Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ سے مربوط کرنے کی مساعی

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ سے مربوط کرنے کی مساعی

ضلع کلکٹرس کو وقف گزٹ اور دستاویزات کی روانگی، محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ کا اقدام
حیدرآباد۔/8اگسٹ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ سے مربوط کرنے کیلئے مساعی کا آغاز کیا ہے۔ تمام ضلع کلکٹرس کو پہلے وقف سروے میں موجود33929 اوقافی اداروں کی تفصیلات اور ان کے تحت موجود اراضی اور وقف گزٹ اور دیگر ضروری دستاویزات روانہ کی گئی ہیں تاکہ انہیں ریونیو ریکارڈ سے مربوط کرتے ہوئے ان جائیدادوں اور اراضیات کو ریونیو ریکارڈ میں وقف کی حیثیت سے درج کیا جائے۔ واضح رہے کہ اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات ریونیو ریکارڈ میں درج نہ ہونے کے سبب کئی جائیدادوں اور اراضیات پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں یا پھر حکومت نے اسے سرکاری قرار دیتے ہوئے اپنے استعمال میں لے لیا ہے۔ تمام ضلع کلکٹرس کو اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی جانب سے مکتوب روانہ کیا گیا اور ان سے خواہش کی گئی کہ وہ وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ سے مربوط کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ پہلے سروے کی تمام اوقافی جائیدادوں کے کمپیوٹرائزیشن کا کام مکمل ہوچکا ہے اور مواضعات اور منڈل کی تفصیلات اور گزٹ کی تفصیلات کو بھی جائیداد کے ساتھ درج کیا گیا تاکہ مستقبل میں کبھی بھی ان جائیدادوں  کے تحفظ میں کوئی دشواری نہ ہو۔ ضلع واری سطح پر جائیدادوں کے ریکارڈ کے کمپیوٹرائزیشن کے علاوہ گزٹ اور دستاویزات کے ڈیجیٹلائزیشن کا کام بھی مکمل کرلیا گیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ اس کام کی شخصی طور پر نگرانی کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں بعض ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ وقف بورڈ نے دوسرے سروے میں منظر عام پر آنے والی اوقافی جائیدادوں کے متعلقہ ریکارڈ کو بھی کمپیوٹرائز کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ سروے اور دیگر اُمور کے ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ان اراضیات کے محل وقوع اور ان کے رقبے کی تفصیلات بھی کمپیوٹرائز کی جارہی ہیں۔ تمام ضلع کلکٹرس سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی کھلی اراضی کو سرکاری استعمال میں لانے یا غریبوں میں تقسیم کرنے سے قبل اس کے ریکارڈ کو وقف ریکارڈ سے تقابل کرلیں۔ حکومت نے 2002ء میں احکامات جاری کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے ضلع کلکٹر کی صدارت میں ٹاسک فورس کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ہر ضلع میں یہ کمیٹی موجود ہے جس میں پولیس اور ریونیو کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں لیکن کسی بھی ضلع میں ان کمیٹیوں کے اجلاس منعقد نہیں کئے گئے۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ نے ضلع کلکٹرس کو ان کمیٹیوں کے اجلاس طلب کرنے کی خواہش کی۔ اسی دوران حج ہاوز سے متصل زیر تعمیر شاپنگ کامپلکس کی تکمیل کیلئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے منظوری کا حصول ابھی باقی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے پلان کی منظوری کیلئے 4کروڑ 60لاکھ 50ہزار روپئے کی ادائیگی کی شرط رکھی تھی۔ حکومت سے مسلسل نمائندگی کے بعد  وقف بورڈ کو اس رقم کی ادائیگی سے استثنیٰ دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں 20مئی 2015ء کو جی او ایم ایس 77جاری کیا گیا لیکن پلان کی منظوری ابھی تک میونسپل کارپوریشن سے حاصل نہیں ہوئی ہے۔ پلان کی منظوری کے بعد  وقف بورڈ اس زیر تکمیل شاپنگ کامپلکس کو لیز پر دینے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ  وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT