Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے ملت کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ممکن

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے ملت کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ممکن

حیدرآباد۔17مارچ(سیاست نیوز) زیور تعلیم سے مسلمانوں کو آراستہ کرنے کی غرض سے وقف کی گئی بیشتر اوقافی جائیدادوں کی تباہی ریاست کے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا سبب بنی وقف جائیدادوں کی تباہی‘ تلنگانہ تحریک کی کامیابی اور مسلمانوں کا لائحہ عمل کے عنوان پر اُردو گھر مغل پورہ میں منعقدہ کل جماعتی جلسہ عام سے صدراتی خطاب کے دوران جن

حیدرآباد۔17مارچ(سیاست نیوز) زیور تعلیم سے مسلمانوں کو آراستہ کرنے کی غرض سے وقف کی گئی بیشتر اوقافی جائیدادوں کی تباہی ریاست کے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا سبب بنی وقف جائیدادوں کی تباہی‘ تلنگانہ تحریک کی کامیابی اور مسلمانوں کا لائحہ عمل کے عنوان پر اُردو گھر مغل پورہ میں منعقدہ کل جماعتی جلسہ عام سے صدراتی خطاب کے دوران جناب ظہیر الدین علی خان ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔

دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ کل جماعتی جلسہ عام سے صدر ایچ اے ایس انڈیا مولانا سید طار ق قادری‘ صدر ایم پی جے مولانا حامد محمد خان‘ صدر کل ہند سنی علماء بورڈ مولانا حامد حسین شطاری‘ عام آدمی پارٹی کوارڈینٹر محترمہ جسوین جیرات‘صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی عثمان بن محمد الہاجری‘ایم باسط سابق کارپوریٹر دودھ بائولی‘محمد یوسف ٹی آر ایس جنرل سکریٹری گریٹر حیدرآباد میناریٹی سل‘ نعیم اللہ شریف‘مولانا سید عبدالقادر قادری المعروف وحید پاشاہ‘ اظہر پاشاہ‘ طیب خلیدی کے علاوہ عبدالحق قمر اسٹیٹ جنرل سکریٹری ٹی آر ایس کے علاوہ دیگر نے خطاب کیا۔ جلسہ کی کاروائی سید شکیل ایڈوکیٹ نے چلائی جبکہ ایڈوکیٹ عبدالقدوس غوری کے دعائیہ کلمات پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ زیادہ تر اوقافی جائیدادوں کی تباہی علاقہ تلنگانہ میں پیش ائی اور مذکورہ اوقافی جائیداوں کی صیانت علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے میںمددگارثابت ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے لینکو ہلز کی موقوفہ جائیداد کا پر تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک وقف اراضی سے لینکو راج گوپال نے دس ہزار کروڑ روپئے کمائے جبکہ وقف بورڈ کو صرف 64کروڑ روپئے ادا کرنے کے معاہدات طئے پارہے ہیںجو قابلِ افسوس ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے اور انہیں بہتری زندگی کے گذارنے کا موقع فراہم کرنے تلنگانہ کی وقف اراضیات کی صیانت کو لازمی قراردیا۔انہوں نے کہاکہ آج مسلمانوں میں حصول علم کے متعلق شعور بیدار ہوچکا ہے ۔ معمولی کام کرنے والے لوگ بھی محنت مشقت کے ذریعہ اپنے بچوں کو معیاری اور اعلی تعلیم دلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ حلال کی کمائی سے اپنا اور اپنے لواحقین کا پیٹ پالنے والے آٹوڈرائیورس کے بچے بھی انجینئرنگ کررہے ہیں ان حالات میں اوقافی اراضیات کی بازیابی اور صیانت مسلمانوں کے لئے حصول علم میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔مولانا سید طار ق قادری نے ملت اسلامیہ کے ذمہ داران اور دانشواروں کو اوقافی جائیدادوں کی تباہی کا ذمہ دار ٹھراتے ہوئے کہاکہ استطاعت کے مطابق ظلم کے خلاف جدوجہد کی ذمہ دار ی ہر مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے

اور ظلم وزیادتیوں کے باوجود خاموش تماشائی بنے والی قوموں کو اللہ کے عذاب کے لئے تیار رہنے پڑا گا۔ مولانا حامد محمد خان نے کہاکہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی میں ہمارے اپنوں نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہو ںنے اوقافی جائیدادوں کی صیانت اور بازیابی کے لئے مسلمانوں کے لئے سیاسی طاقت کو لازمی قراردیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہرقو م اور طبقہ میں ایک پریشرگروپ ہے سوائے مسلمانوں کے لہذا نئی ریاست تلنگانہ میںمسلمانوں کے حقوق کے لئے ایک پریشرگروپ کی تشکیل لازمی ہے۔ مولانا حامد حسین شطاری نے نئے پل سے شاہ علی بنڈہ تک کی اوقافی جائیدادوں کے کرایوں میں اگر اضافہ کردیا جائے تو وقف بورڈ کی آمدنی میں نہ صرف اضافہ ہوجائے گا بلکہ منشاء وقف کے تحت جمع ہونے والی رقم سے پسماندگی کاشکار مسلمانوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔محترمہ جسوین جیرات نے کہاکہ سود کا کاروبار کرنے اور اراضیات پر ناجائز قبضہ کرنے والو ں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT