اوقافی جائیدادوں کے مقدمات پر آج اسٹینڈنگ کونسل اور لیگل ڈپارٹمنٹ کا اجلاس

کونسل اور لیگل ڈپارٹمنٹ کو متحرک کرنے کا فیصلہ ، محمد سلیم چیرمین وقف بورڈ
حیدرآباد۔ 15 ڈسمبر (سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے عدالتوں میں جاری مقدمات کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کل 16 ڈسمبر کو اسٹینڈنگ کونسلس اور بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ کا اجلاس طلب کیا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی اور دیگر عہدیدار اجلاس میں مختلف عدالتوں میں زیر دوران مقدمات میں قانونی پیشرفت کی تفصیلات سے واقف کرائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں لیگل ڈپارٹمنٹ کی سست روی اور عدم توجہی کے نتیجہ میں ہائی کورٹ اور تحت کی عدالتوں میں اوقافی جائیدادوں کے مقدمات کے فیصلے بورڈ کے خلاف آئے ہیں۔ ان حالات میں صدرنشین وقف بورڈ نے اسٹینڈنگ کونسلس اور لیگل ڈپارٹمنٹ کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی برسوں سے عدالتوں میں مقدمات زیر دوران ہیں اور اسٹینڈنگ کونسلس کو شکایت ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کے عدم تعاون کے سبب مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔ مقدمات کے سلسلہ میں بورڈ سے درکار دستاویزات بروقت فراہم نہیں کیے جاتے۔ اس کے علاوہ عام شکایت یہ ہے کہ بورڈ کسی بھی مقدمہ میں حلف نامہ تیار کرنے میں تاخیر سے کام لے رہا ہے۔ حالیہ عرصہ میں انوارالعلوم کالج، عیدگاہ گٹلا بیگم پیٹ، درگاہ یوسفین اور دیگر اہم مقدمات میں اسٹینڈنگ کونسلس کی پیشرفت سے بورڈ مطمئن نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ اجلاس میں اسٹینڈنگ کونسلس کو جو ہدایت دی گئی تھی اس پر بھی عمل آوری نہیں کی گئی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اسٹینڈنگ کونسلس کی تعداد میں اضافہ اور موجودہ کونسلس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ اسی دوران وقف بورڈ میں این او سی اسکام کی تحقیقات کا خوف برقرار ہے اور مختلف سیکشنوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ پولیس کی جانب سے مختلف سیکشنوں کی کارکردگی پر نظر رکھے جانے کی اطلاعات کے سبب عہدیدار کافی محتاط ہوچکے ہیں۔ روز مرہ کی فائیلوں کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے تقریباً 45 ملازمین کو ریاست میں جاری اراضی سروے کے کاموں سے وابستہ کردیا گیا جس کے باعث بورڈ میں اسٹاف کی تعداد گھٹ چکی ہے۔ مختلف مسائل کے سلسلہ میں بورڈ سے رجوع ہونے والے افراد کو شکایت ہے کہ انہیں خاطر خواہ سماعت نہیں کی جارہی ہے۔ نومبر میں بورڈ کو حکومت کی جانب سے مہربند کیے جانے کے بعد سے بورڈ کی کارکردگی متاثر ہوئی اور دفاتر کو کھولنے کے باوجود ابھی تک باقاعدہ کام کاج بحال نہیں ہوسکا۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکر غیر مجاز قابضین اوقافی اراضیات کے معاملات میں مصروف ہیں اور بورڈ میں لینڈ مافیا سے وابستہ افراد کی سرگرمیاں خفیہ طور پر دیکھی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT