Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اسٹاف کی کمی ، وظیفہ یابوں سے خدمات پر تنازعہ

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اسٹاف کی کمی ، وظیفہ یابوں سے خدمات پر تنازعہ

حکومت سے نمائندگی پر وقف بورڈ سے رپورٹ کی طلبی ، اقربا پروری سے کارکردگی متاثر ہونے کا امکان
حیدرآباد۔/20نومبر، ( سیاست نیوز) وقف بورڈکی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے ایک طرف اسٹاف کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری طرف 40 سے زائد وظیفہ یاب افراد کی خدمات حاصل کرنے پر نیا تنازعہ کھڑا ہوچکا ہے۔ وقف بورڈکی تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تقسیم کے بعد تلنگانہ میں اہم عہدوں پر فائز عہدیداروں کی تعداد بڑی حد تک گھٹ چکی ہے اور وقف بورڈ کو اوقافی اُمور سے نمٹنے کے ماہر افراد کی ضرورت ہے۔ تقسیم سے قبل وقف بورڈ نے مختلف محکمہ جات سے وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے تقریباً 40 افراد کی خدمات حاصل کی اور انہیں مختلف ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے بھاری تنخواہ ادا کی جارہی ہے۔ وظیفہ یاب افراد کے تقرر کے خلاف حکومت سے نمائندگی کی گئی جس پر سکریٹری اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ سے اس سلسلہ میں رپورٹ طلب کی لیکن ایک ماہ گذرنے کے باوجود وقف بورڈ نے آج تک حکومت کو رپورٹ پیش نہیں کی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز کی ذمہ داری بھی نبھارہے ہیں انہوں نے وقف بورڈ کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ حکومت سے شکایت کی گئی کہ وظیفہ یاب عہدیداروں کا تقرر حکومت کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے اور حکومت نے کسی بھی محکمہ میں وظیفہ یاب افراد کے تقرر کے خلاف باقاعد احکامات جاری کئے تھے۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں کا استدلال ہے کہ تجربہ کار عہدیداروں کی خدمات حاصل کرنے کے سبب کئی اُمور کی یکسوئی میں مدد مل رہی ہے جبکہ نئے افراد کے تقرر کی صورت میں انہیں وقف ایکٹ سمجھنے میں کافی وقت لگ جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر وقف بورڈ وظیفہ یاب ملازمین کے تقرر کے سلسلہ میں اطمینان بخش جواب داخل کرنے میں ناکام رہے تو حکومت ایسے تمام افراد کی خدمات کو ختم کرنے کے احکامات جاری کردے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ میں عبوری خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ عہدیداروں اور ملازمین کی تعداد 45ہے۔ وقف بورڈ میں مستقل اور عارضی ملازمین کی جملہ تعداد 185 بتائی گئی ہے جس میں اسسٹنٹ سکریٹری 2 اور صرف ایک پراجکٹ آفیسر ہے۔ اس کے علاوہ سپرنٹنڈنٹ رتبہ کے 6 عہدیدار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شہر اور اضلاع میں انسپکٹر آڈیٹر کی حیثیت سے جملہ 23 عہدیدار موجود ہیں جبکہ 5 کمپیوٹر آپریٹر اور 31 جونیر اسسٹنٹس اور 38آفس سب آرڈینیٹس موجود ہیں۔ وقف بورڈ کو اہم عہدوں پر تجربہ کار ملازمین کی ضرورت ہے جو ریونیو کے اُمور سے واقفیت رکھتے ہوں۔ اوقافی جائیدادوں کی از سر نو نشاندہی اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق ان کی جانچ میں تجربہ کار عہدیداروں کی خدمات سے مدد ملے گی۔ حکومت اور وقف بورڈ کے دلائل مختلف ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ریٹائرڈ ملازمین کے سلسلہ میں کیا موقف اختیار کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی عارضی ملازمین کا تعلق بورڈ کے موجودہ ملازمین کے رشتہ داروں سے ہے جو کسی سیاسی سرپرستی و سفارش کے ذریعہ وقف بورڈ میں داخل ہوگئے۔ اس بات کی شکایت کی گئی کہ بورڈ میں 20سے زائد ملازمین کسی نہ کسی کے رشتہ دار ہیں۔ اس طرح اقرباء پروری نے بھی وقف بورڈ کی کارکردگی کو متاثر کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار سفارشی طور پر خدمات پر مامور افراد کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT