اوقافی جائیدادوں کی تباہی پر سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

مرکزی وزیر اقلیتی بہبود محترمہ نجمہ ہپت اللہ سے صدر نشین اقلیتی کمیشن کی نمائندگی

مرکزی وزیر اقلیتی بہبود محترمہ نجمہ ہپت اللہ سے صدر نشین اقلیتی کمیشن کی نمائندگی
حیدرآباد 21 جولائی (سیاست نیوز ) صدر نشین آندھرا پردیش ریاستی اقلیتی کمیشن جناب عابد رسول خاں نے مرکزی وزیر اقلیتی امور مسز نجمہ ہپت اللہ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ریاست میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے متعلق تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے ان سے خواہش کی کہ بحیثیت مرکزی وزیر اقلیتی امور و اوقافی جائیدادوں کی تباہی پر سی بی آئی تحقیقات کے احکام جاری کریں تا کہ حقائق منظر عام پر لائے جاسکیں ۔ جناب عابد رسول خاں نے اس موقع پر کمیشن کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ حوالے کرتے ہوئے بتایا کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر مرکزی حکومت اوقافی جائیدادوں کی غیر مجاز منتقلی ،غیر قانونی حوالگی کے علاوہ فروخت کے معاملات میں سی بی آئی تحقیقات کے احکام جاری کرسکتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر اقلیتی امور مسز نجمہ ہپت اللہ نے انہیں اس بات کا تیقن دیا کہ وہ ضرور اس مسئلہ پر غور کریں گی اور حکومت کی جانب سے سی بی آئی تحقیقات سے متعلق احکامات کی اجرائی پر مشاورت کی جائے گی ۔ جناب عابد رسول خاں نے بتایا کہ اس ملاقات کے دوران انہوں نے مرکزی وزیر سے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کمیشن کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق واقف کروایا ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران جناب عابد رسول خان نے بتایا کہ گجرات پولیس کی جانب سے مولانا عبدالقوی کی گرفتاری کے معاملہ میں بھی ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس سلسلہ میںکمیشن نے 19 جولائی کو ڈی سی پی ساوتھ زون کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا مولانا عبدالقوی 10 سال سے پولیس کو مطلوب تھے یا نہیں اگر واقعی مولانا عبدالقوی پر کوئی وارنٹ تھا تو کیا وہ پولیس کیلئے دستیاب نہیں تھے ؟ کمیشن نے پولیس کو روانہ کردہ اس مکتوب کے جواب کیلئے 8 اگست تک کا وقت دیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ 8 اگست سے قبل دریافت کردہ تفصیلات کمیشن کو فراہم کی جائیں ۔ صدر نشین کمیشن کے بموجب مولانا عبدالقوی کے معاملہ کو کمیشن نے وزارت داخلہ ،وزیر اقلیتی امور کے علاوہ قومی اقلیتی کمیشن سے بھی رجوع کیا ہے ۔جناب عابد رسول خان نے اس موقع پر مزید بتایا کہ کمیشن کی جانب سے ریاست بھر کے ائمہ و موذنین کو تنخواہوں کی اجرائی سے متعلق کی جانے والی کوششیں بڑی حد تک کارآمد ثابت ہورہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ منقسم ریاست آندھرا پردیش کی حکومت ائمہ و موذنین کو تنخواہوں کی اجرائی کے طریقہ کار کو قطعیت دینے میں مصروف ہے جبکہ تلنگانہ میں بھی ائمہ و موذنین کو تنخواہوں کی اجرائی کے متعلق حکومت کے سنجیدہ ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کمیشن کی جانب سے بہت جلد ائمہ و موذنین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کمیشن کی رپورٹ پر من و عن عمل آوری کے سلسلہ میں قرار داد منظور کی جائے گی۔ جناب عابد رسول خان نے بتایا کہ آندھرا پردیش ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے ائمہ و موذنین میں شعور بیداری کے علاوہ انہیں سرکاری طور پر معاوضہ کی اجرائی کے سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی ہے اور اس رپورٹ کو دونوں ریاستوں کی حکومتوں کو روانہ بھی کردیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT