Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے تشکیل کردہ ٹیمیں کام شروع کرنے سے قاصر

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے تشکیل کردہ ٹیمیں کام شروع کرنے سے قاصر

نئی گاڑیاں بھی حج ہاوز میں محدود ، صدر نشین وقف بورڈ کی ہدایت کے منتظر
حیدرآباد۔ 15 مئی (سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے پہلی مرتبہ دو خصوصی ٹاسک فورس ٹیمیں تشکیل دی۔ ان ٹیموں کے لیے دو نئی گاڑیاں خریدی گئیں۔ صدرنشین محمد سیلم نے 9 مئی کو ان گاڑیوں کا افتتاح کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ شہر اور اضلاع میں جہاں کہیں سے اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی شکایات موصول ہوں گی فوری طور پر یہ ٹیمیں وہاں روانہ ہوجائیں گی۔ اس کے علاوہ کرایہ جات کی وصولی کے سلسلہ میں بھی یہ ٹیمیں اوقافی اداروں کا دورہ کریں گی۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ 9 مئی سے آج تک یہ گاڑیاں حج ہائوز میں جوں کی توں کھڑی ہوئی ہیں اور ٹاسک فورس ٹیموں نے کسی ایک جائیداد کا بھی دورہ نہیں کیا۔ حالانکہ وقف بورڈ کو روزانہ ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں کئی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ کیا نئی گاڑیاں صرف اس لیے خریدی گئیں کہ انہیں حج ہائوز میں بطور نمائش رکھا جائے یا پھر عہدیداروں کی نجی ضرورتوں کی تکمیل کے وقت استعمال میں لایا جائے؟ تلنگانہ میں جملہ اوقافی جائیدادوں کا 90 فیصد غیر مجاز قبضوں کے تحت ہے۔ اگر ٹاسک فورس ٹیموں کو سنجیدگی کے ساتھ متحرک کیا جائے تو ان کے لیے ایک دن بھی حج ہائوز میں گزارنے کو نہیں ملے گا۔ شہر کے مختلف اوقافی جائیدادوں کی کمیٹیوں یا مقامی افراد نے وقف بورڈ سے ناجائز قبضوں کے بارے میں شکایت کی اور وہ اس بات کے منتظر رہے کہ دوسرے دن ٹاسک فورس ٹیم اس علاقے کا دورہ کرے گی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے ایک ٹیم کے لیے چار عہدیداروں کا تقرر کیا جن میں سرویئر، انسپکٹر بھی شامل رہیں گے۔ سکیوریٹی سے متعلق اسٹاف کو بھی ان ٹیموں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹاسک فورس ٹیموں کی عدم کارکردگی نے عوام کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اسی دوران مولا علی ملکاجگری میں 50 ایکڑ قیمتی اوقافی اراضی پر ناجائزہ تعمیرات کے خلاف مقامی افراد نے گزشتہ چند دنوں میں روزانہ حکام سے نمائندگی کی لیکن ایک ٹیم بھی اس مقام کے لیے روانہ نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسجد مسلم جنگ کے تحت 50 ایکڑ اراضی لب سڑک موجود ہے جس پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں۔ محمد اسد اللہ کے دور میں اس اراضی کا سروے کرتے ہوئے سب رجسٹرار کو رجسٹریشن نہ کرنے کی خواہش کی گئی تھی لیکن عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے باعث سب رجسٹرار نے سروے کے مراحل مکمل کرتے ہوئے دستاویزات جاری کردیئے ہیں۔ اس اراضی کے متولی ایچ ای ایچ دی نظام ہیں لیکن فی الوقت ان کا کوئی جانشین اس اراضی کی نگرانی کے لیے موجود نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نہ صرف رجسٹری کا عمل مکمل کرلیا گیا بلکہ شادی خانوں کی تعمیر تیزی سے جاری ہیں۔ سروے نمبر 358/1/2 کے تحت قیمتی اراضی کے تحفظ کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کو فوری حرکت میں آنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT