Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی ریکارڈ میں 13 ہزار 349 جائیدادوں کی شمولیت کیلئے نوٹیفیکشن جاری کرنے کی مساعی

اوقافی ریکارڈ میں 13 ہزار 349 جائیدادوں کی شمولیت کیلئے نوٹیفیکشن جاری کرنے کی مساعی

وقف سکنڈ سروے رپورٹ پر عدم کارروائی کا جائزہ ، چیرمین بورڈ الحاج محمد سلیم کا جائزہ اجلاس
سیاست کی خبر کا اثر

حیدرآباد۔26 جولائی (سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے دوسرے سروے رپورٹ کو وقف بورڈ میں برفدان کی نذر کرنے سے متعلق روزنامہ سیاست میں رپورٹ کی اشاعت کے فوری بعد وقف بورڈ خواب غفلت سے جاگا اور صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے سیکنڈ سروے رپورٹ پر عدم کارروائی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے عہدیداروں پر مشتمل 10 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جسے اندرون دو ماہ رپورٹ کا جائزہ لینے کی مہلت دی گئی۔ کمیٹی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ دوسرے سروے رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو روانہ کریں تاکہ اوقافی ریکارڈ میں مزید 13,349 جائیدادوں کی شمولیت کے لیے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ واضح رہے کہ وقف سروے کمشنر نے تقریباً ایک سال قبل دوسری سروے رپورٹ روانہ کی تھی اور وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں دی گئی تفصیلات اور ریکارڈس کا جائزہ لیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ روانہ کی جاتی ہیں اور حکومت نئی جائیدادوں کے بارے میں گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ اس کام پر گزشتہ چھ ماہ سے کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ سیاست میں رپورٹ کی اشاعت کے بعد وقف بورڈ خواب غفلت سے بیدار ہوا اور صدرنشین محمد سلیم نے عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے اس لاپرواہی پر برہمی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ 13,349 جائیدادوں کی شمولیت کے بارے میں عہدیداروں کی بے حسی اور غفلت کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ محمد سلیم نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ بورڈ غیر مجاز قبضوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے، وقف بورڈ کے عہدیداروں نے دوسرے سروے رپورٹ کو برفدان کی نذر کرتے ہوئے وقف بورڈ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ صدرنشین کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ عہدیدار وظیفہ پر سبکدوش ہوگئے تو دیگر ملازمین کو اس کام پر مامور کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے سیکنڈ سروے رپورٹ کا جائزہ لینے کا کام جنگی خطوط پر انجام دینے کے لیے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی سے مشاورت کے بعد 10 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی فوری طور پر کام کا آغاز کردے گی اور وقف ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے نئی جائیدادوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ اس کمیٹی میں ریٹائرڈ تحصیلدار اور سرویئرس کو شامل کیا گیا ہے۔ سابق میں وقف سروے کمشنر کے تحت کام کرنے والے ملازمین کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا گیا تاکہ اسنادات اور دستاویزات کی جانچ میں مدد ملے۔ واضح رہے کہ نئی جائیدادوں کی شمولیت کے سلسلہ میں گزٹ نوٹیکفیشن کی اجرائی کا اختیار حکومت کو حاصل ہے۔ سیکنڈ سروے کی تکمیل کے لیے تقریباً 15 سال لگ گئے کیوں کہ کسی بھی حکومت نے سروے کی عاجلانہ تکمیل پر توجہ نہیں دی۔ سروے کے سلسلہ میں حکومتوں نے کبھی بھی موزوں عہدیداروں کا تقرر نہیں کیا یا پھر وقف سروے کمشنر کے تحت درکار اسٹاف الاٹ نہیں کیا گیا۔ وقف سیکنڈ سروے کی تکمیل کے سلسلے میں کمشنر کو ہر چھ ماہ توسیع دی جاتی رہی اور حسن علی بیگ کے دور میں یہ کام تقریباً مکمل ہوا جبکہ انچارج سروے کمشنر کی حیثیت سے جلال الدین اکبر نے رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ وقف بورڈ کی جانب سے اگر سیکنڈ سروے رپورٹ کا جائزہ لینے کا کام جلد مکمل کرلیا جائے تو وقف بورڈ کے ریکارڈ میں مزید 13 ہزار سے زائد جائیدادوں کا اضافہ ہوگا اور اس کے تحت اراضی بھی وقف قرار پائے گی۔ جس طرح پہلے سروے میں شامل کی گئیں 32 ہزار سے زائد جائیدادوں میں 80 فیصد غیر مجاز قابضین کے تحت ہیں، سیکنڈ سروے کی جائیدادوں میں اس بات کا تعین کرنا بھی باقی ہے کہ کتنی جائیدادیں ناجائز قابضین کے تحت ہیں۔

TOPPOPULARRECENT