Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اوورسیز اسکالرشپ کیلئے آمدنی کی حد 5 لاکھ روپئے کردی گئی

اوورسیز اسکالرشپ کیلئے آمدنی کی حد 5 لاکھ روپئے کردی گئی

شادی مبارک اسکیم کیلئے برتھ سرٹیفکیٹ کے بجائے متبادل اسناد قابل قبول ،دو علیحدہ جی اوز جاری

حیدرآباد ۔21 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے اسمبلی میں اقلیتوں سے متعلق کئے گئے اعلانات پر باقاعدہ احکامات کی اجرائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے دو علحدہ جی او جاری کئے جو شادی مبارک اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیم سے متعلق ہے۔ حکومت نے شادی مبارک اسکیم سے استفادہ کیلئے لڑکی کی عمر کے سلسلہ میں مختلف سرکاری اسنادات کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اکثر غریب خاندانوں میں برتھ سرٹیفکیٹ موجودہ نہیں ہوتا، لہذا درخواستوں کی جانچ کے موقع پر عہدیدار درخواست گزاروں کو برتھ سرٹیفکٹ پیش کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے حکومت نے دیگر اسنادات کو عمر کی تصدیق کے طور پر قبول کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ جی او ایم ایس 31 کے مطابق برتھ سرٹیفکٹ نہ ہونے کی صورت میں ایس ایس سی مارکس میمو ، ووٹر آئی ڈی ، پاسپورٹ ، آدھار کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی قابل قبول ہوں گے جس پر امیدوار کی تاریخ پیدائش درج ہوتی ہے۔ ڈائرکٹر سنٹر فار گڈ گورننس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شادی مبارک اسکیم کے شرائط کے سلسلہ میں مذکورہ سرکاری پروف کو قبول کرنے کیلئے اقدامات کریں ۔ ایک اور جی او نمبر 32 جاری کیا گیا جس کے تحت اوورسیز اسکالرشپ اسکیم سے استفادہ کیلئے آمدنی کی حد کو تین لاکھ روپئے سے بڑھاکر پانچ لاکھ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کے مطابق ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طلبہ کی طرح اقلیتی طلبہ کے لئے بھی اوورسیز اسکالرشپ سے استفادہ کے سلسلہ میں سالانہ آمدنی کی حد 3 لاکھ روپئے مقرر کی گئی تھی۔ گزشتہ اسمبلی اجلاس میں اس مسئلہ پر طویل مباحث کے بعد حکومت نے آمدنی کی حد کو پانچ لاکھ کرنے سے اتفاق کیا۔

ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے طلبہ کیلئے بھی آمدنی کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ ان احکامات پر فوری اثر کے ساتھ عمل آوری کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کل منعقدہ جائزہ اجلاس میں سکریٹری اقلیتی بہبود کو دونوں احکامات فوری جاری کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے مطابق دو جی اوز جاری کئے گئے۔ چیف منسٹر نے اسمبلی میں 20 سے زائد اعلانات اور تیقنات دیئے ہیں، جن کا تعلق مختلف محکمہ جات سے ہے۔ چیف منسٹر کے تیقنات پر عمل آوری اور احکامات کی اجرائی کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے متعلقہ محکمہ جات کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کی طرح اقلیتی طلبہ کیلئے بھی رعایتوں کا اعلان کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں محکمہ سماجی بھلائی سے احکامات کی اجرائی باقی ہے ۔ اقلیتی نوجوانوں کو بینک سے تعلق کے بغیر خود روزگار اسکیم کے تحت راست قرض کی اجرائی کے سلسلہ میں اسکیم کی تیاری پر عہدیداروں نے مشاورت کا آغاز کیا ہے۔ ریاست کے 40 مختلف کالجس کے سیلف فینانسنگ کورسس کو حکومت نے اپنی راست نگرانی میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم سے احکامات کی اجرائی باقی ہے ۔ تمام مسابقتی امتحانات اور تقررات سے متعلق امتحانات کے اردو میں انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ اس سلسلہ میں جی اے ڈی سے احکامات کی اجرائی عمل میں آنی باقی ہے۔ ریاست بھر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم کرتے ہوئے اسمبلی اور کونسل میں بل منظور کیا گیا۔ اس کے علاوہ اردو اکیڈیمی کے ذریعہ 66 اردو مترجمین کے تقررات کے طریقہ کار کو قطعیت دی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT