Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ کی نااہلی آشکار

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ کی نااہلی آشکار

بورڈ کے عہدیداروں کے ٹال مٹول سے نقصان، وقف ٹریبونل میں جیتا ہوا مقدمہ ہائی کورٹ میں کھودیا
حیدرآباد/9فبروری، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی نااہلی کا آج اس وقت پھر ایک بار مظاہرہ دیکھنے کو ملا جب ہائی کورٹ میں وقف بورڈ کے خلاف فیصلہ آیا۔ بوڈ اپل ضلع میڑچل کی قیمتی اوقافی اراضی کے حق میں گزشتہ دنوں وقف ٹریبونل میں جو فیصلہ آیا تھا اسے برقرار رکھنے میں وقف بورڈ ناکام ثابت ہوا اور بورڈ کے تساہل کے نتیجہ میں ہائیکورٹ میں ٹریبونل کے احکامات پر حکم التو جاری ہوا ہے۔ اس طرح وقف بورڈ نے ٹریبونل میں جیتا ہوا مقدمہ ہائی کورٹ میں کھودیا۔ واضح رہے کہ مسجد قطب شاہی کے تحت 18 ایکڑسے زائد اراضی موجود ہے جس پر مختلف افراد کے قبضے ہیں۔ 2000 گز اراضی پر سریش کمار نامی شخص نے دعویداری پیش کی تھی۔ یہ معاملہ تلنگانہ وقف ٹریبونل سے رجوع ہوا اور ٹریبونل نے وقف بورڈ اور سریش کمار کے دستاویزات کی جانچ کے بعد وقف بورڈ کے حق میں فیصلہ سنایا اور اسے وقف اراضی قراردیا تھا۔ ٹریبونل کے فیصلہ کے بعد بورڈ نے ہائی کورٹ میں مخالف فیصلہ سے بچنے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ کیویٹ پٹیشن فائیل کرنے وقف بورڈ عہدیداروں کی ٹال مٹول کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ستیہ نارائن مورتی نے سریش کمار کی درخواست کو قبول کرکے ٹریبونل کے احکامات پر عارضی حکم التواجاری کردیا۔ عدالت نے وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی اور مقدمہ کی سماعت کو آئندہ کیلئے ملتوی کردیا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے حلف نامہ داخل کرنے کے بعد سماعت کا آغاز ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر وقف بورڈ مقررہ وقت پر کیویٹ پٹیشن داخل کرتا تو اسے ہزیمت اٹھانی نہ پڑتی ۔ کیویٹ پٹیشن کی صورت میں عدالت حکم التو کے بجائے وقف بورڈ کے وکیل کی سماعت کرتی۔ اس طرح اس قیمتی اوقافی اراضی کو بچایا جاسکتا تھا۔ اس سلسلہ میں جب وقف بورڈ عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا تو انہوں نے مسجد قطب شاہی کی منیجنگ کمیٹی کو تاخیر کیلئے ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منیجنگ کمیٹی نے اپنے طور پر وکیل کے انتخاب کا فیصلہ کیا تھا اور پٹیشن فائیل کرنے میں تاخیر ہوگئی۔ بورڈ کے عہدیداروں اور خاص طور پر اسٹینڈنگ کونسلس میں تال میل کی کمی بارہا آشکار ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مخصوص وکلاء کو مقدمات حوالے کئے جارہے ہیں۔بوڈ اپل کی اراضی کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کے حکم التواء کے بعد صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو اس مقدمہ کی موثر انداز میں پیروی کی ہدایت دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT