Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اسپیشل آفیسر کو دشواریوں کا سامنا

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اسپیشل آفیسر کو دشواریوں کا سامنا

سی ای او کا عہدہ خالی، ایک عارضی ملازم کو سکریٹریٹ سے سرپرستی

سی ای او کا عہدہ خالی، ایک عارضی ملازم کو سکریٹریٹ سے سرپرستی
حیدرآباد۔/15نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے وقف بورڈ کو زائد اختیارات دینے اور قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے تاہم اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات سے روکنے کیلئے مختلف گوشوں سے دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپیشل آفیسر محمد جلال الدین اکبر کو اعلیٰ عہدیداروں اور بورڈ کے ماتحت عہدیداروں کے عدم تعاون کے نتیجہ میں کئی دشواریوں کا سامنا ہے۔ اسپیشل آفیسر نے وقف بورڈ میں ورک کلچر عام کرنے اور عہدیداروں کے جوابدہ بنانے کیلئے جو مساعی کی اس سے ملازمین کی اکثریت مطمئن ہے تاہم ایسے افراد جو کسی نہ کسی اوقافی ادارہ کے متولی یا درمیانی افراد سے قربت رکھتے ہیں وہ ان اقدامات کی مخالفت کررہے ہیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے تبادلہ کے بعد اس عہدہ پر ابھی تک کسی مستقل عہدیدار کا تقرر نہیں کیا گیا برخلاف اس کے ایک ایسے عہدیدار کو یہ ذمہ داری دی گئی جو قواعد کے اعتبار سے اس عہدہ کا اہل نہیں اور وہ پہلے ہی سے دو زائد ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ اسپیشل آفیسر نے حکومت کی توجہ مبذول کروائی کہ وقف بورڈ میں ڈپٹی کلکٹر رتبہ کے عہدیدار کا چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے تقرر کیا جائے تاکہ روزمرہ کے کام کاج میں سہولت ہو اور اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں موصول ہونے والی شکایتوں پر فوری کارروائی کی جاسکے۔ حکومت اگر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں واقعی سنجیدہ ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسپیشل آفیسر سے مکمل تعاون کرے اور وقف بورڈ میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر کا فوری تقرر کیا جائے۔ اسپیشل آفیسر نے وقف جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت کو ایک جامع منصوبہ پیش کیا لیکن ابھی تک اس پر غور نہیں کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے اسپیشل آفیسر کے فیصلوں میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ بورڈ میں وقف جائیدادوں کے کمپیوٹرائزیشن کیلئے تقریباً 7 افراد کا عارضی طور پر تقرر کیا گیا جو چند برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ایک اعلیٰ عہدیدار کی سفارش پر چھ ماہ قبل ایک خاتون کا ماہانہ 35ہزار روپئے تنخواہ پر تقرر کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چھ ماہ کے دوران کسی کارکردگی کے بغیر اس خاتون نے بھاری تنخواہ حاصل کی جبکہ خدمات انجام دینے والے دیگر ملازمین 8تا10ہزار روپئے تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔ یہ خاتون سابق میں چیف کمشنر لینڈ اڈمنسٹریشن کے دفتر میں عارضی خدمات پر تھیں۔ وقف بورڈ میں گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اس غیر اردو داں عارضی ملازم کی دیگر سرگرمیوں کے بارے میں شکایات پر اسپیشل آفیسر نے خدمات سے دستبرداری کا فیصلہ کیا لیکن سکریٹریٹ میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسپیشل آفیسر کو احکامات واپس لینے پر مجبور کررہے ہیں۔ اسی طرح فبروری سے سروے کمشنر وقف کی خدمات میں توسیع نہیں کی گئی جس کے باعث اوقافی جائیدادوں کے سروے اور الیکٹرانک میاپنگ کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سروے کمشنر وقف فبروری سے بغیر تنخواہ خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن حکومت نے ان کی توسیع سے متعلق فائیل کی اب تک یکسوئی نہیں کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں پر اس سلسلہ میں بعض متولیوںکا دباؤ ہے کیونکہ سروے کی صورت میں کئی ایسی جائیدادوں کا انکشاف ہوسکتا ہے جنہیں خانگی قرار دیتے ہوئے فروخت کردیاگیا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسپیشل آفیسر کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اس کے علاوہ سروے کمشنر وقف کو کارکرد بنانے اقدامات کرے۔

TOPPOPULARRECENT