اور کہا ہے کہ فینانس کارپوریشن سے ریٹائرڈ افراد کا سرکاری اداروں میں تقرر نہیں کیا جاسکتا لیکن آج تک اس معاملہ میں سکریٹری اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن خاموش ہیں۔ وقف بورڈ سے متعلق سکریٹری کے تازہ ترین احکامات سے اندیشہ ہے کہ وقف بورڈ میں کئی جائیدادوں کے خلاف فیصلے ہوں گے اور وقف ریکارڈ کے غائب ہوجانے کا بھی اندیشہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT