Sunday , November 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں تساہلی

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں تساہلی

ضلع نظام آباد میں غیر مجاز قبضے، وقف بورڈ کارروائی سے قاصر

نظام آباد:13؍ اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع نظام آباد میں ریاستی وقف بورڈ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہورہا ہے۔ خصوصاً ضلع بھر میں واقع مختلف اوقافی اداروں کی بات تو چھوڑئیے شہر نظام آباد میں بیش قیمت جائیدادوں کے تحفظ سے بھی بورڈ نے آنکھیں موندلی ہیں۔ بورڈ کی تساہلی اور غیر کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نہروپارک جیسے تجارتی علاقہ میں جہاں زمین کی قیمت آسمان کو چھوتی ہے قبرستان کی اراضی پر ناجائز قبضہ اور تعمیر کے بارے میں کوئی بھی قانونی قدم اٹھانے سے قاصر ہے ۔ بودھن روڈ کے متصل قبرستان کی 2 ایکر 5 گنٹے اراضی آندھرا پردیش وقف گزٹ 44-A مورخہ 31؍ اکتوبر 2002 ء کے تحت نشان سلسلہ 24650 پر نوٹیفائیڈ وقف جائیداد ہے۔ لیکن رپورٹ کے مطابق اولمپیا بیکری کے مالک اعجاز احمد نے اس میں سے 98 مربع گز اراضی پر نہ صرف اپنا غیر قانونی قبضہ جمایا ہے۔ بلکہ اس پر بیکری کی پکی عمارت بھر تعمیر کرلی ۔ وقف بورڈ اس دوران کوئی بھی کارروائی کرنے سے معذوررہا۔ شکایتوں اور انسپکٹر، آڈیٹروقف کی رپورٹ مورخہ 24؍ جنوری 2015 کے بعد کمیٹی وقف بورڈ نے مذکورہ ناجائز قابضین کو بالآخر 10؍ اپریل 2015 کو وقف ترمیمی ایکٹ 2013ء کی دفعہ نمبر 54(1) کے تحت وجہہ نمائی کی نوٹس جاری کی۔ اس نوٹس میں اعجاز احمد و دیگر کو اپنی ملکیت کے دستاویزات کے ساتھ 15 یوم کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ اور کہاگیا کہ بصورت دیگر وقف بورڈآندھرا پردیش وقف ٹریبونل سے رجوع ہوکر تخلیہ کی قانونی کارروائی کی جائیگی۔ لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گذر جانے کے باوجود وقف بورڈ کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس طرح قبرستان کی اراضی آج بھی غیر مجاز قبضہ کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے شہر میں وقف بورڈ کی اس کا ہلی اور عدم کارکردگی پر مختلف گوشوں سے تنقید کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT