Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / اوقاف کی اراضیات پر عنقریب پانچ اسکولس کا قیام

اوقاف کی اراضیات پر عنقریب پانچ اسکولس کا قیام

آر کے آنند کی مفت قانونی خدمات ‘ نوٹسوں کا اجراء ‘ کرایہ میں اضافہ کی کوشش : امان اللہ خان

نئی دہلی۔17اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) صدرنشین دہلی وقف بورڈ امان اللہ خان جو جامعہ نگر دہلی کے رکن اسمبلی بھی ہیں ‘ کہا کہ عنقریب پانچ اسکولس وقف اراضیات پر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ شاہین باغ یہ جلسہ وقف اراضیات کے تحفظ کیلئے اُن کی خدمات کی تہنیت پیش کرنے کیلئے منعقد ہوا تھا ۔  انہوں نے کہا کہ اگر ہم مناسب اور مثبت استعمال کریں تو اوقاف کی اراضیات نہ صرف محفوظ رہیں گی بلکہ جس مقصد کیلئے یہ وقف کی گئی ہیں اُس کی تکمیل بھی ہوگی لیکن ہمیں سماجی اور تعلیمی سطح پر مضبوط بننا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کی اراضیات کے تحفظ اور اُن کے مثبت استعمال کیلئے ایک وقف ڈیولپمنٹ کمیٹی ہر اسمبلی حلقہ میں قائم کی جائے گی جس میں سماجی کارکن ‘ علماء اور دانشوروں کو شامل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نوٹسیں روانہ کی ہیں اور اوقاف اراضیات جہاں کہیں بھی ہوں ان کو اس میں شامل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح اوقاف اراضیات اور جائیدادوں سے آمدنی میں اضافہ ہوگا ۔ اس سلسلہ میں ہدایات بھی جاری کی جاچکی ہیںکہ آمدنی میں 7فیصد اضافہ ہونا چاہیئے ۔ اس کے علاوہ مناسب توجہ بھی دی جانی چاہیئے تاکہ جن وقف اراضیات پر مختلف مقامات پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں ان کے کرایوں میں اضافہ کیا جاسکے اور کرایہ داروں کو بازار کی شرح پر کرایہ ادا کرنا لازمی قرار دیا جائے ۔ وقف کی ایسی ہی ایک جائیداد غیرقانونی قبضہ میںہے جس کے بارے میں ایک مقدمہ عدالت میں زیردوران ہے ۔ شیورہ کوٹھی مغربی بنگال ‘ پہاڑ گنج کے مشہور قانون داں آر کے آنند نے رضاکارانہ طور پر مقدمہ لڑنے کیلئے اپنی خدمات پیش کی ہیں اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس مقدمہ کیلئے کوئی فیس حاصل نہیں کریں گے ۔ امان اللہ خان نے اس مقدمہ پر ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور وقف بورڈ کے سی ای او ایس ایم علی نے کہا کہ مقدمہ وکیل آنند کے پاس ہے ۔ دریں اثناء کرایہ میں اضافہ کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں اور امکان ہے کہ ایسا ہوجائے گا ۔ دریںاثناء وقف اراضی پر اسکولس قائم کرنے کی تجویز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT