Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے دوسرے سروے کی رپورٹ برفدان کی نذر

اوقافی جائیدادوں کے دوسرے سروے کی رپورٹ برفدان کی نذر

وقف بورڈ کی عدم توجہی کے نتیجہ میں ریاست میں 13349 جائیدادیں وقف ریکارڈ میں شامل ہونے سے قاصر
حیدرآباد۔/25جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ ایک طرف اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں مختلف اقدامات کا دعویٰ کررہا ہے تو دوسری طرف اوقافی جائیدادوں سے متعلق دوسری سروے رپورٹ پر طویل عرصہ سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کا دوسرا سروے بھی مکمل ہوچکا ہے۔ جس کے تحت مزید 13349 اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی جس کے تحت 99 لاکھ 66 ہزار 738 مربع گز اراضی موجود ہے۔ ان جائیدادوں کے بارے میں حکومت کی جانب سے گزٹ نوٹیفکیشن کی اجرائی کو یقینی بنانا وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے لیکن وقف بورڈ کے حکام کسی جائز وجہ کے بغیر اس رپورٹ کو برفدان کی نذر کرچکے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے جلال الدین اکبر کے دور میں دوسرے وقف سروے کا کام مکمل ہوا اور جلال الدین اکبر اسوقت سروے کمشنر وقف کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔ انہوں نے 13349 جائیدادوں اور اس کے تحت اراضیات کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کردی۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس رپورٹ کو جائزہ لینے کیلئے وقف بورڈ کے حوالے کیا جہاں اسے برفدان کی نذر کردیا گیا۔ نئے وقف بورڈ کی تشکیل کو 5 ماہ مکمل ہوچکے ہیں لیکن بورڈ نے ابھی تک سیکنڈ سروے رپورٹ کا جائزہ لینے کی زحمت نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ جن عہدیداروں کے ذریعہ سیکنڈ سروے رپورٹ میں درج جائیدادوں اور اراضیات کی جانچ کی جارہی تھی ان میں بیشتر کو خدمات سے علحدہ کردیا گیا جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ میں کوئی ماہر عہدیدار موجود نہیں ہے۔ سابق چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے رپورٹ کے جائزہ کا کام مکمل کرنے کیلئے ٹیم تشکیل دی تھی لیکن ان کے تبادلے کے بعد یہ کام ادھورا رہ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیکنڈ سروے رپورٹ میں اراضیات کے نقشے اور سروے نمبرس میں بعض تضاد پائے گئے جن کی درستگی ضروری ہے۔ وقف بورڈ ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے گزٹ نوٹیفکیشن کی اجرائی کیلئے حکومت کو رپورٹ روانہ کرنا چاہیئے۔ حکومت کی جانب سے مزید کوئی اعتراض ہو تو اسے دوبارہ وقف سروے کمشنر سے رجوع کیا جاتا۔ 2013 سے قبل وقف بورڈ کو اختیار حاصل تھا کہ وہ وقف سروے رپورٹ کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرے لیکن حالیہ ترمیمی قانون کے بعد حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کی عدم توجہی کے نتیجہ میں تلنگانہ میں 13349 جائیدادیں وقف ریکارڈ میں شامل ہونے سے قاصر ہیں۔ واضح رہے کہ 1962 میں پہلے وقف سروے کا آغاز ہوا اور 1990 تک بھی مختلف گزٹ نوٹیفکیشن جاری کئے گئے۔ پہلے سروے میں تلنگانہ میں 32157 اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی جس کے تحت 77 ہزار 538 ایکر اوقافی اراضی موجود ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس میں سے 80 فیصد سے زائد اراضی پر ناجائز قبضے ہیں۔ وقف بورڈ ایک طرف آمدنی میں اضافہ کے لئے مہم کا آغاز کرچکا ہے تو دوسری طرف ناجائز قبضوں کی برخواستگی اور سیکنڈ سروے کے تحت شامل ہونے والے 13000 سے زائد جائیدادوں پر کوئی توجہ نہیں۔

TOPPOPULARRECENT