Saturday , December 15 2018

اوما مادھو ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت بیٹی کی گھر واپسی کے مانند : کے سی آر

مادھو ریڈی کی بیوہ اور ان کے فرزند سندیپ ریڈی کی شمولیت تقریب ، چیف منسٹر تلنگانہ کا خطاب
حیدرآباد۔ 14 ڈسمبر (سیاست نیوز) اوما مادھو ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کسی بیٹی کی اپنے گھر واپسی کی طرح ہے۔ اوما مادھو ریڈی میرے لیے سگی بہن سے کم نہیں۔ تلنگانہ کی ترقی کے لیے انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی اور وہ کسی بھی عہدے کی خواہشمند نہیں ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے آج تلنگانہ بھون میں اوما مادھو ریڈی اور ان کے فرزند سندیپ ریڈی کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ سابق وزیر اور نکسلائٹس کے حملے میں ہلاک مادھو ریڈی کی بیوہ کو 2014ء انتخابات میں حلقہ اسمبلی بھونگیر سے تلگودیشم کے ٹکٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کے فرزند سندیپ ریڈی بھونگیر ضلع کے تلگودیشم صدر تھے اور دونوں نے اپنے بہتر سیاسی مستقبل کے پیش نظر ٹی آر ایس میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی موجودگی میں اپنے حامیوں اور مجالس مقامی کے عوامی نمائندوں کے ساتھ یہ شمولیت اختیار کی گئی جسے ضلع میں ٹی آر ایس کے استحکام میں مددگار سمجھا جارہا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ اوما مادھو ریڈی ان کے لیے سگی بہن کی طرح ہیں اور پارٹی میں ان کی شمولیت ایسے ہی ہے جیسے کوئی بیٹی اپنے پیدائشی مکان واپس ہو۔ 1985ء میں میں اور مادھو ریڈی ایک ساتھ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ تلنگانہ ریاست کے لیے فنڈس کی اجرائی کے مسئلہ پر میں اور مادھو ریڈی نے مل کر اس وقت کے چیف منسٹر سے نمائندگی کی تھی۔ کے سی آر نے بتایا کہ چندرا بابو نائیڈو نے جب برقی کی شرحوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا تو انہوں نے مادھو ریڈی کے ساتھ مل کر کابینہ میں مخالفت کی تھی۔ کے سی آر نے کہا کہ مادھو ریڈی میرے جگری دوست تھے۔ سیاست میں دونوں نے ایک ساتھ قدم رکھا لیکن ہمارے روابط سیاست سے بالاتر رہے۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ ضلع کی ترقی کے لیے مادھو ریڈی نے جو مساعی کی ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ نلگنڈہ ضلع سے کئی وزراء ہوئے لیکن مادھو ریڈی وہ واحد شخصیت تھے جو ضلع کے چپہ چپہ سے واقف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس میں اوما مادھو ریڈی اور سندیپ ریڈی کے لیے بہتر مستقبل رہے گا۔ سندیپ ریڈی تجربہ کار شخصیت ہیں اور سیاست میں کب کس کے لیے بہتر مواقع پیدا ہوجائیں کہا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندیپ ریڈی کے لیے ٹی آر ایس میں ترقی کے بہتر مواقع ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان دنوں سیاست میں صبر کا مادہ کم ہوچکا ہے اور پارٹی میں شمولیت کے ساتھ ہی دوسرے دن عہدوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ٹی آر ایس میں شمولیت کے لیے اوما مادھو ریڈی نے مجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور ان کی شمولیت غیر مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوما مادھو ریڈی نے کسی بھی عہدے کی خواہش نہیں کی جو ان کی تہذیب کو ظاہر کرتا ہے۔ ریاست کی ترقی میں خود کو شامل کرنے کے لیے اوما مادھو ریڈی کی شمولیت سے انہیں خوشی ہے۔ سیاست میں کامیابی اور شکست عام بات ہے اور کسے کب مواقع حاصل ہوجائیں کہا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے تیقن دیا کہ ٹی آر ایس میں سندیپ ریڈی کے لیے بہتر سیاسی مستقبل رہے گا۔ ریاست کی ترقی کے لیے اپنی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا چاہے کچھ ہوجائے وہ مخالفتوں کی پرواہ کیے بغیر ریاست کی ترقی اور عوام کی بھلائی کو ی یقینی بنائیں گے۔ ریاست میں عوام کو درپیش مسائل کی یکے بعد دیگرے یکسوئی کی کوشش کی جارہی ہے۔ ضلع کے لیے آبپاشی ضرورتوں اور پینے کے پانی کی سربراہی کا چیف منسٹر نے تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشن بھگیرتا کے تحت گھر گھر پینے کا پانی سربراہ کیا جائے گا۔ بھونگیر ضلع میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر صنعتوں کے قیام کا تیقن دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری سے کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کی سمت پیش قدمی کررہی ہے۔ اوما مادھو ریڈی کے ہمراہ ان کے حامیوں کے نرسمہا ریڈی، جی بال ریڈی، پانچ منڈلوں کے تلگودیشم صدور این مادھو ریڈی، سی شیویا گوڑ، جنگا ریڈی، جئے راملو، بھونگیر نائب ایم پی پی ایم سرینواس، بھونگیر سٹی تلگودیشم صدر ڈی رمیش، سابق سرپنچ، سابق ایم پی ٹی سی اور دیگر سابق عوامی نمائندوں اور کارکنوں کی کثیر تعداد نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ اس تقریب میں ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری، ریاستی وزیر جگدیش ریڈی، ارکان اسمبلی ویریشم، کشور، شیکھر ریڈی، ارکان کونسل کے پربھاکر، سرینواس ریڈی اور دیگر عوامی نمائندے شریک تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT