Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں قانونی نقائص کو دور کرنے کمیٹی تشکیل

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں قانونی نقائص کو دور کرنے کمیٹی تشکیل

سابق جج ہائی کورٹ جسٹس وامن راؤ کی قیادت میں تین رکنی کمیٹی کو قطعیت

سابق جج ہائی کورٹ جسٹس وامن راؤ کی قیادت میں تین رکنی کمیٹی کو قطعیت
حیدرآباد۔/19ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں قانونی کارروائیوں میں نقائص کو دور کرنے کیلئے سابق جج ہائی کورٹ جسٹس وامن راؤ کی قیادت میں تین رکنی قانونی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب ای اسمعیل کے علاوہ سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب سید عبداللہ شامل ہیں۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب جلال الدین اکبر نے آج اس کمیٹی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور مختلف عدالتوں میں وقف سے متعلق زیر دوران مقدمات کی موثر پیروی کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ جسٹس وامن راؤ نے قیمتی اوقافی اراضیات سے متعلق مقدمات کی یکسوئی کے سلسلہ میں قابل وکلاء کی خدمات حاصل کرنے اور وقف بورڈ میں لیگل شعبہ میں پائی جانے والی کوتاہیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جسٹس وامن راؤ نے کہا کہ جائیدادوں کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ وقف بورڈ کے ایڈوکیٹ کی اہلیت و کارکردگی کے ساتھ ساتھ دفتر میں پائی جانے والی بدنظمی اور تساہل کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بسا اوقات ایڈوکیٹ کی جانب سے طلب کی گئی تفصیلات وقف بورڈ کے دفتر سے پیش نہیں کی جاتیں جس کے باعث جوابی حلف نامہ داخل کرنے میں ایڈوکیٹ ناکام رہتا ہے۔ اس صورتحال کیلئے صرف ایڈوکیٹ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ دفتر کا عملہ بھی مساوی ذمہ دار ہے۔ سابق جسٹس نے تجویز پیش کی کہ اوقافی جائیدادوں کے مقدمات کے سلسلہ میں وکلاء کے انتخاب میں تین اُمور پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیئے۔ پہلی بات تو یہ کہ وکیل باصلاحیت اور اہل ہو، وہ مقدمہ کے سلسلہ میں چوکس رہے مزید یہ کہ وکیل پر وقف بورڈ کو مکمل اعتماد ہو۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات کی موثر پیروی اور کامیابی میں وکیل کا اہم رول ہوتا ہے۔ وکلاء کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی جانب سے کسی تساہل کا علم ہونے پر انہیں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیگل اڈوائزری کمیٹی وکلاء کے انتخاب اور موجودہ وکلاء کو جوابی حلف نامہ داخل کرنے میں مکمل رہنمائی کرے گی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اہم مقدمات کے سلسلہ میں وکلاء کی پیروی کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیئے۔ اسی بنیاد پر اسٹینڈنگ کونسلس کا تقرر کیا جائے۔ جسٹس وامن راؤ نے کہا کہ ہر سینئر ایڈوکیٹ کا باصلاحیت اور اہل ہونا ضروری نہیں۔ وکالت میں 10سال کی تکمیل پر کوئی بھی اپنے آپ کو سینئر ایڈوکیٹ قرار دے سکتا ہے لیکن اس میں تجربہ اور صلاحیت کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جونیر وکلاء کے ذریعہ سینئر وکلاء کی کارکردگی کے بارے میں پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کئی سینئر وکلاء کے مقدمات کی پیروی جونیر وکلاء موثر انداز میں کرتے ہیں لہذا وقف بورڈ کو بھی چاہیئے کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے مقدمات کے سلسلہ میں وکلاء کے انتخاب میں صلاحیت اور اہلیت کو پیش نظر رکھیں۔ انہوں نے وکلاء کی فیس میں اضافہ کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔ جسٹس وامن راؤ ہائی کورٹ کے سابق جج کے علاوہ ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل کے سابق صدرنشین رہ چکے ہیں اور وہ فی الوقت ٹرانسکو کی لوک عدالت کے صدرنشین ہیں۔ جناب ای اسمعیل انسانی حقوق کمیشن کے سابق رکن رہ چکے ہیں جبکہ جناب سید عبداللہ اپیلیٹ کنزیومر فورم کے سابق رکن ہیں۔ تینوں ماہرین قانون پر مشتمل مشاورتی کمیٹی وقف بورڈ کے مقدمات اور ان میں قانونی پیشرفت کا جائزہ لے گی اور وقتاً فوقتاً وکلاء کے حلف ناموں کے ادخال کے سلسلہ میں رہنمائی کرے گی۔ کمیٹی کے ذمہ جو کام دیا گیا ہے اس میں جوابی حلف ناموں کا ادخال، اسٹینڈنگ کونسل کی کارکردگی کا جائزہ، نئے اسٹینڈنگ کونسلس کا تقرر، سینئر وکلاء کی خدمات کا حصول، وقف بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ کا استحکام اور وقف بورڈ سے متعلق دیگر قانونی اُمور میں تجاویز پیش کرنا ہے۔ جناب ای اسمعیل نے جو اوقافی جائیدادوں کے کرایہ کے تعین سے متعلق کمیٹی کے صدر نشین ہیں بتایا کہ کمیٹی کی مساعی پر بیشتر کرایہ دار وقف بورڈ سے رجوع ہوکر زائد کرایہ ادا کرنے راضی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے وقف بورڈ کے کرایہ داروں سے اپیل کی کہ وہ کرایہ کے تنازعہ کی یکسوئی کیلئے کمیٹی سے رجوع ہوں اور مارکٹ ویلیو کے اعتبار سے کرایہ طئے کریں تاکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT