Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت مکمل سنجیدہ

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت مکمل سنجیدہ

ریکارڈس کے آن لائن اندراج کا فیصلہ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا بیان

حیدرآباد۔15نومبر( سیاست نیوز ) نائب وزیراعلی الحاج محمد محمودعلی نے کہاکہ حکومت تلنگانہ وقف جائیدادوں کی حفاظت میںنہایت سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری لینڈسروے کے پیش نظروقف اراضیات کی تفصیلات کا بھی ان لائن اندراج عمل میںلانے کیلئے درکاری جانکاری کے متعلق پوچھنے پر محکمہ اوقاف بورڈ کے ذمہ داران کے غیر ذمہ دارنہ جواب کے بعد ہی چیف منسٹر کے چندرشیکھرر ائو نے محکمہ مال کو وقف اراضیات کی تفصیلات اکٹھاکرنے کی ذمہ داری تفویض کی ہے اور آنے والے دوچار روز میں محکمہ اوقاف بورڈ پہلے کی طرح کام کرنے لگاے گا۔ آج یہا ںوقف بورڈ کی عمارت میںذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی جانب سے کئے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جناب محمد محمود علی نے کہاکہ ریاست میں1930کے بعد بڑے پیمانے پر لینڈ سروے کاکام انجام نہیںدیاگیاجس کی وجہ سے ریکارڈس میںبہت ساری خامیاں اوردھاندلیاں بھی پیش آئی ہیں مگر حکومت تلنگانہ بالخصوص چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو اس بابت سخت فیصلے لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وقف اراضیات کے متعلق مکمل جانکاری او رریکارڈ سے اوقاف بورڈ کے ذمہ داران واقف نہیں ہیں لہذا یہ فیصلہ لیاگیا ہے کہ وقف اراضیات کے ریکارڈ کویکجا کرتے ہوئے اس کا ان لائن اندراج عمل میںلائے اور محکمہ مال سے اس کو منسلک کیاجائے تاکہ آنے والے دنوں میں وقف اراضی کو خانگی بتاکر کوئی بھی فرضی دستاویزات کے ذریعہ ان اراضیات پر قبضہ نہ کرسکے۔ جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ ایک جانکاری کے مطابق77ہزار ایکڑ وقف اراضی ریاست تلنگانہ میںموجود ہے مگر وہ اراضی کہاں پر کس شکل اورکس حالت میںہے اس کے متعلق جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے دستاویزات کی نگرانی محکمہ مال کے حوالے کردی ہے تاکہ اس میںکسی قسم کی کوئی دھاندلی کی گنجائش باقی نہیں رہے۔انہوں نے کہاکہ چار سوسال حکمرانی کی باوجود آج مسلمانوں کی پسماندگی ایک تشویش ناک امر ہے۔ انہوںنے مزید کہاکہ مستقبل کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہزاروں اور لاکھوں ایکڑ اراضی ہمارے ابا واجداد نے وقف کرائی تھی مگر پچھلے ساٹھ سالوں میںاس کا استحصال ہی ہوا ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ مگر اب حکومت تلنگانہ اس ادھورے کام کو انجام دیتے ہوئے وقف اراضیات کی تمام تفصیلات کو اکٹھاکرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں وقف جائیدادوں کی حفاظت اور ایک عظم کارنامہ انجام دی گئی۔انہوں نے کہاکہ منڈل او رضلع سطح تک کی جانکاری حاصل کی جائے گی اور اس کو آن لائن کیاجائے گا۔ انہو ںنے مزید کہاکہ اس ضمن میںکمیٹی کا بھی قیام عمل میںلایاجارہا ہے جو ایک آئی اے ایس یا پھر آئی پی ایس افیسر کی نگرانی میں وقف ریکارڈ کو یکجا کرنے اور ان لائن بنانے کا کام کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ آئی اے ایس کو سی ای او وقف بورڈ کے عہدے پر فائز کرتے ہوئے محکمہ میںنظم وضبط قائم کرنے کا بھی کام کیاجائے گا۔ایک سوال کے جواب میں مشیر حکومت تلنگانہ برائے اقلیتی امور جناب اے کے خان نے کہاکہ حکومت کا اقدام حق بجانب ہے اور وقف قوانین کے تحت ہی یہ فیصلہ لیاگیا ہے کہ وقف کی جائیدادوں کی ازسر نو جانکاری فراہم کرنے کے لئے اس طرح کا فیصلہ لیاجاسکتا ہے۔ جناب اے کے خان نے کہاکہ وقف بورڈ کے دستاویزات کو ضبط نہیں کیاگیا ہے بلکہ تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے تمام وقف ریکارڈس کو محکمہ مال کی تحویل میں دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اسٹانڈنگ کونسل میں وقف جائیدادوں کی حقیقی تعدادپر پوچھے گئے سوال پر موثر جواب نہ دینے کی وجہہ سے یہ اقدام اٹھایاگیا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ آج سے قضات کے امور شروع کردئے گئے ہیںاور بہت جلد وقف بورڈ کو بھی بحال کردیا جائے گا۔ چیرمن وقف بورڈ نے چیف منسٹر کے اقدام کی ستائش کی اور کہاکہ کے سی آر کا یہ فیصلہ وقف جائیدادوں کی حفاظت میںشاندار فیصلہ ثابت ہوگا۔ رکن وقف بورڈ عبدالوحید ایڈوکیٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT