Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کے بارے میں خدشات

اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کے بارے میں خدشات

12 ہزار جائیدادوں کی دستاویزات کی گمشدگی پر تفصیلات جمع کرنے کے اقدامات

حیدرآباد ۔ /27 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے متعلق حکومت کی جانب سے کئے گئے دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے اس بات کا اندازہ اسی وقت ہوگا جب حکومت شہر حیدرآباد کے اطراف و اکناف موجود وقف جائیدادوں کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کرے ۔ محکمہ مال تقریباً 12 ہزار جائیدادوں کے دستاویزات کے غائب ہوجانے کی اطلاع کے ساتھ ہی اس بات کا بھی خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ پتہ نہیں ان 12 ہزار جائیدادوں میں کتنی اوقافی جائیدادوں کے دستاویزات ہے جو غائب ہیں ۔ اس بات کی تفصیلات تاحال دستیاب نہیں ہیں ۔ محکمہ مال کے عہدیداروں کے بموجب گمشدہ 12 ہزار دستاویزات کے نقول کے مالکین جائیداد سے طلب کرتے ہوئے ریکارڈ کو صحیح کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن محکمہ مال کے عہدیداروں کے اس بیان سے کئی خدشات اور پیدا ہوسکتے ہیں جیسے اگر کسی اوقافی جائیداد کا ریکارڈ محکمہ مال کے پاس موجود نہ ہو اور کوئی قابض اپنا ادعا و جعلی دستاویزات پیش کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس وقف جائیداد کی ملکیت محکمہ مال کی نظر میں قابض کی ہوجائے گی ۔ اس صورتحال کے باوجود تلنگانہ وقف بورڈ کے متحرک نہ ہونے سے بھی کئی خدشات پیدا ہورہے ہیں ۔ محکمہ مال کے تقریباً 12 ہزار جائیدادوں کے دستاویزات غائب ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور خاص طور پر اس صورت میں جب گمشدہ دستاویزات کی بڑی تعداد ضلع رنگاریڈی کی جائیدادوں سے متعلق ہو ۔ شہر حیدرآباد سے متصل ضلع رنگاریڈی گمشدہ جائیدادوں کے ریکارڈس کی فہرست میں سرفہرست بتایا جاتا ہے جہاں سے 3995 جائیدادیں لاپتہ دکھائی جارہی ہیں ۔ ضلع رنگاریڈی میں کئی ایسی بڑی اوقافی جائیدادیں ہیں جن پر قانونی چارہ جوئی اور عدالتی رسہ کشی کا عمل جاری ہے ۔ علاوہ ازیں کئی جائیدادوں پر قابضین ملکیت کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ ضلع رنگاریڈی میں موجود بڑی اوقافی جائیدادوں درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کے تحت موقوفہ منی کونڈہ جاگیر ، جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ اراضی ، درگاہ حضرت بابا شرف الدینؒ پہاڑی شریف کی موقوفہ جائیداد کے علاوہ دیگر کئی ایسی جائیدادیں ہیں جن کے مقدمات زیردوران ہیں ۔ اگر ان جائیدادوں یا پھر بعض دیگر جائیدادوں کے دستاویزات بھی ان لاپتہ جائیدادوں کے دستاویزات کی فہرست میں شامل ہیں تو پھر ایسی صورت میں ضلع رنگاریڈی کی اوقافی جائیدادوں کو بڑا خطرہ لاحق ہوچکا ہے ۔ محکمہ مال اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اگر فوری طور پر اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈس کی تنقیح اور دستاویزات کے متعلق وضاحت نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں یہی تصور کیا جائے گا کہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے مرتکبین بھی ان دستاویزات کو لاپتہ کرنے کے عمل میں برابر کے ذمہ دار ہیں ۔ اتنا ہی نہیں ضلع رنگاریڈی کے علاوہ حیدرآباد و دیگر اضلاع کے گمشدہ دستاویزات کے متعلق تفصیلات اکٹھا کیا جانا اس لئے ضروری ہے کہ اس بات کا پتہ چلایا جاسکے کہ کہیں منظم سازش کے تحت جائیدادوں کے دستاویزات کی گمشدگی کے ذریعہ سرکاری و اوقافی جائیدادوں کو ہڑپنے کی کوشش تو نہیں کی گئی ہے ؟

Top Stories

TOPPOPULARRECENT