Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / اولاد کی بے رخی، بوڑھے ماں باپ کی تڑپ

اولاد کی بے رخی، بوڑھے ماں باپ کی تڑپ

ضعیف والدین کو ہراسانی، حیدرآباد دوسرے نمبر پر

محمد نعیم وجاہت
ممی پاپا فکر مت کیجئے میں، آپ کی بہو، پوتے پوتیاں سب یہاں خوش ہیں۔ کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ چاہنے والی بیوی اور ایسی اولاد میرے ساتھ ہے جنھیں دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو بے پناہ سکون ملتا ہے۔ پتہ چلا ہے آپ لوگوں کی طبیعت ناساز ہے۔ آپ دونوں کو کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اچھے سے اچھے ڈاکٹر سے علاج کروایئے۔ پیسوں کی فکر نہ کریں جتنا چاہے پیسہ بھیج دوں گا۔ یہ الفاظ اُس بیٹے کے ہیں جو اس نے اپنے بیمار والدین سے بات چیت کے دوران ادا کئے ہیں۔ بیرون ملک مقیم بیٹا فون پر اپنے والدین کو اپنی دولت اور بیوی بچوں سے اپنے پیار کے بارے میں بتاتے ہوئے خوشی کا اظہار کررہا تھا۔ فون کی دوسری طرف اس کے ماں باپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ شاید وہ اپنے بیٹے کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ تم تو اپنی اولاد کو عزیز رکھتے ہو، اُن سے دور ہونے کا تصور بھی نہیں کرتے لیکن جن ماں باپ نے تمہیں پیدا کیا اُنھیں بے یار و مددگار چھوڑ کر چلے گئے اور پیسے کو ہی سب کچھ سمجھ لیا۔
اللہ رب العزت نے ماں باپ کا رشتہ بھی ایسا بنایا ہے کہ اس میں پیار ہی پیار بسا ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ اولاد کا پیار ماں باپ کیلئے ہر چیز سے عزیز رکھا ہے۔ ہم انسان تو کیا جانور، پرندے اور دوسرے جاندار بھی اپنی اولاد کے پاس کسی خطرے کو قریب بھی آنے نہیں دیتے۔ وہ اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ہرممکن کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے سے زیادہ طاقتور سے بھی لڑنے سے گریز نہیں کرتے۔ جانور اور پرندے اپنے بچوں سے کوئی توقع نہیں رکھتے لیکن حضرت انسان اپنی اولاد کو اُمید سے پالتے ہیں۔ پڑھا لکھا کر اس قابل بناتے ہیں کہ جب وہ خود بوڑھے، کمزور، ناتواں ہوجائیں تو ان کی اولاد بوڑھے کاندھوں کا سہارا بنے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے معاشرے میں بوڑھے والدین کی اکثریت انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ سماج میں اخلاق، اقدار، احترام، حسن سلوک دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ اکثر تعلیم یافتہ گھرانوں میں والدین کے ساتھ اولاد کا سلوک انتہائی قابل افسوس ہے۔ آج کی نئی نسل اپنی تہذیب کو فراموش کرتے ہوئے مغربی تہذیب کو اپنانے میں فخر محسوس کررہی ہے جہاں پر والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں تو انھیں اولڈ ایج ہوم منتقل کردیا جاتا ہے یا انھیں گھر میں وہ سکون و آرام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ موجودہ دور کی نئی نسل والدین کو بوجھ تصور کررہی ہے۔
ایک باپ بخوشی 10 بچوں کی کفالت کرتا ہے۔ ماں بچے کو 9 ماہ اپنے پیٹ میں رکھتی ہے اور بچہ پیدا ہونے پر والدین کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ بالخصوص بیٹے کی پیدائش پر اس کو اپنا جانشین مانتے ہیں۔ بچوں کو بڑا کرنے میں والدین دن رات ایک کردیتے ہیں۔ جب بچے کی طبیعت خراب ہوتی ہے تو اُس کی عاجلانہ صحت کے لئے دواخانوں کے چکر لگاتے ہیں۔ خود بھوکے رہ کر اس کو زمانے کے حساب سے اچھی تعلیم دلانے کے لئے قرض کے حصول سے بھی گریز نہیں کرتے۔ قرض کے بوجھ کا شکار ماں باپ گاڑی اور پاکٹ منی کی بھی سہولت اپنے بچوں کو فراہم کرتے ہیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد حصول ملازمت کے لئے ہر طرح کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بچے کو ملازمت ملنے کے بعد ماں باپ میں ایک اور خواہش جنم لیتی ہے کہ اس کی شادی کریں، ان کی اولاد کو اپنی گود میں لے کر کھیلیں۔ جب والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں، جسمانی و مالی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں اور انھیں جب سہارے کی ضرورت پڑتی ہے، ایک ایک کرکے سب گھر سے چلے جاتے ہیں۔ بیٹیاں ہیں تو ان کی شادی ہوجاتی ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ جب انسان معاشی طور پر کمزور ہوجاتا ہے تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ رشتہ دار بھی اکثر منہ موڑ لیتے ہیں۔ اس عمر میں اگر وہ بیمار ہوجائیں تو علاج معالجہ کے لئے ان کے پاس کوئی رقم نہیں ہوتی اور کوئی ان کی تیمارداری کرنے والا نہیں ہوتا۔ دوستو ! میں نے سطور بالا میں جو کچھ تحریر کیا ہے، کوئی کہانی نہیں بلکہ یہ موجودہ دور کے ماں باپ کے تئیں بچوں کے سلوک کی حقیقت ہے۔ آج ایسے بے شمار والدین ہیں جنھیں حویلی نما تمام سہولتوں سے آراستہ مکانات ہیں جن کے بچے انھیں گھریلو خادموں کے سہارے چھوڑ کر بیرون ملک سکونت پذیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج نہ صرف حیدرآباد بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں تیزی سے بیت المعمرین (اولڈ ایج ہوم) کھولے جارہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ماں باپ سے اولاد کی بے رغبتی جیسی سنگین صورتحال میں یہ اولڈ ایج ہوم ایک بڑی نعمت ثابت ہورہے ہیں۔ ضعیف والدین کی دیکھ بھال ان کی خدمت کے بجائے انھیں بے یار و مددگار چھوڑنے والوں میں صرف بیرونی ممالک میں مقیم اولاد ہی شامل نہیں ہے بلکہ خود شہر میں رہتے ہوئے بھی کئی بدنصیب بچے اپنے سکون و آرام اور بیوی بچوں کی خاطر والدین کو تنہا چھوڑ رہے ہیں یا پھر انھیں اولڈ ایج ہوم منتقل کررہے ہیں۔ جہاں پر انھیں رہنے کی سہولت اور کھانا پینا تو مل جاتا ہے لیکن وہ گھر کے ماحول اور آزادی سے محروم ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود آپ ماں باپ کی وسیع القلبی دیکھیں کہ وہ اولاد کو کبھی بد دعا نہیں دیتے۔ ہم نے کئی ایسے ماں باپ کو دیکھا ہے جو اولاد کے ہوتے ہوئے گھر میں برتن مانجھنے پر مجبور ہیں۔ باپ مزدوری کرتا ہے، دوکان پر کام کرتا ہے، کچھ کام کرنے کے قابل نہ ہونے پر بھیک بھی مانگتے ہیں۔ کئی ایسے افراد ہیں جنھوں نے سماجی خدمت اور کاروبار کے طور پر اولڈ ایج ہوم قائم کئے ہیں جہاں پر اپنی اولاد کی بے اعتنائی کا شکار لوگ مقیم ہوتے ہیں۔ جن لوگوں نے ان بے سہارا ضعیف افراد کیلئے اولڈ ایج ہوم قائم کئے ہیں خدا انھیں اس دنیا میں بھی اجر دے گا اور آخرت میں بھی اس کا اجر بے حد ہے۔
شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے کئی اضلاع میں ایسے کئی اولڈ ایج ہوم ہیں جہاں فی کس ماہانہ 5 تا 33 ہزار روپئے فیس وصول کی جارہی ہے۔ انھیں ہر سہولت مہیا کی جارہی ہے۔ ہم چند ایسے دکھ بھرے واقعات بتائیں گے جس کو پڑھنے کے بعد آپ بھی افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ایک جوڑے نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خوب پڑھا لکھا کر امریکہ روانہ کیا۔ والد کے انتقال کی خبر سننے کے بعد آخری رسومات میں پہونچنے والے فرزند نے اپنی ماں کو امریکہ لیجانے کا وعدہ کرتے ہوئے ساری جائیداد فروخت کردی اور اپنے ساتھ لیجاتے ہوئے بوڑھی ماں کو دبئی میں چھوڑ کر خود امریکہ پہنچ گیا۔ 70 سالہ بوڑھی خاتون وہاں کے عہدیداروں سے منت سماجت کرکے حیدرآباد پہونچ کر اپنے بیٹے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ ایک دیگر واقعہ میں ماں کی موت کی خبر سن کر امریکہ سے حیدرآباد پہونچنے والے بیٹے نے آخری رسومات کے بعد شمشان گھاٹ سے سیدھے فلائیٹ کا بہانہ کرتے ہوئے ایرپورٹ پہونچ گیا۔ جب بوڑھے باپ کی جانب سے اولاد سے سوال کیا گیا تو اس نے جائیداد میں حصہ نہ ہونے کا عذر پیش کیا۔ سکندرآباد کے رہنے والے شخص کو ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ اس نے اپنی ساری جائیداد فروخت کرتے ہوئے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ روانہ کیا اور بیٹی کی شادی کردی۔ ایم ایس کی تعلیم مکمل کرکے وطن واپس آنے والے بیٹے نے ماں باپ کو بتائے بغیر بنگلور میں ماہانہ دیڑھ لاکھ روپئے تنخواہ کی ملازمت ڈھونڈ لی اور شادی بھی کرلی۔ والد کے قلب کے آپریشن کی خبر سن کر ملنے بھی نہیں آیا۔ بڑی مشکل سے پتہ تلاش کرتے ہوئے بنگلور پہونچنے والے بوڑھے ماں باپ کو گھر سے ڈھکیل دیا۔ پولیس کیس کرنے پر ماہانہ 10 ہزار روپئے کھانے اور 4 ہزار روپئے میڈیسن کیلئے دینے سے اتفاق کیا۔ عالمی شہرت یافتہ مشہور کپڑوں کی کمپنی ریمنڈ جس کا 10 ہزار کروڑ روپئے کا کاروبار ہے، اس کمپنی کے مالک 78 سالہ وجئے پتھ سنگھانیا کو ان کے بیٹے نے گھر سے بیدخل کردیا۔ اب وہ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں اور انصاف کے لئے عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ ملک کے کئی شہروں میں ضعیف والدین کے ساتھ ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس معاملے میں بنگلور سرفہرست ہے جہاں 70 فیصد واقعات درج کئے گئے ہیں۔ دوسرے مقام پر حیدرآباد ہے جہاں 60 فیصد، تیسرے مقام پر کولکتہ ہے جہاں 52 فیصد، چوتھے مقام پر گوہاٹی جہاں 50 فیصد، پانچواں مقام پر چینائی ہے جہاں 49 فیصد ، چھٹے مقام پر ممبئی جہاں 33 فیصد اور ساتویں مقام پر دہلی ہے جہاں 23 فیصد واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT