Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر حکومت کی سنجیدگی اکارت ثابت

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر حکومت کی سنجیدگی اکارت ثابت

وقف پروٹیکشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس پر عہدیداروں کی کوتاہی آشکار
حیدرآباد ۔ 26۔ستمبر (سیاست نیوز) ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ برسوں میں تمام سرکاری محکمہ جات کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ سے تعاون کرنے کیلئے دو مرتبہ احکامات جاری کئے گئے لیکن محکمہ پولیس اور محکمہ مال کی جانب سے عدم تعاون کے رویہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ جون 2002 ء اور فروری 2016 ء کو دو علحدہ جی او جاری کرتے ہوئے ہر ضلع میں وقف پروٹیکشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اس کمیٹی کے صدرنشین ضلع کلکٹر ہیں اور ارکان کی حیثیت سے سپرنٹنڈنٹ پولیس ، جوائنٹ کلکٹر ، ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر ، سب کلکٹر آر ڈی او ، میونسپل کمشنر اور دیگر پانچ ارکان کو شامل کیا گیا ۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کو کمیٹی کا کنوینر بنایا گیا ۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد ہر ضلع میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے مشترکہ کارروائی کرنا ہے۔ ڈسٹرکٹ وقف پروٹیکشن ان کوآرڈینیشن کمیٹی ہر ماہ اجلاس طلب کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا جائزہ لے گی ۔ سپرٹنڈنٹ پولیس کو ہدایت دی گئی کہ وہ ناجائز قبضوں کی برخواستگی اور  غیر مجاز قابضین کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرتے ہوئے وقف بورڈ سے تعاون کریں۔ حکومت کے ان واضح احکامات کے باوجود ایک بھی ضلع میں عہدیداروں کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ فروری سے آج تک ایک بھی ضلع کلکٹر نے کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت کے احکامات پر عمل آوری سے خود سرکاری محکمہ جات کو کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ کئی ایک جائیدادوں کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی جانب سے ضلع کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کارروائی کیلئے توجہ دلائی گئی لیکن عہدیداروں نے اوقافی جائیدادوں کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اسی دوران حیدرآباد کے کلثوم پورہ علاقہ میں واقع قبرستان میر عثمان خاں کے تحفظ کیلئے تلنگانہ میناریٹیز ویلفیر اسوسی ایشن نے وقف بورڈ اور پولیس سے نمائندگی کی۔ اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری میر احمد علی خاں نے بتایا کہ پولیس کو دی گئی نمائندگی کے ساتھ حکومت کے احکامات بھی منسلک کئے گئے لیکن پولیس اسٹیشن کلثوم پورہ کی جانب سے کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ اوقافی جائیدادوں کے معاملات کو سیول مسئلہ قرار دیتے ہوئے پولیس عہدیدار کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کا فائدہ راست طور پر قابضین کو ہورہا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حالیہ جی او ایم ایس 3 پر عمل آوری کیلئے پولیس اور ریونیو حکام کو دوبارہ ہدایات جاری کرے۔

TOPPOPULARRECENT