Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات میں شدت

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات میں شدت

حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال آئی پی ایس نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے وائسرائے ہوٹل ٹینک بنڈ اور اس سے متصل اوقافی اراضی کے حصول کی کارروائی شروع کی ہے ۔ وقف بورڈ وائسرائے ہوٹل کے تخلیہ کیلئے وقف ٹریبونل سے رجوع ہوگا۔ شیخ محمد اقبال نے آج پری

حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال آئی پی ایس نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے وائسرائے ہوٹل ٹینک بنڈ اور اس سے متصل اوقافی اراضی کے حصول کی کارروائی شروع کی ہے ۔ وقف بورڈ وائسرائے ہوٹل کے تخلیہ کیلئے وقف ٹریبونل سے رجوع ہوگا۔ شیخ محمد اقبال نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دو ایکڑ دو گنٹہ اوقافی اراضی پر وائسرائے ہوٹل تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس سے متصل دو ایکڑ دو گنٹہ اراضی پر ناجائز قابضین موجود ہیں۔ ان دونوں اراضیات کے حصول کیلئے سختی سے کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وائسرائے ہوٹل سے متعلق مقدمہ میں ہائی کورٹ نے اس معاملہ کی جانچ کیلئے بورڈ کو ہدایت دی تھی جس کے بعد بورڈ نے تحقیقات کرتے ہوئے اوقافی اراضی ہونے کو ثابت کیا جس کے بعد بورڈ نے وقف ایکٹ کے تحت وائسرائے ہوٹل کو نوٹس جاری کی جس کا ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے جواب دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وائسرائے ہوٹل جس اراضی پر تعمیر کی گئی ہے ، اس کے وقف ہونے کے بارے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ ریاستی اسمبلی کی وقف امور سے متعلق ایوان کی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں اسے وقف ثابت کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2005 ء میں اس وقت کے اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے وائسرائے ہوٹل کی اراضی کے بارے میں تحقیقات مکمل کی اور ہوٹل کو نوٹس جاری کی گئی۔ دو سال بعد 2007 ء میں ہوٹل انتظامیہ نے وقف بورڈ کو جواب دیتے ہوئے اپنے مالکان حقوق کا دعویٰ کیا ہے ۔ اسپیشل آفیسر نے کہا کہ ریاست میں جہاں کہیں بھی اہم اوقافی جائیدادوں پر قبضے ہیں، ان کی برخاستگی کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ناجائز قابضین کے خلاف 4 مختلف قوانین کے تحت کارروائی کی تجویز ہے۔ کسی بھی غیر مجاز قابض متولی کے خلاف وقف ایکٹ ، آئی پی سی ، انسداد کرپشن ایکٹ اور انکم ٹیکس کے تحت کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ وقف ایکٹ کے مطابق کوئی بھی متولی عوامی خدمت گزار ہوتا ہے لہذا اس کے خلاف انسداد کرپشن ایکٹ کے تحت کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متولی اگر اپنی حقیقی آمدنی کو چھپاکر وقف بورڈ کو مناسب فنڈ ادا کرنے میں ناکام ہوں تو ان کی آمدنی کے بارے میں کارروائی کیلئے معاملہ کو انکم ٹیکس سے رجوع کیا جائے گا ۔ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی اور علاء الدین وقف ٹرسٹ کے خلاف بھی ان چار قوانین کے تحت کارروائی کی تیاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہائی کورٹ کی جانب سے مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے بارے میں رپورٹ پر گزشتہ دس برسوں کے دوران عمل نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ وقف بورڈ نے تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ اوقافی جائیدادیں اپنی تحویل میں لی ہیں جو کہ مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین کے تحت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے متولی نے خود کو کرایہ دار ظاہر کرتے ہوئے معاہدہ کیا ہے ۔ شیخ محمد اقبال کے مطابق ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں کے معاملات میں تین ہفتے تک مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے منصوبہ بند مہم کے ذریعہ طلباء اور سرپرستوں میں مہم چلائی جارہی ہے کہ وقف بورڈ کی کارروائی سے طلباء کا تعلیمی مستقبل تاریک ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور تعلیمی سال کو متاثر کرنے کیلئے کوئی کارروائی نہیں کرے گا ۔ تاوقتیکہ ہائیکورٹ سے قطعی احکامات حاصل نہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی سرپرستوں نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے بھاری ڈونیشن کے حصول کی شکایت کی۔ انہوں نے سرپرستوں کو مشورہ دیا کہ اگر ہائی کورٹ کی جانب سے وقف بورڈ کے حق میں احکامات جاری ہوں تو اساتذہ اور سرپرستوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں تاکہ تعلیمی اداروں کو بہتر انداز میں چلایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے کئی حصوں سے شکایات مل رہی ہیں کہ متولی حضرات وقف بورڈ کی اجازت کے بغیر جائیدادیں لیز پر دیتے ہوئے بھاری رقومات حاصل کر رہے ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ 29 جنوری کو دہلی میں وزیراعظم کی صدارت میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مسئلہ پر اجلاس منعقد ہوگا جس میں وہ ملک گیر سطح پر ناجائز قابضین کے خلاف چار مختلف قوانین کے تحت کارروائی کی سفارش کریں گے۔ پریس کانفرنس میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ ایم اے حمید اور ڈپٹی سکریٹری محمد منور علی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT